The news is by your side.

Advertisement

کورونا وائرس: حیاتیاتی دہشت گردی کیا ہوتی ہے؟

آپ “بائیو ٹیررازم” کی اصطلاح سے واقف ہیں؟

وائرس، بیکٹیریا اور مختلف قسم کے مضر اور مہلک مادّوں کو حیوانات، نباتات اور انسانوں کو بیمار اور مفلوج کردینے کے لیے استعمال کرنا مذکورہ اصطلاح میں داخل ہے۔

دنیا بھر میں مختلف وائرس اور بیکٹیریا سے بخار اور اموات کے بعد یہ بحث بھی سامنے آرہی ہے کہ کیا انسان ہی مضرِ صحت اور مہلک جراثیم کو دنیا بھر میں پھیلا کر کرہ ارض کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اس کی ایک مثال ملیریا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مچھروں پر تجربات کر کے انھیں مہلک اور مضرِ صحت بنانے کے بعد دشمن کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔ اسی طرح فصلوں کو بھی تباہی اور بربادی سے دوچار کیا جاتا ہے۔

ایسا دورانِ جنگ یا کسی خاص مقصد کے حصول کے لیے کیا جاسکتا ہے۔

اس حیاتیاتی دہشت گردی کی نشان دہی کرنے یا اس کی طرف توجہ دینے کا مطالبہ کرنے والے تاریخ سے اس کی مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ افواج نے مخالفین کو زیر کرنے کے لیے پینے کے پانی میں زہر یا ایسے جراثیم ملائے جو ان کو پیٹ کی بیماری میں مبتلا کردیتے اور یہ بہت ہی سادہ اور عام طریقہ تھا۔

اکثر جنگوں کے دوران دریا، نہروں اور تالابوں کے پانی میں جانوروں کا فضلا اور دوسری آلائشیں پھینک دی جاتی تھیں اور یوں آلودہ پانی مہلک ثابت ہوتا، لیکن موجودہ دور میں سائنسی ترقی نے اس کے نت نئے طریقے ایجاد کرلیے ہیں۔

کہتے ہیں بیسویں صدی میں جرمنی نے تجربہ گاہ میں مہلک جراثیم کی افزائش کے بعد مخالف فوجوں کے زیرِ استعمال جانوروں کو اس سے متاثر کیا تھا۔

گذشتہ ماہ چین میں سامنے آنے والا کورونا وائرس اس وقت دنیا کے 20 سے زائد ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ خدشہ ہے کہ یہ اس سے کہیں زیادہ پھیل سکتا ہے اور ایک بڑی تعداد اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔

کورونا وائرس کے حملے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث چلی ہے کہ کیا اس طرح چین کو نشانہ بنایا گیا ہے؟ اس وائرس کے بعد چین میں زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور اس کی معاشی و اقتصادی سرگرمیاں ماند پڑگئی ہیں، کئی ممالک نے چین سے تجارت اور آمدورفت کا سلسلہ روک دیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی بات نہیں کہی جاسکتی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں