The news is by your side.

Advertisement

ینظیرانکم سپورٹ پروگرام سے رقم بٹورنے والے چار افسران برطرف

اسلام آباد : بینظیرانکم سپورٹ پروگرام سے رقم بٹورنے والے چارافسران کو برطرف کردیا گیااورافسران سے 4 لاکھ 40 ہزار روپے بھی وصول کرلئے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھانے افسران کے خلاف پہلی کارروائی کرتے ہوئے گریڈ 17 کے 4افسران کو نوکری سے برطرف کردیا گیا ، چاروں افسران بیگمات کے نام پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سےپیسے لیتے رہے۔

چاروں افسران کے نوکری سے برطرفی کے نوٹیفکیشن جاری کردیئے گئے ہیں، چاروں افسران سے چار لاکھ 40 ہزار 196 روپے بھی وصول کرلئے گئے ہیں۔

گذشتہ روز بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سرکاری افسران کے فراڈ کے معاملے پر حکومت نے ملوث سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ملوث سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرفی کے لیے شوکاز نوٹسز جاری کردیے تھے۔

مذکورہ افسران کی جانب سے پروگرام میں اپنی بیگمات کو انرول کروانے پر جواب طلب کرلیا گیا تھا اور انہیں 10 روز کی مہلت دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں : بے نظیر انکم سپورٹ سے فائدہ اٹھانے والے سرکاری افسران کے سر پر برطرفی کی تلوار لٹکنے لگی

خیال رہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں میں اعلیٰ سرکاری افسران کے شامل ہونے کا انکشاف ہوا تھا، رپورٹ کے مطابق گریڈ 17 سے 21 کے 2 ہزار 543 سرکاری افسران میں سے متعدد نے بیویوں کے نام پر پیسے وصول کیے، بلوچستان میں سب سے زیادہ سرکاری افسران پروگرام سے مستفید ہوئے۔

سندھ میں گریڈ 18 کے 342 افسران نے پروگرام سے فائدہ اٹھایا جبکہ سندھ سے گریڈ 21 کے 3 افسران بھی شامل تھے۔

بعد ازاں پروگرام میں کرپشن کی تحقیقات کے لیے نیب سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جوڈیشل ایکٹو ازم پینل نے چیئرمین نیب، ڈی جی، صدر مملکت عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھا تھا

خط میں کہا گیا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کرپشن منظرعام پر آچکی ہے، غریب اور مستحق لوگوں کی رقم کرپٹ اور منظور نظر افراد کو دی گئی، نادرا کی حالیہ رپورٹ کے بعد معاملے میں ملوث افراد کی نشاندہی ضروری ہے اور استدعا کی گئی کہ چیئرمین نیب کرپٹ افراد کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا حکم دیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں