The news is by your side.

Advertisement

بینائی سے محروم پروفیسرعمار کی عزم و ہمت کی داستان

لاہور : اس دنیا میں ایسے کئی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی کسی بھی معذوری کو کمزوری نہ بننے دیا، محنت اور لگن کے ساتھ نہ صرف اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ اسے مزید بہتر بنایا ہے۔

ان ہی لوگوں میں سے ایک روشن مثال پنجاب کے ایک مقامی کالج کے پروفیسر عمار شاہ ہیں جنہیں قدرت نے قوت بینائی سے تو محروم کیا لیکن اس معذوری کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری۔

بینائی سے محروم پروفیسر عمار شاہ معاشرے میں تعلیم کے چراغ روشن کررہے ہیں، انہوں نے فرسٹ ایئر سے پی ایچ ڈی، ساٖت سیئر اوپن بک سے پڑھا، کیسٹوں کے ذریعے سن کر سبق یاد کرکے میٹرک پاس کیا۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں پروفیسر عمار شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے اپنی انتھک جدوجہد کے بارے میں ناظرین کو آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں پیدائشی طور پر رات کو نہ دکھائی دینے کی موروثی بیماری کا شکار تھا لیکن چودہ سال کی عمر میں دن کے وقت بھی دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوگیا۔

پروفیسر عمار نے بتایا کہ میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے مقصد سے نہ ہٹا اور اسی اندھے پن کے ساتھ میٹرک اور انٹر کیا پھر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے بیچلر اورماسٹرز کیا اور پھر پنجاب یونی ورسٹی سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا تعلق شیخوپورہ کے انتہائی پسماندہ گاؤں کوٹ بہادر علی شاہ سے ہے وہاں میں نے بچوں کی مفت تعلیم کیلئے شاہ ہمدان کے نام سے اسکول قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ میں نے وہاں تین واٹر فلٹریشن پلانٹ بھی لگوائے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں