site
stats
حیرت انگیز

دولت مند افراد ایک جیسا لباس کیوں پہنتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں امیر اور کامیاب لوگ ایک جیسے کپڑے کیوں پہنتے ہیں؟

چلیئے کچھ عرصہ پیچھے چلتے ہیں۔ فیس بک کے بانی مارک زکر برگ اپنے گھر بیٹی کی پیدائش کے باعث ’پیٹرنٹی لیو‘ پر تھے۔ اس سے قبل یہ چھٹیاں صرف ماؤں کو ہی دی جاتی تھیں لیکن پھر لوگوں کو احساس ہوا کہ ایک باپ کو بھی اپنے نومولود بچے کے پاس وقت گزارنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا ماں کو، چنانچہ اس مقصد کے لیے آفسز میں ’پیٹرنل لیو‘ کا قانون متعارف کروایا گیا اور مارک زکر برگ نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

دو ماہ کی چھٹیوں کے بعد جب مارک کو آفس جانا تھا تو اس سے ایک دن قبل انہوں نے اپنی ایک تصویر فیس بک پر شیئر کی جس میں وہ اگلے دن پہنے جانے والے لباس کے لیے پریشان تھے۔

مگر دیکھنے والے حیران رہ گئے کہ الماری میں ان کے پاس صرف دو ہی رنگوں کی کئی ٹی شرٹس تھیں۔ اور وہ دو رنگ بھی ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے۔

ایسا ہی کچھ معامہ ایپل کے بانی آنجہانی اسٹیو جابز کے ساتھ تھا۔ انہیں کئی عوامی اجتماعات میں کم و بیش ایک ہی سیاہ شرٹ میں دیکھا گیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے دنیا کے یہ 2 کامیاب اور دولت مند ترین انسان اس معاملے میں اتنی ’غربت‘ کا مظاہرہ کیوں کرتے ہیں؟

jobs

اس کے پیچھے وہ وجہ ہے جس کے باعث یہ لوگ آج اتنے کامیاب اور دولت مند ہیں۔

کامیاب اور دولت مند افراد عموماً اپنے اوپر سوچ و بچار کرنے میں کم وقت خرچ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سادگی پسند ہوتے ہیں۔

ان کی نظر بڑے مقاصد پر ہوتی ہے لہٰذا وہ اس سوچ میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے کہ ’آج کیا پہنا جائے‘۔

mark

اس سے انہیں کئی فائدے ہوتے ہیں جو آپ بھی جانیئے۔

اس عادت سے ان کا وقت بچتا ہے۔ وہ بے مقصد شاپنگ مالز میں گھومنے، شاپنگ کرنے، اور نت نئے لباسوں پر ضائع کیے جانے والے وقت کو نئی تخلیقات  ایجاد کرنے میں صرف کرتے ہیں۔

اس سے انہیں ذہنی دباؤ سے نجات ملتی ہے۔ وہ اس بات سے بالکل آزاد ہوجاتے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں کیا سوچیں گے۔

ان کی توانائی دیگر بامقصد کاموں میں خرچ ہوتی ہے۔

وہ کبھی بھی برا لباس نہیں پہنتے کیونکہ ایک بار جو لباس ان پر سوٹ کرے وہ اسی کو اپنا ’ٹریڈ مارک‘ بنا لیتے ہیں۔

اور یہی نہیں، ایک جیسے کپڑے پہننے سے وہ نئے فیشن کو اپنانے کے لیے بے جا پیسہ خرچ کرنے سے بھی بچ جاتے ہیں۔

آپ کا اس آئیڈیے کو اپنانے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top