The news is by your side.

Advertisement

"بے چاری” کہنے والوں کی باتیں سن کر مجھ میں حوصلہ پیدا ہوا، نابینا وائس پرنسپل

لاہور : ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے کسی بھی جسمانی معذور شہری کو کارآمد تصور نہیں کیا جاتا مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی اس معذوری کو اپنی کامیابی کے آڑے آنے نہیں دیتے۔

ایک ایسی ہی مثال سعدیہ بٹ کی بھی ہے جنہوں نے قوت بینائی سے محروم ہونے کے باوجود خود کو کسی سے کمتر نہیں سمجھا بلکہ اپنے ذہن اور دل کی روشنی سے کامیابی کی منازل طے کیں۔

سعدیہ بٹ ماسٹرز میں گولڈ میڈلسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ بھی لے چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پہلی بلائنڈ آر جے بھی ہیں اور گورنمنٹ اسپیشل کالج کی وائس پرنسپل کے فرائض بھی انجام دے رہی ہیں۔

اے آر وائی نیوز لاہور کی نمائندہ سدرہ غیاث سے گفتگو کرتے ہوئے اس پرعزم لڑکی کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی اپنی معذوری کو اپنی کامیابی میں آڑے آنے نہیں دیا۔

سعدیہ بٹ نے بتایا کہ بچپن سے لوگوں کی کڑوی کسیلی اور ترس کھا کر بے چاری کہنے والی باتیں سننے کے بعد میرے اندر ایک حوصلہ پیدا ہوا کہ میں اب دنیا کو کچھ کرکے دکھاؤں گی۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کالج کیڈر میں پہلی نابینا لڑکی ہوں جو وائس پرنسپل کے عہدے پر فائز ہوں۔

انسان کی معذوری قدرت کی طرف سے ہوتی ہے لیکن اگر تھوڑی سی ہمت جذبے اور لگن سے کام کیا جائے تو آپ معذوری کے باوجود اپنی صلاحیتوں سے ہر میدان عمل میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں