The news is by your side.

Advertisement

نسلی امتیاز : امریکی کھلاڑیوں کو قومی ترانہ کے دوران احتجاج کی اجازت

واشنگٹن : امریکا میں فٹ بال کے کھلاڑیوں کو اس بات کی اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ قومی ترانہ کے دوران گھٹنے کے بل بیٹھ کر نسل پرستی کیخلاف احتجاج کرسکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں فٹ بال کے کھلاڑیوں پر قومی ترانے کے دوران نسل پرستی کے خلاف بطور احتجاج گُھٹنے کے بل بیٹھنے پر عائد پابندی کو ہٹا دیا گیا ہے۔

پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی موت کے بعد امریکہ سمیت دیگر ممالک میں سیاہ فام لوگوں کے مسلسل احتجاج کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ نے کھلاڑیوں پر سے قومی ترانہ کے دوران گھٹنے کے بل بیٹھ کر احتجاج کرنے کی اجازت دے دی۔

اس حوالے سے امریکی سوکر فیڈریشن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں کھیل سے متعلق اپنی پالیسی نمبر 604-1 میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔

اس پالیسی کے تحت میچ سے قبل قومی ترانے کے دوران کسی کھلاڑی کے احتجاجاً گھٹنے ٹیک کر احتجاج کرنے پر کھلاڑی پر پابندی عائد کردی جاتی تھی تاہم اب کھلاڑیوں کو اس عمل کی اجازت دے دی گئی ہے۔

امریکا میں گھٹنے کے بل بیٹھ کر نسلی امتیاز کے خلاف احتجاج پر پابندی 2016ء میں عائد کی گئی تھی جب خواتین کی اسٹار میگن ریپینو نے این ایف ایل کی سابقہ کھلاڑی کولن کیپرنک کے ساتھ یکجہتی کے لیے قومی ترانے کے دوران سیدھا کھڑے ہونے کے بجائے گھٹنے کے بل بیٹھ گئی تھیں لیکن اب امریکی سوکر فیڈریشن نے اپنے اس سابق فیصلے کو غلط قرار دے دیا۔

واضح رہے کہ امریکا میں ایک غیر مسلح سیاہ فام جارج فلائیڈ کو پولیس نے تحویل میں لیا اور ایک گورے پولیس آفیسر نے اس کی گردن پر  مسلسل آٹھ منٹ تکاپنا گھٹنا رکھ کر پورا زور لگا دیا تھا جس سے فلائیڈ دم گھٹنے کے باعث ہلاک ہوگیا۔

واقعے کے بعد ایک بھونچال پیدا ہوگیا اور  امریکا سمیت مختلف ممالک میں پُرتشدد ہنگامے پھوٹ پڑے جس پر قابو پانے کے لیے امریکا کی جانب سے ایسے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں