The news is by your side.

Advertisement

بپن راوت کی بطور چیف آف ڈیفنس اسٹاف تقرری، کانگریس سیخ پا

نئی دہلی: بھارتی آرمی چیف بپن راوت کی بطور چیف آف ڈیفنس اسٹاف تقرری پر وزیراعظم نریندر مودی تنقید کی زد میں آگئے، ہر حلقوں سے سنگین نتائج کی پیش گوئیاں کی جانے لگیں۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے بھی مودی حکومت کے آرمی چیف سے متعلق اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کا یہ اقدام انتہائی غلط ہے، وقت اس فیصلے کے اثرات ظاہر کرے گا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی آرمی چیف نے شہریت کے متنازع قانون پر مودی حکومت کے فیصلے کی حمایت کی تھی، بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اسی لیے بپن راوت کو اس عہدے سے نوازا گیا۔

ردعمل میں کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے آرمی چیف کے بیان کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا، ”آپ آرمی کے سربراہ ہیں، آپ کو اپنے کام سے مطلب رکھنا چاہیے، مسلح افواج کا یہ کام نہیں کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت کرے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں سیاست نہ سمجھائیں جس طرح ہمارا کام نہیں کہ ہم آپ کو بتائیں کہ جنگ کیسے لڑنی ہے۔

بھارت نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کر دی

متنازع قانون پر اپنے متنازع بیان کی وجہ سے بھارتی آرمی چیف کو گزشتہ دنوں متعدد سیاسی جماعتوں کی تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔ کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ان کے بیان کو سیاسی امور میں فوج کی مداخلت سے تعبیر کیا تھا۔

خیال رہے کہ مودی سرکار نے بھارتی آرمی چیف بپن راوت کو چیف آف ڈیفنس اسٹاف بنانے کے لیے سروس رول میں تبدیلی کردی، بپن راوت بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف ہوں گے، جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں