The news is by your side.

Advertisement

بلاول بھٹو کا ای وی ایم کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے پیش کئے جانے والے بلز کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ حکومت آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے، ہم اسے چیلنج کرینگے، حکومت کو بتارہاہوں ہم عدالت جائیں گے، ہم نے آئین بنایا اور آپ کا قانون اس کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی پر تنقید

اپنے خطاب میں بلاول بھٹو نے اسپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ زبان دیتےہیں تو اسد قیصربلکہ کسٹوڈین آف اسمبلی دے رہا ہے، جس طریقےاندازسے سیشن چلائےجارہےہیں وہ انڈرمائن کرتےہیں، پہلی بار اتفاق رائےنہیں، یہ اکثریتی ووٹ سےفیصلےمسلط کرناچاہتےہیں، جناب اسپیکر آپ کہتے ہیں اعتراضات ممبرز تک پہنچائے مجھ تک وہ نہیں پہنچے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پورا ملک مشکل میں ہے سب پارلیمان کی طرف دیکھ رہےہیں، عوام سیاستدانوں کی طرف دیکھ رہےہیں، پی ٹی آئی مہنگائی، غربت کاحل نکالنےکےبجائےای وی ایم لارہی ہے، یہ پاکستان کے عوام کےجیب اورپیٹ پر ڈاکاہے،ہم آپ کو اس قسم کا ظلم نہیں کرنےدیں گے اسپیکرصاحب آپ اپنےعہدےکی عزت نہیں کرینگےتوکون کرےگا۔

بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپوزیشن اور عوام کو دھوکادےرہی ہے، اس جرم میں آپ کے عہدےاور دفتر کو استعمال نہیں ہوناچاہئے، یکطرفہ الیکشن ریفارمزکرنےکی کوشش کی تاریخ نہیں ملتی، حکومت پہلےازخودآرڈیننس کے ذریعےریفارمزکرنےکی کوشش کرے، آج وہی بلڈوزکرکےالیکٹورل ریفارمززبردستی پاس کراناچاہتےہیں۔

الیکشن کمیشن کی حمایت کا اعلان

پارلیمنٹ سے خطاب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ اپوزیشن اور الیکشن کمیشن کے اعتراضات نہیں مانتے توہم آج سے ہی اگلا الیکشن نہیں مانتے، اگر ہم سب ملکرقانون سازی کرتےتواگلاالیکشن متنازع نہ ہوتا، مگر آپ زبردستی الیکٹرانک ووٹنگ مشین پاس کرارہےہیں، یہ الیکشن کمیشن اعتراضات کےباوجودکالاقانون پاس کررہےہیں، ہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کیساتھ شانہ بشانہ کھڑےہیں، اپنی زبان کا احترام کریں بیٹھ کر مشترکہ بل پیش کرتے ہیں،ایسا بل پیش کرتے ہیں جو میں بھی مانو ،شہبازشریف اور آپ بھی مانیں۔

کلبھوشن یادیو کا تذکرہ

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ کلبھوشن یادیو کو ریلیف دینے پر آپ کا ساتھ نہیں دیں گے۔ آپ پاکستان کی پارلیمان کی توہین کر رہے ہیں، اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے ماتحت دینا چاہتے ہیں، نئی قانون سازی کے تحت اسٹیٹ بینک پارلیمان کو جوابدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی سپریم کورٹ اس سے پوچھ سکے گا۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ حکومت کی قانون سازی کو چیلنج کریں گے اور ایسے ہونے والی قانون سازی کو عدالت میں شکست دیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں