The news is by your side.

Advertisement

”آئین توڑنا سرپرائز نہیں غداری ہے“

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ آئین توڑا سرپرائز نہیں غداری ہے، آئین شکنی کوئی مذاق نہیں ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ”بی بی سی“ کو انٹرویو دیتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی میں ڈپلومیٹک کیبل کو ڈسکس کیا گیا، اعلامیے میں غیر ملکی سازش کا کوئی ذکر نہیں، میٹنگ میں شامل دوسرے لوگ اپنا مؤقف بیان کریں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ عمران خان کا ”کُو“ رکوائے، عزت کے ساتھ تحریک عدم اعتماد کا سلسلہ بحال کیا جائے، ہم صاف و شفاف الیکشن کے لیے تیار ہیں۔

مزید پڑھیں: “عدلیہ کے فیصلے سے ملک کی قسمت لکھی جائے گی“

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ عمران کو جمہوری طریقے سے گھر بھیجنا چاہتے ہیں، عمران خان نے قومی سلامتی کمیٹی کو اپنی سیاست کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جو افسوسناک ہے، کیا قومی سلامتی کے اجلاس میں 197 اراکین کو غدار قرار دیا گیا؟

ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے اجلاس میں زیر بحث آنے والے دھمکی آمیز خط کے معاملے میں حقیقت کیا ہے، یہ معاملہ ناصرف عوام بلکہ عدلیہ کے سامنے واضح ہونا بہت ہی ضروری ہے، عمران خان کی حکومت کے نتیجے میں ملک میں ایک معاشی بحران پیدا ہوا، ہر پاکستانی بیروزگاری، غربت اور مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ تین اپریل کو جو اقدام وزیر اعظم نے کیا ہے وہ ایک غیر آئینی طریقے سے کی جانے والی بغاوت ہے تاکہ وہ تین چار دن کے لیے مزید وزیر اعظم رہ سکیں۔

خیال رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیر اعظم عمران خان کی تجویز پر قومی اسمبلی تحلیل کر دی ہے جب کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کو بیرونی سازش قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

تحریک عدم اعتماد مسترد ہونے کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ میں تحریک عدم اعتماد مسترد ہونے پر قوم کو مبارک باد دیتا ہوں، میرے خلاف تحریک عدم اعتماد غیر ملکی ایجنڈا تھا، لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں گھبرانا نہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں