site
stats
اہم ترین

بلوچستان میں بی ایل اے کے اہم کارکن نے ہتھیار ڈال دیے

BLA

اسلام آباد: بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن کے نتیجے میں بی ایل اے کے کارکن عبدالرسول عرف استاد نے ساتھیوں سمیت ہتھیارڈال دیے ۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق خفیہ معلومات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن کے نتیجے میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے کارندے عبدالرسول عرف استاد نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہتھیار ڈال دیئے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والےاعلامیے کے مطابق کالعدم تنظیم کے یہ افراد بلوچستان کے علاقوں پسنی، کولانچ، دشت اور مند میں کارروائیوں میں ملوث تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ کالعدم تنظیم کے کارندے نے ساتھیوں سمیت گولہ بارود اوراسلحہ سیکیورٹی فورسز کےحوالے کردیا جبکہ ایسا مؤثر انٹیلی جنس اور کامیاب سیکیورٹی آپریشن کے سبب ممکن ہوسکا۔

آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بی ایل اے کے کارندے کے ہتھیار ڈالنے کے بعد بلوچستان کے علاقوں میں امن اور استحکام کی حالت میں بہتری آئے گی۔


 کالعدم تنظیموں کے 400فراریوں نے ہتھیارڈال دیئے


یاد رہے کہ اس سے قبل رواں سال اپریل میں بھی سیاسی مفاہمت کے طور پر بلوچستان کے 434 فراریوں نے وزیر اعلیٰ، کمانڈر سدرن کمانڈ اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔

ہتھیار ڈالنے والے فراریوں کا تعلق بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت مختلف کالعدم اورعلیحدگی پسند تنظیموں سے تھا جن میں 21 کمانڈر اور 16 سب کمانڈر بھی شامل تھے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں کوئٹہ میں منعقد کردہ ایک تقریب میں چار سو فراریوں نے ہتھیار ڈال دیئے  تھے، فراریوں نے بڑی تعداد میں اسلحہ بھی جمع کرایا، ہتھیار ڈالنے والوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے، فراریوں نے بلوچستان میں اسمبلی کے لان میں ہونے والی تقریب میں قومی دھارے میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

ہتھیار ڈالنے کی تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری موجود تھے، فراریوں نے ہتھیار ڈال کر پاکستان کا جھنڈا تھام لیا اور عہد کیا کہ ہر سو امن کا پیغام پہنچائیں گے


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top