The news is by your side.

Advertisement

توہین رسالت کرنے پر نوپور شرما کو گرفتار کیا جائے، اسدالدین اویسی

حیدرآباد : نبی کریم ﷺکے بارے میں نامناسب تبصرے کے معاملے میں بی جے پی نے اپنی ترجمان نوپور شرما کو پارٹی سے معطل کر دیا ہے لیکن یہ معاملہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہو رہا ہے۔

اس حوالے سے بھارتی مسلمان رہنما اسدالدین اویسی نے مطالبہ کیا ہے کہ نوپور شرما کو ان کی اس گھٹیا حرکت پر فوری گرفتار کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب ملک کے مسلمانوں کی بات آتی ہے تو وزیر اعظم مودی ان کی بات نہیں سنتے لیکن باہر کے مسلمانوں کی بات سن لیتے ہیں، انہوں نے بی جے پی پر ملک کے مسلمانوں کی تذلیل کا الزام لگایا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اور صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین بیرسٹر اسدالدین اویسی نے نبی کریم کی شان میں گستاخی کرنے والی بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے،

بھارتی میڈیا کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز پارٹی ہیڈ کوارٹر دارالسلام میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر شدید نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر اسلامی ممالک نے ہندوستانی سفیروں کو طلب کرتے ہوئے احتجاج درج کروایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا میں بے عزت ہوگیا ہے، ملک کی خارجہ پالیسی برباد ہوگئی ہے، نوپور شرما کی معطلی کافی نہیں ہے بلکہ ان کو گرفتار کیا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ نوپور شرما کو پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی حمایت حاصل ہے، بی جے پی جان بوجھ کر اپنے ترجمانوں کو ٹی وی مباحث میں بھیجتی ہے تاکہ وہ اشتعال انگیز بیانات دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کویت، قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک نے شرما کے ان خیالات پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سخت بیانات جاری کئے ہیں۔ قطر اور کویت نے ہندوستانی سفرا کو طلب کرتے ہوئے احتجاجی نوٹ انہیں حوالے کئے ہیں۔

صدر مجلس نے گزشتہ روز اس مسئلہ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ہمارے ملک کی ایک سفارتی ناکامی ہے۔ اس کے لئے مودی حکومت کے عناصر ذمہ دار ہیں۔

بیرسٹر اویسی نے ایک اور ٹویٹ میں واضح کیا تھا کہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ گستاخی کرنے والے حاشیہ بردار اور گڑبڑ کرنے والے عناصر ہیں جبکہ ان کا تعلق راست پارٹی سے ہے اور وہ پارٹی کے ترجمان ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں