دریائے سندھ کی نابینا ڈولفن راستہ بھول گئی -
The news is by your side.

Advertisement

دریائے سندھ کی نابینا ڈولفن راستہ بھول گئی

خانپور مہر میں نہر سے نایاب ڈولفن کو پکڑ لیا گیا۔ نایاب نسل کی نابینا ڈولفن دریائے سندھ سے نہر میں آگئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق گھوٹکی کے نواحی گاؤں چھتوں لوند کے قریب علاقہ مکینوں نے نایاب نسل کی ڈولفن کو پکڑ لیا۔ ایک ماہ کے دوران یہ تیسری ڈولفن ہے جو دریا سے نہر میں آئی ہے۔

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ڈولفنز کو نہروں میں جانے سے روکنے کے اقدامات نہیں کیے جاتے جس کی وجہ سے نایاب ڈولفنز نہر میں پہنچ جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی کے ساحل پر ڈولفنز کی آمد

واضح رہے کہ دریائے سندھ کی نابینا ڈولفن دنیا کی نایاب ترین قسم ہے جو صرف دریائے سندھ اور بھارت کے دریائے گنگا میں پائی جاتی ہے۔ یہ ڈولفن قدرتی طور پر اندھی ہوتی ہے اور پانی میں آواز کے سہارے راستہ تلاش کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی ڈولفنز کی نسل میں معمولی سا فرق ہے جس کے باعث انہیں الگ الگ اقسام قرار دیا گیا ہے۔

dolphin-2

نایاب نسل کی نابینا ڈولفن اکثر دریائے سندھ سے راستہ بھول کر نہروں میں آ نکلتی ہیں اور کبھی کبھار پھنس جاتی ہیں۔ اس صورت میں ان کو فوری طور پر نکال کر دریا میں واپس بھیجنا بہت ضروری ہوتا ہے ورنہ ان کی موت یقینی ہو جاتی ہے۔

راستہ بھولنے اور دیگر وجوہات کے باعث اس ڈولفن کو اپنی بقا کا خطرہ لاحق ہے اور ان کی تعداد میں تیزی سے کمی آتی جارہی ہے۔

سرکاری عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ماہی گیر دریائے سندھ میں زیادہ سے زیادہ مچھلیوں کو پکڑنے کے لیے زہریلے کیمیائی مواد کا استعمال کر رہے ہیں جو اس ڈولفن کی ہلاکت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

تصاویر: وہیل اور ڈولفن کی شاندار عکس بندی

دوسری جانب ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں کیمیائی اور دیگر آلودگی کے ساتھ ساتھ ڈیموں کی تعمیر، ڈولفن کا مچھلیاں پکڑنے کے لیے بچھائے گئے جالوں میں حادثاتی طور پر پھنس جانا، اور گوشت اور تیل حاصل کرنے کے لیے ڈولفن کا شکار اس کی نسل کو ختم کرنے کا باعث بن رہا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق دریائے سندھ میں اس ڈولفن کی تعداد محض 600 سے بھی کم رہ گئی ہے اور اس کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو دریائے سندھ سے اس ڈولفن کا خاتمہ ہوجائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں