The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ میں پاکستانیوں کو کورونا سے زیادہ خطرات

لندن : یونیورسٹی کالج آف لندن کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں کورونا سے پاکستانیوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے، اقلیتی کمیونٹیوں کے سماجی،معاشی مسائل شرح اموات میں زیادتی کا سبب ہیں۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں اقلیتوں سےمتعلق یونیورسٹی کالج آف لندن کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی گئی، جس میں بتایا گیا کہ برطانیہ میں کورونا سے اموات کا خطرہ سب سے زیادہ پاکستانیوں کو ہے، اقلیتی کمیونٹیوں کے افراد کا کورونا سے مرنے کا خدشہ 2سے 3گنا زیادہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نژاد برطانوی اور برطانوی سیاہ فام افریقیوں کی کورونا وائرس سے ہلاکت کی شرح سفید فام کی آبادی کے مقابلے میں 2.5 گنا زیادہ ہے، پاکستانی باشندوں میں کوروناسےموت کاخطرہ3.29گنازیادہ اور بنگلادیشی باشندوں میں کوروناسےاموات کا خطرہ2.41 گنازیادہ ہے جبکہ برطانیہ میں مقیم بھارتی باشندوں میں خطرے کی شرح 1.7گنا زیادہ ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ برطانیہ میں کوروناسےسب سےکم خطرہ مقامی سفید فام آبادی کو ہے، اقلیتی کمیونٹیوں کےسماجی،معاشی مسائل شرح اموات میں زیادتی کا سبب ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اقلیتی کمیونٹی میں کوروناسےسب سےزیادہ اموات بھارتیوں کی ہوئی ، برطانیہ میں کوروناسے492 بھارتی،460سیاہ فام ہلاک ہوچکے ہیں۔

یاد رہے انتہائی نگہداشت وارڈ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ برطانیہ میں کرونا وائرس سے شدید بیمار مریضوں کے ایک تہائی حصے کا تعلق اقلیتی گروپ سے ہے،ان مریضوں میں اکثریت ایشائی افراد کی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یکم اپریل تک انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل ہونے والے مریضوں میں 13.6 فیصد مریض ایشیائی تھے جب کہ اقلیتی گروپ سے تعلق رکھنے والے چھ فرنٹ لائن ڈاکٹرز کی موت سے کمیونٹییز میں تشویش لہر دوڑگئی ہے۔

اس حوالے سے پروفیسر وسیم حنیف نے کہا تھا کہ ہمیں ایشیائی مریضوں کے اعدادو شمار بارے میں مزید معلومات اکھٹی کرنے کی ضرورت ہے، ان مریضوں کی عمریں اور اُن میں پہلے سے موجود بیماریوں کا ڈیٹا اکھٹا کرنا چاہیے۔

خیال رہے پاکستانی کمیونٹی کی حالیہ ہلاکتوں میں 50 سالہ پلاسٹک سرجن ڈاکٹر فرقان علی صدیقی اور 36 سالہ این ایچ ایس نرس اریما نسرین شامل ہیں.

Comments

یہ بھی پڑھیں