The news is by your side.

بلقیس بانو کیس: مجرموں کی جلد رہائی پر بھارت میں ہزاروں آوازیں اٹھ گئیں

گجرات: بھارت میں بلقیس بانو کیس میں مجرموں کی جلد رہائی کے خلاف ہزاروں آوازیں اٹھ گئی ہیں، نامور شخصیات سمیت ہزاروں افراد نے سپریم کورٹ سے مجرموں کی رہائی کی منسوخی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بلقیس بانو کیس میں 6000 کارکنان، مؤرخین و دیگر نے سپریم کورٹ سے مجرموں کی رہائی منسوخ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں، تاریخ دانوں اور بیوروکریٹس سمیت دیگر نامور شخصیات نے ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں سپریم کورٹ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بلقیس بانو کیس کے مجرموں کی جلد رہائی کو منسوخ کرے۔

انھوں نے جلد معافی کو ’انصاف کا سنگین اسقاط‘ قرار دیا، پٹیشن پر دستخط کرنے والے 6000 سے زائد افراد میں عام شہری، نچلی سطح کے کارکن، انسانی حقوق کے کارکن، نامور مصنفین، تاریخ دان، اسکالرز، فلم ساز، صحافی اور سابق بیوروکریٹس شامل ہیں۔

بلقیس بانو کون ہے اور 2002 میں اس پر کیا قیامت گزری؟ لرزہ خیز داستان

نامور گروپس بشمول سہیلی ویمن ریسورس سینٹر، گمنا مہیلا سموہ، بیباک کلیکٹو، آل انڈیا پروگریسو ویمنز ایسوسی ایشن بھی دستخط کنندگان کا حصہ ہیں۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا: ’’یہ ہمیں شرمسار کرتا ہے کہ جس دن ہمیں اپنی آزادی کا جشن منانا چاہیے، بھارت کی خواتین نے اس کی بجائے گینگ ریپ کرنے والوں اور اجتماعی قاتلوں کو ریاستی کارروائی کے طور پر آزاد ہوتے دیکھا۔‘‘

بھارت: بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری کیس کے سبھی مجرم جیل سے رہا

یاد رہے کہ گودھرا بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری کیس میں 2002 میں عمر قید کی سزا پانے والے تمام 11 مجرم 15 اگست کو گودھرا سب جیل سے رہا کیے گئے ہیں، یہ رہائی اس وقت عمل میں آئی جب گجرات حکومت نے اپنی معافی کی پالیسی کے تحت ان کی رہائی کی اجازت دی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں