The news is by your side.

Advertisement

سنتھیا رچی کے پی پی قیادت پر سنگین الزامات، بلاول بھٹو نے چپ سادھ لی

کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے امریکی بلاگر سنتھیا رچی کی جانب سے اعلیٰ قیادت پر عائد کیے جانے والے الزامات پر خاموشی اختیار کرلی۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک گھنٹہ طویل پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کرونا وائرس، ملک کی موجودہ معاشی صورت حال، ٹڈی دل حملے سمیت دیگر امور پر گفتگو کی۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پریس کانفرنس میں وفاقی حکومت کو کرونا پھیلنے کا قصور وار قرار دیا اور کہا کہ وفاقی حکومت نے خود کوئی کام نہیں کیا بلکہ سندھ حکومت کے کام کو سبو تاژ کیا۔

مزید پڑھیں: امریکی بلاگر سنتھیا رچی کو عدالت نے طلب کرلیا

پریس کانفرنس کے بعد معمول کے مطابق صحافیوں کو پی پی چیئرمین سے سوالات پوچھنا تھے، دو سے تین صحافیوں نے سوالات پوچھے تو صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے پریس کانفرنس ختم کرنے کا اعلان کردیا جس کے بعد صحافی اٹھ کر چلے گئے۔

جن صحافیوں نے سوالات پوچھے انہوں نے سنتھیا کا معاملہ نہیں اٹھایا ، بعد ازاں میڈیا نمائندگان نے بلاول بھٹو زرداری اور ناصر حسین شاہ سے سوالات کرنے کی اجازت نہ ملنے کا شکوہ کیا، جس پر پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے مسکرا کر کہا کہ اگلی بار سوال کا موقع ضرور دیں گے۔

اگر صحافیوں کو موقع دیا جاتا تو وہ بلاول بھٹو زرداری سے سنتھیا کی جانب سے عائد کیے جانے والے  الزامات سے متعلق ضرور سوالات کرتے۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل پاکستان میں مقیم امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی نے سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پی پی رہنما مخدوم شہاب الدین پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ رحمان نے 2011 میں اس وقت زیادتی کی جب وہ وزیر داخلہ تھے۔

سنتھیا رچی نے الزام عائد کیا تھا کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایوان صدر میں دست درازی کی جبکہ سابق وزیر صحت مخدوم شہباب الدین پر بھی بدسلوکی کا الزام عائد کیا۔

مزید پڑھیں : امریکی خاتون کے رحمان ملک سمیت پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت پر سنگین الزامات

بعد ازاں امریکی خاتون شہری کے الزامات پر یوسف رضا گیلانی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ سنتھیا رچی نے عالمی رہنما بینظیر بھٹو پر بھی الزامات لگائے تھے جس پر پیپلزپارٹی کی جانب سے سخت ردعمل دیا گیا تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں