The news is by your side.

Advertisement

گلشن حدید میں گاڑی کے قریب دھماکہ،چینی انجینیئر سمیت تین افراد زخمی

کراچی: نیشنل ہائے وے پر گلشن حدید کے علاقے میں سڑک کے کنارے گرین بیلٹ میں نصب ریموٹ کنٹرول بم کے دھماکے کے نتیجے میں قریب سے گزرنے والی گاڑی میں سوار چینی انجینیئر سمیت تین افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاور پلانٹ پر کام کرنے والے چینی انجینیئر ’’فینچی‘‘ اپنی گاڑی میں پلانٹ کی جانب جا رہے تھے کہ نیشنل ہائی وے پر گلشن حدید کے علاقے میں ان کی گاڑی کے قریب دھماکہ ھوا، جس کے نتیجے میں چینی انجینیئر سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔

زخمی افراد کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ زخمیوں کوگاڑی کے شیشے لگنے سے معمولی زخم آئے ہیں، جب کہ پولیس نے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد جمع کرنا شروع کردیے۔
ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا، “بم چینی اہلکار کے پلانٹ جانے والے روٹ پر نصب کیا گیا تھا، جیسے ہی چینی اہلکار کی گاڑی پہنچی دھماکہ کردیا گیا”۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ گاڑی کے قریب سے سندھ قوم پرست جماعت کا مبینہ پمفلٹ ملا ہے،جس میں قوم پرست جماعت کے مطالبات درج ہیں درج ہے،تاہم پولیس کا کہناہے کہ یہ پمفلیٹ تحقیقات کے رخ کو تبدیل کرنے کی سازش بھی ہو سکتی ہے، اس لیے ہر ممکنہ ذاویے پر اپنی تحقیقات جاری رکھیں گی۔

وقعہ پر موجود عینی شاہد کے مطابق دھماکے سے 20 سے25 منٹ پہلے گرین بیلٹ پر “پریشر ککر” رکھا ہوا دیکھا،پریشرککرسے متعلق سڑک سے گزرنے والی پولیس موبائل کو بھی اطلاع دی،تاہم پولیس نے اس پر توجہ نہیں دی۔


Footage of blast in Karachi by arynews

واضع رہے چینی باشندے کی گاڑی پر دھماکے کی خبر ملتے ہی آئی جی سند نے ڈی آئی جی ویسٹ سے رپورٹ کی طلب کر لی، جس کے بعد ڈی آئی جی ویسٹ نے ایس ایس پی راؤ کو فون کر کے کہ واقعہ کی مکمل رپورٹ لی۔
ملزمان کی تلاش کے لیے رینجرز اور پولیس کی بھر نفری نے علاقہ کو گھراؤ میں لے کر گھر گھر تلاشی کے دوران تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

دوسری جانب رینجرز کا کہنا ہے کہ چینی ابجینیئر کو دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں،جس کے بعد انہیں سیکیورٹی مہیا کرنے کی پیشکش کی گئی تھی،تاہم پیشکش کے باوجود چینی انجینیئر نے حفاظتی اہلکار ساتھ رکھنے سے منع کر دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں