The news is by your side.

Advertisement

آئین کو کاغذوں کا پلندہ قرار دینے والی سوچ چاہتی ہے پاکستان افراتفری کا شکار رہے: بلاول

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آئین کو کاغذوں کا پلندہ قرار دینے والی سوچ چاہتی ہے پاکستان افراتفری کا شکار رہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو نے اٹھارویں ترمیم کے 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر خصوصی پیغام جاری کیا، انھوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری ایک تاریخ ساز کارنامہ تھا۔

پیغام میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد کوئی بھی آئین شکن اپنی مرضی کا نقاب نہیں لگا سکتا، پاکستان کے عوام دستور کی پاسداری اور جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا آئین کو کاغذوں کا پلندہ قرار دینے والی سوچ چاہتی ہے پاکستان افراتفری کا شکار رہے، تاکہ اس سوچ کے پیروکار افراتفری کے دوران اپنے مفادات سمیٹتے رہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا پیپلز پارٹی اٹھارویں ترمیم پر مکمل عمل درآمد کے لیے سرگرم عمل ہے، اور حتمی فتح عوام ہی کی ہوگی۔

’18 ویں ترمیم تاریخ پاکستان کا روشن باب ہے’

اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 19 اپریل 2010 کو اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے ایگزیکٹو اختیارات پارلیمان کو دیے، اور دور آمریت کی تقریباً تمام ترامیم اور بدنام زمانہ 58(2) بی کا مکمل خاتمہ کر دیا، پختونوں کے دیرینہ مطالبے پر صوبہ سرحد کا نام خیبر پختون خوا رکھا گیا اور تمام صوبوں کو مالیاتی خود مختاری دی گئی۔

راجا پرویز اشرف نے کہا یادگار ترمیم کے نتیجے میں مارشل لا کا راستہ آئینی طور پر بند کر دیا گیا اور ایمرجنسی لگانے کا اختیار صدر اور گورنر سے لے کر اسمبلی کو دے دیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں