The news is by your side.

Advertisement

بصارت سے محروم گولڈ میڈلسٹ لڑکی وائس پرنسپل بن گئی

بچپن سے ہی بصارت سے محروم لاہور کی سعدیہ نے اپنی معذوری کو مجبوری نہ بننے دیا اور محنت کے بل بوتے پر پہلی بلائنڈ وائس پرنسپل بن گئی

دنیا ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے جو معذوری کو مجبوری بناکر زندگی گزارتے ہیں لیکن اسی دنیا میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اپنی معذوری کو اپنے خوابوں کے آڑے نہیں آنے دیتے اور اپنی محنت کے بل بوتے پر معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل کرلیتے ہیں۔

ایسے ہی لوگوں میں شمار ہوتا ہے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالخلافہ لاہور کی رہائشی سعدیہ کا جو بچپن میں ہی اپنی بصارت سے محروم ہوگئیں لیکن ان کی آنکھوں نے روشن مستقبل کے خواب دیکھنا نہ چھوڑے اور قوت ارادی کی بدولت نہ صرف ماسٹرز میں گولڈ میڈل حاصل کیا بلکہ کالج کی پہلی بلائنڈ پرنسپل ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

سعدیہ بٹ جو ماسٹرز میں گولڈ میڈلسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ بھی لے چکی ہیں اب گورنمنٹ اسپیشل کالج کی پہلی بلائنڈ وائس پرنسپل کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

ان کا یہ سفر اتنا آسان نہیں رہا اس سفر کے دوران انہیں اپنے اور پرایوں کے حوصلہ شکن رویے برداشت کرنے پڑے لیکن پہاڑ جیسے بلند حوصلے کی مالک نے ہار نہ مانی اور ان کے رویوں کو نظر انداز کرکے اپنا سفر کامیابی سے جاری رکھا۔

 

اس حوالے سے سعدیہ بٹ نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ میری معذوری سے میرے والدین پریشان رہتے تھے اور پھر معاشرہ بھی تھا جو عجیب نظروں سے دیکھتا اور حوصلہ شکن باتیں کرتا تھا کہ یہ بے چاری ہے تو میں سوچتی تھی کہ ان کی یہ منفی سوچ کیسے بدلی جائے۔

سعدیہ نے بتایا کہ معاشرے کے ان ہی حوصلہ شکن رویوں کی بدولت میرے اندر یہ جذبہ پیدا ہوا کہ میں نے کچھ کرکے دکھانا ہے میں نے اپنی معذوری کو مجبوری نہیں بننے دینا بلکہ سوچا کہ اب معاشرے میں کچھ ایسا مقام بنانا ہے کہ لوگ مجھے میرے نام سے جانیں کہ ہاں یہ سعدیہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی معذوری کو اپنے پختہ عزائم کے سامنے دیوار نہیں بننے دیا اور میں کالج کیڈر میں پہلی لڑکی ہوں جو وائس پرنسپل کے عہدے پر پہنچی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں