بدھ, جنوری 14, 2026
اشتہار

بلقیس بانو نے مجرموں کی رہائی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

اشتہار

حیرت انگیز

انڈیا کی ریاست گجرات میں 20 برس قبل ہونے والے فسادات کے دوران زیادتی کی شکار خاتون بلقیس بانو نے اپنے مجرموں کی رہائی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بلقیس بانو نے سپریم کورٹ میں دائر پٹیشن میں موقف اختیار کیا ہے کہ گجرات کو نہیں بلکہ مہاراشٹر کو گینگ ریپ کیس میں 11 سزا یافتہ افراد کی رہائی کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے اس حکم کو بھی چیلنج کیا ہے جس کے تحت گجرات کی حکومت کو 1992 کے معافی کی پالیسی پر عملدرآمد کی اجازت دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ 2008 میں بلقیس بانو کیس میں ملوث افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی تاہم رواں سال 16 اگست کو ان مجرموں کو گجرات کی حکومت نے معافی کی پالیسی کے تحت رہا کردیا تھا،

بلقیس بانو کی عمر 21 برس تھی جب ان کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی تین برس کی بیٹی سمیت ان کے خاندان کے نو افراد کو قتل کر دیا تھا۔

گجرات کی حکومت نے معافی کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ سزا پانے والے افراد نے 14 برس جیل میں گزار دیے ہیں اور اس دوران ان کا برتاؤ اور رویہ مناسب تھا۔

بلقیس بانو کیس میں سزا پانے والے افراد کی رہائی کے فیصلے پر ملک بھر میں نہ صرف تنقید کی گئی تھی بلکہ خواتین کے حقوق کے کارکنوں نے احتجاج بھی کیا تھا۔

اگست میں ملزمان کی رہائی کے بعد بلقیس بانو نے کہا تھا کہ ان کا چین برباد ہوگیا ہے اور قانون پر ان کا اعتماد متزلزل ہو گیا ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں