The news is by your side.

Advertisement

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں گرنیڈ دھماکا، 18 زخمی

کپواڑہ میں سرچ آپریشن، ایک نوجوان شہید

سری نگر: بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ایک بس اسٹینڈ پردھماکا ہوا ہے، دھماکے میں 18 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب آج صبح سےجاری سرچ آپریشن میں بھارتی افواج نے ایک جوان شہید کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقامی میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے ایک بس اسٹینڈ پر گرنیڈ بم دھماکا ہوا ہے جس میں موقع پرموجود 18 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو گورنمنٹ میڈیکل کالج منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں  طبی امداد دی جارہی ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفر ی نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور شواہد اکھٹے کیے جارہے ہیں۔

گرنیڈ حملوں کا تسلسل

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ بس کے اندراس وقت ہوا جب وہ اسٹینڈ پر آکر رکی، گزشتہ دس ماہ میں یہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والا تیسرا گرنیڈ حملہ ہے۔

گزشتہ برس دسمبر کی 28 تاریخ کو جموں کے ایک بس اسٹینڈ پر گرنیڈ حملہ ہوا تھا، حملہ اسٹاپ کے ساتھ ہی پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا، تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

گزشتہ سال مئی کی 24 تاریخ کو ایک بس اسٹینڈ کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، زخمی ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار شامل تھے۔

سرچ آپریشن

 آج صبح سے بھارتی افواج کا کپواڑہ ڈسٹرکٹ میں سرچ آپریشن جاری ہے ، اس دوران بھارت نے بدترین ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نوجوان کو شہید کردیا ہے۔ نوجوان کی شہادت کا واقعہ ہندوارہ کے علاقے کرال گند میں پیش آیا ہے۔

پلوامہ حملہ

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ  کی 14تاریخ کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے سری نگرسے 20 کلومیٹر دور پلوامہ کے نیشنل ہائی وے پر  فوجی دستے پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 44 بھارتی فوجی مارے گئے تھے، بھارت نے حملے کے فوری بعد پاکستان کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے ہرزہ سرائی کی اور بے بنیاد الزامات عائد کیے تھے۔

پاکستان پر الزام تراشی پر بھارت کو شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا، بھارتی الزام تراشی کو چین اور سعودی عرب سمیت کئی اہم ممالک نے یکسر مسترد کردیا تھا۔ گزشتہ روز امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں پلوامہ حملہ کرنے والے نوجوان پر ایک تحقیقاتی اسٹوری میں انکشاف کیا گیا تھا کہ حملہ آور عادل ڈار کئی بار بھارتی افواج کے ظلم وستم کا نشانہ بن چکا تھا۔


یہ خبر ابھی اپ ڈیٹ کی جارہی ہے

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں