The news is by your side.

Advertisement

پیپلزپارٹی کی ریلی میں ہنگامہ آرائی، بلاول بھٹو کو شوکاز نوٹس جاری

کراچی: ڈپٹی کمشنرساؤتھ نے لیاری میں پاکستان پیپلزپارٹی کی ریلی میں ہنگامہ آرائی پر بلاول بھٹو کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے اور کہا کہ دوبارہ ایساواقعہ پیش آیا تو ڈی آر او امیدوار پر جرمانہ عائد کرسکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے لیاری میں پاکستان پیپلزپارٹی کی ریلی میں ہنگامہ آرائی پر ڈپٹی کمشنر ساؤتھ نے پی پی چیئرمین بلاول بھٹو کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔

شوکاز نوٹس کے مطابق بلاول بھٹو نے جنرل الیکشن2018 کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی،شوکاز ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کی رپورٹ پر جاری کیا گیا،ایس ایس پی سٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پی پی نے ریلی بغیر این اوسی کے نکالی، پیشگی اطلاع نہ دینے سے انتظامیہ نے سیکیورٹی انتظامات نہیں کئے تھے۔

نوٹس میں کہا گیا کہ الیکشن قوانین کے مطابق 3روز قبل اجازت لینا ضروری ہے، لیاری کے مکینوں اور ریلی میں شامل افراد میں ہنگامہ آرائی ہوئی، الیکشن کمیشن کی ٹیم نے لیاری میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کو مانیٹر کیا۔

شوکاز نوٹس کے مطابق واقعے کا ذمےدار این اے 246 سے امیدوار بلاول بھٹو کو ٹھہرایا گیا اور کہا گیا 5 جولائی تک شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرایا جائے، دوبارہ ایسا واقعہ پیش آیا تو ڈی آر او امیدوار پر جرمانہ عائد کرسکتے ہیں۔


مزید پڑھیں : لیاری میں بلاول بھٹو کے قافلے پر پتھراؤ، مظاہرین نے پیپلز پارٹی کا جھنڈا جلا دیا


یاد رہے 2 روز قبل شہر قائد کے قدیم علاقے لیاری میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے قافلے پر علاقہ مکینوں نے شدید پتھراؤ کرکے گاڑی کے شیشے توڑ دیے تھے جبکہ مشتعل مظاہرین نے پی پی کا جھنڈا بھی نذرِ آتش کردیا تھا۔

جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی، مکینوں کے پتھراؤ کے جواب میں جیالوں نے بھی جوابی پتھراؤ شروع کردیا تھا اور علاقہ میدان جنگ بن گیا تھا۔

دریں اثنا پیپلز پارٹی کی سینئر خاتون رہنما شیری رحمان نے قافلے پر پتھراؤ اور عوامی احتجاج پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلاول بھٹو آگے بڑھ رہے ہیں اور بڑھتے جائیں گے، لیاری کو یرغمال نہیں بننے دیں گے، 25 سے 30 لوگوں کو جمع کر کے قافلہ روکنے کی کوشش کی گئی، لیاری کے لوگوں کو استعمال کیا گیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں