The news is by your side.

Advertisement

’ممتا بینرجی پر حملے میں بی جے پی ملوث ہے‘

کلکتہ: بھارتی ریاست بنگال کے وزیر نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعلیٰ ممتا بینرجی پر ہونے والے حملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی ملوث ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ریاستی وزیر فرہاد حکیم نے دعویٰ کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن نے ہمیں دس تاریخ تک انتظار کا کہا تھا اور اٰسی روز حملہ ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک روز قبل ہمارے رکن پارلیمنٹ سوگت رائے کی قیادت میں اراکین انتخابی نتائج کی تحقیقات کا مطالبہ لے کر الیکشن آفس پہنچے تو اسی دوران بی جے پی رکن نے انہیں روک کر مخاطب کیا۔ ’بی جے پی رکن نے کہا کہ آپ دس تاریخ کا انتظار کریں اور پھر خود ہی دیکھیے گا‘۔

فرہاد حکیم نے کہا کہ بی جے پی کے رکن اسمبلی نے ہمیں حملے کا اشارہ دیا تھا، قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کریں اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں۔

قبل ازیں کلکتہ پہنچنے کے بعد ممتا بینرجی نے اہم پیغام جاری کیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’میں کچھ دن کے بعد ٹھیک ہوکر آجاؤں گی اور وہیل چیئر پر انتخابی مہم چلاؤں گی‘۔

مزید پڑھیں: بھارت، خاتون وزیراعلیٰ پر حملہ، تشویشناک خبر آگئی

اُن کا کہنا تھا کہ ’حملے کے نتیجے میں مجھے شدید چوٹیں آئیں، جس کی وجہ سے ہاتھ، پیر میں کافی درد ہے مگر مجھے یقین ہے کہ کچھ دن میں ڈاکٹرز چلنے پھرنے کی اجازت دے دیں گے جس کے بعد سیاسی امور انجام دوں گی، کارکنان پرامن رہیں اور نظم و ضبط کے ساتھ پارٹی کے کام کرتے رہیں‘۔

ممتا بینرجی نے دعویٰ کیا کہ اُن پر سیاسی مخالفین نے حملہ کیا مگر بی جے پی نے اسے سیاسی حمایت حاصل کرنے کا حربہ قرار دیا۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل خاتون وزیراعلیٰ پر اُس وقت حملہ کیا گیا جب وہ کاغذات نامزدگی جمع کرا کے واپس گاڑی میں بیٹھ رہی تھیں۔ ممتا بینرجی حملے کے نتیجے میں بے ہوش ہوگئیں تھیں جس کے بعد محافظ انہیں گاڑی میں اسپتال لے کر پہنچے تھے۔

کلکتہ کے ایس ایس کے ایم اسپتال کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ممتا بینرجی کی حالت پہلے سے بہتر ہے مگر پیر میں فریکچر کی وجہ سے انہیں ایک ہفتے آرام کی ضرورت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں