site
stats
لائف اسٹائل

دوہرے پہلوؤں کی ترجمانی کرتے فن پارے

کائنات میں ہر شے کی دو انتہائیں ہیں۔ انہیں ہم دو رخ، دو پہلو یا دو سرحدیں بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن ان دونوں سرحدوں، انتہاؤں، پہلوؤں اور رخوں کے درمیان بھی کوئی نہ کوئی شے موجود ہے جو اپنے اندر پوری کائنات رکھتی ہے۔ اسی خیال کو آرٹسٹ عدیل الظفر نے اپنی تخلیقات میں بہترین انداز سے پیش کیا۔

کراچی کی مقامی آرٹ گیلری میں معروف آرٹسٹ عدیل الظفر کے فن پاروں کی نمائش کی گئی۔

cat-post-5

cat-post-7

عدیل نے اپنے فن پاروں میں دہرے پہلوؤں اور احساسات کی ترجمانی کی ہے۔ ان کا تخلیق کردہ آرٹ موجود اور عدم موجود، سچ اور طاقت، تاریخ اور عصر حاضر اور ظاہری جنس اور اندرونی پہچان کی ترجمانی کرتا ہے۔

cat-post-2

cat-post-1

عدیل کے مطابق ان متضاد چیزوں کی سرحد پر ایک نئی شے تخلیق ہوتی ہے۔ یہ شے اپنی خالق دونوں چیزوں کا آپس میں تعلق جوڑتی ہے لیکن بہرحال وہ ایک الگ اور تیسری شے ہے اور اس کی اپنی پہچان ہے۔

جس طرح سیاہ اور سفید کے درمیان سرمئی رنگ یا جیومیٹری میں ’اے‘ اور ’بی‘ نامی زاویوں کے درمیان ایک نیا زاویہ، جو نہ اے ہوتا ہے نہ بی، لیکن وہ ’اے بی‘ کہلاتا ہے۔

یہیں پر دیکھنے والا سوچنے اور ان میں چھپے ہوئے پیغام کو سمجھنے پر مجبور ہوتا ہے۔

عدیل نے اس پہلو پر بھی توجہ دلانے کی کوشش کی ہے کہ جب دو متضاد پہلو یکساں رفتار سے چل رہے ہوں، تو ان میں سے طاقتور اور حاوی پہلو کون سا ہے۔ جو پہلو یا یا جو رخ طاقتور ہوگا وہی مثبت یا منفی اثرات پیدا کرنے کا تعین کرے گا، اور یہی کائنات کی حقیقت ہے جو روز اول سے موجود ہے۔

cat-new

اس فن پارے میں عدیل نے ایک کھلونے کو پٹیوں سے ڈھکا ہوا دکھا کر اس معصومیت کی طرف اشارہ کیا ہے جو چھن جائے یا عمر کے ساتھ ختم ہوجائے۔

یہ معصومیت تا عمر کہیں ظاہر اور کہیں چھپی ہوئی ملتی ہے۔ پٹیوں سے ڈھکا ہونا اس کھلونے کی تخلیق سے اس کی تباہی تک کے سفر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔

cat-post-3

یہ ماسک انسان کے دو چہروں کی طرف اشارہ ہیں کہ ماسک پر الگ تاثرات ہیں، اس کے اندر چھپے چہرے کے تاثرات مختلف ہوسکتے ہیں۔

عدیل الظفر اس سے قبل بھی پاکستان اور بیرون ملک اپنے فن پاروں کی نمائش کر چکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top