The news is by your side.

اورکزئی ایجنسی میں بم دھماکہ، جاں بحق افراد کی تعداد 33 تک جا پہنچی

اورکزئی ایجنسی: صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع اورکزئی ایجنسی میں ہونے والے بم دھماکے  کے نتیجے زخمی ہونے والے مزید افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد  33  ہوگئی ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ لوئر اورکزئی کے علاقے کلایا بازار میں ہوا ہے، علاقے میں جمعہ منڈی کا بازار لگا ہوا تھا۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ  اسپتال میں زیر علاج زخمیوں میں سے تین نے دم توڑ دیا ہے جس کے بعدجاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 33 ہوگئی ہے ہلاک شدگان میں 3 بچے بھی شامل ہیں، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق معمولی زخمیوں اور لاشوں کو کلایا ہیڈ کوارٹر اسپتال منقل کیا گیا ۔

کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے جنہیں کوہاٹ منتقل کیا گیا، اموات میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے، پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تاحال دھماکے کی نوعیت کا تعین نہیں کیا جاسکا۔

سیکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے جبکہ ریسکیو کا عملہ بھی امدادی کام جاری رکھے ہوئے ہے،دھماکے کے بعد صوبے کے تمام اسپتالوں میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا  ہےکہ امریکا کی افغانستان میں بد ترین ناکامی کے بعد پاکستان کو  اپنی سیکیورٹی کے سخت انتظامات  اور اپنے لوگوں کی حفاظت کے خصوصی اقدامات کرنے چاہئیں،انہوں نے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت بھی کی۔

وزیر خارجہ کی مذمت

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اورکزئی میں ہونے والے دھماکے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بزدلانہ کارروائیوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے، دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا قلع قمع کر کے دم لیں گے۔

یاد رہے کہ یہ آج کے روز پیش آنے والا دہشت گردی کا دوسرا واقعہ ہے۔

پہلا واقعہ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پیش آیا جہاں 4 دہشت گردوں نے چینی قونصل خانے پر حملہ کیا، تاہم سیکیورٹی پر مامور 2 پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دہشت گردوں کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے۔

بعد ازاں فورسز کی کارروائی میں 3 دہشت گرد جہنم واصل کردیے گئے۔

اس سے صرف 10 روز قبل ہی صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں نے فورسز پر حملہ کا تھا جس میں ایک افسر سمیت 3 اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔

حملہ رزمک سب ڈویژن کے علاقے روغہ بدر میں کیا گیا تھا جہاں نامعلوم دہشت گروں کے ایک گروپ نے ڈیوٹی پر موجود سکیورٹی فورسز اہلکاروں کو خود کار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں