چارسدہ دھماکے: 7 افراد شہید،13زخمی، 3 خودکش حملہ آور ہلاک -
The news is by your side.

Advertisement

چارسدہ دھماکے: 7 افراد شہید،13زخمی، 3 خودکش حملہ آور ہلاک

چارسدہ : تنگی میں کچہری گیٹ کے قریب 2 دھماکوں اور فائرنگ میں 3 دہشت گرد ہلاک اور 7 افراد شہید ہوگئے، واقعے میں 13 افراد زخمی ہوگئے، پولیس کے تین جوانوں نے جان پر کھیل کر علاقے کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ خیبرپختونخواہ کے ضلع چارسدہ کے علاقے تنگی میں کچہری گیٹ کے قریب 2 دھماکے ہوئے ، جس کے نتیجے میں 3 دہشت گرد ہلاک اور 7 افراد جاں بحق ہوئے، دھماکے میں 13 افراد زخمی ہوگئے۔

دھماکے کے بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، زخمیوں میں سے متعدد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

kpk-post-1

ذرائع کے مطابق دھماکہ خود کش حملہ آور نے کیا، دو خود کش حملہ آور ضلع کچہری کے گیٹ پر آئے، جن میں سے ایک دہشت گرد کو سیکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا جبکہ دوسرے خود کش حملہ آور نے کچہری میں داخل ہو کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا ۔

دھماکوں کے بعد چارسدہ اور پشاور کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کچہری کے اندرسے فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ چارسدہ میں دھماکوں کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے علاقے کی نگرانی شروع کردی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق چارسدہ کے علاقے تنگی میں تین دہشتگردوں نے کچہری میں داخل ہونے کی کوشش کی، کچہری کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں نے حملہ آوروں کوتلاشی کیلئے روکا، تو حملہ آوروں نے فائرنگ کی اورگرنیڈ سے حملہ کردیا، پولیس اہلکاروں نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے تینوں خود کش حملہ آوروں کوکچہری میں داخل نہیں ہونے دیا۔

ڈپٹی کمشنر طاہرظفر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی الرٹ تھی اس لئے دہشت گرد اندر نہیں جاسکے۔

سرچ آپریشن کے بعد کچہری کو کلیئر کردیا گیا، ڈی پی او سہیل خالد

ڈی پی او سہیل خالد نے بتایا کہ تین خودکش صبح داخل ہوئے، سب سے پہلے پولیس پر ہینڈ گرنیڈ پھیکے اور فائرنگ شروع کردی، جوابی فائرنگ پندرہ تا بیس منٹ جاری رہی اس دوران تینوں مارے گئے جب کہ متعدد افراد بھی شہید ہوئےکچہری کو دھمکیاں مل رہی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکوں کے وقت ججز، وکلا اورشہریوں کی بڑی تعداد کچہری میں موجود تھی، دھماکوں میں7  افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، کچہری میں موجود تیسرے خودکش حملہ آورکو ماردیا گیا، سرچ آپریشن کے بعد کچہری کو کلیئر کردیا گیا، 2حملہ آوروں نے کچہری کے گیٹ پر خود کو اڑا لیا تھا۔

سہیل خالد نے کہا کہ پولیس نے کافی دیر تک دہشت گردوں کامقابلہ کیا، دہشت گردوں نے پہلے دستی بم پھینکے، پولیس نے 20منٹ تک دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے۔

رکن صوبائی اسمبلی سکندر حیات شیر پاؤ نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  3 خودکش حملہ آوروں نے کچہری میں داخل ہونے کی کوشش کی، تینوں خودکش حملہ آوروں کو گیٹ پر روکا گیا۔ ایسالگ رہا ہے دہشت گرد منظم ہونے کی کوشش کررہے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیشنل ایکشن پلان پرمکمل عملدرآمد کیلئے اے پی سی بلائی جائے، پولیس نے بہادری سے مقابلہ کرکے بہت بڑی تباہی سے بچالیا۔

ابراہیم تنگی نے بتایا کہ پولیس کو پہلے بھی کہا تھا کہ سیکیورٹی دی جائے، ہمیں تین دن سے دھمکیاں مل رہی تھیں، دہش گردوں نے گرنیڈ پھینکے پھر فائرنگ کی، کئی لوگ اور پولیس والے زخمی ہوئے، تنگی پولیس اور سیکیورٹی شاباشی کی مستحق ہے، اللہ کا فضل و کرم ہے کہ ہم بچ گئے ورنہ بہت بڑا واقعہ پیش آیا۔

پولیس نے بہادری سے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، دہشت گردوں کے سہولت کار بھی ساتھ ہوسکتے ہیں،مشتاق غنی

کے پی کے وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے بہادری سے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، دہشت گردوں کے سہولت کار بھی ساتھ ہوسکتے ہیں۔

مشتاق غنی نے کہا کہ دہشت گردوں کے ماسٹرمائنڈ سرحدی علاقوں میں بیٹھے ہیں۔

تین خودکش حملہ آور آئے ، جس میں سے 2حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، صدر ڈسٹرکٹ بار

خیال رہے چارسدہ میں دھماکا ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب گزشتہ دنوں پاکستان کے مختلف شہروں میں متعدد دھماکوں کے نتیجے میں اب تک 100 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔


مزید پڑھیں : مردان میں کچہری گیٹ کے قریب خودکش حملہ، 12 افراد جاں بحق


واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں صوبہ خیبر پختو نخواہ کےشہر مردان میں ضلع کچہری گیٹ کے قریب خودکش حملہ آور نے خود کودھماکے سے اڑا لیا تھا، دھماکے میں بارہ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

اٹھارہ سالہ لڑکا چادر پہنے آیا، دھماکا اسی نے کیا، عینی شاہد

ضلع کچہری کے گیٹ پر پولیس اہلکار نےحملہ آور کو روکنے کی کوشش کی جس پر خودکش حملہ آور نے دستی بم پھینکا اور فائرنگ کردی پولیس اہلکاروں کی جوابی کارروائی کرنے پر حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑادیا۔

دھماکے کے وقت کیا منظر تھا، اس کا حال بتاتے ہوئے اسپتال میں زیرا علاج ایک عینی شاہد نے کہا کہ میں نے جب پیچھے دیکھا تو 18 یا 20برس کا ایک لڑکا چادر پہنے کھڑا تھا اسی دوران اس نے دھماکا کردیا، مجھے بھی چھرے لگے، اتنا دھواں ہوگیا کہ کچھ نظر نہیں آیا۔

ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ یہ گیارہ بجے سے زائد کا وقت تھا، اس وقت کافی لوگ یہاں ہوتے ہیں، اللہ کا شکر ہےکہ حملہ آور اندر نہیں  آسکے اور پولیس والوں کی وجہ سے ہم بچ گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں