The news is by your side.

Advertisement

تعلیمی اداروں میں عربی زبان کی لازمی تعلیم کا بل منظور

اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں تعلیمی اداروں میں عربی زبان کی لازمی تعلیم کا بل منظور کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق آج سینیٹ میں عربی زبان لازمی پڑھانے کا بل 2021 منظوری کے لیے پیش کیا گیا، یہ بل مسلم لیگ ن کے سینیٹر جاوید عباسی نے پیش کیا۔

بل میں کہا گیا ہے کہ پہلی سے پانچویں جماعت تک عربی پڑھائی جائے، اور چھٹی سےگیارہویں جماعت تک عربی گرامر پڑھائی جائے۔

حکومتی ارکان نے بھی تعلیمی اداروں میں عربی لازمی تعلیم کے بل کی حمایت کر دی، وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا اچھا مسلمان بننے کے لیے عربی سیکھنا ضروری ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضاربانی کی جانب سے بل پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، انھوں نے کہا ہم سب مسلمان ہیں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں، ریاست پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ متنوع ثقافتوں کو ختم کیا جائے، لیکن تاریخ اور کلچر مصنوعی طریقے سے ختم نہیں کی جا سکتیں، یہ بل علاقائی زبانوں کو متاثر کرتا ہے۔

وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا میں رضا ربانی کی رائے کی مخالفت کرتا ہوں، اللہ کا پیغام سمجھنے کے لیے عربی کو سمجھنا ضروری ہے، یہ تو دیکھیں کہ آئین کیا کہتا ہے، آرٹیکل 31 کہتا ہے کہ زندگیاں قران و سنت کے مطابق گزارنے کے لیے اقدامات کریں۔

دریں اثنا، سینیٹر جاوید عباسی نے سول سرونٹ ترمیمی بل 2021، سروس ٹربیونل ترمیمی بل 2021 اور اطفال لیبر معاہدہ ترمیمی بل 2021 بھی سینیٹ میں پیش کیے، تینوں بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیے گئے۔

سینیٹ میں حکومتی وزرا اور اپوزیشن اراکین میں دل چسپ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، علی محمد خان نے کہا لگتا ہے جاوید عباسی کسی کے کہنے پر بل لے کر آئے ہیں، جاوید عباسی نے جواب دیا کسی کے کہنے پر بل لے کر نہیں آیا، کسی اور کے کہنے پر آتا تو ایسے نہ آتا۔ وزیر ریلوے اعظم سواتی نے اس پر تبصرہ کیا لگتا ہے جاوید عباسی گھر سے ناراض ہو کر آئے ہیں۔ علی محمد خان نے کہا لیگی بھائی انگریزی بعد میں سمجھتے ہیں جب مٹھائی کھا چکے ہوتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں