The news is by your side.

Advertisement

مودی کو پہلا دھچکا، خاتون رکن اسمبلی نے بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں‌ شمولیت اختیار کرلی

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیراعظم مودی کو اپنی ہی پالیسیاں گلے پڑنے لگیں جس کی وجہ سے اُن کی جماعت کے منتخب اراکین پارٹی چھوڑ کر جارہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات سے قبل وزیراعظم مودی نے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے  کشمیر میں مظالم کیے اور پلوامہ حملے کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے کر جارحانہ اقدامات بھی کیے۔

بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے مودی کی جنگی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف کامیاب کارروائی کا دعویٰ جھوٹا قرار دیتے ہوئے ثبوت بھی مانگے۔

مودی سرکار کی پالیسیاں اب اُن کی اپنی ہی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو نقصان پہنچانے لگیں اور کانگریس کی پوزیشن بظاہر مضبوط ہورہی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے والی خاتون ساوتری بائی نے اپنی پارٹی کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے نہ صرف بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیا بلکہ کانگریس جماعت میں شمولیت اختیار کرلی۔

خاتون رکن پارلیمنٹ نے نئی دہلی میں راہول گاندھی اور سونیا گاندھی سے ملاقات کی اور اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کانگریس میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان کیا۔

ساوتری بانو کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی پارٹی سے متعدد بار تحفظات کا اظہار کیا اور انہیں بتایا کہ جنگی جارحیت کی وجہ سے ملک کو نقصان ہوگا مگر میری بات پر کان نہیں دھے گئے۔ ساوتری نے اپنی سابقہ جماعت پر الزام عائد کیا کہ وہ بھارت میں معاشرے کو تقسیم کررہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے تحفظات بہت زیادہ بڑھ رہے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں