مشرقی معاشرے میں والدین اکثر اپنی محرومیوں، کم نصیبی یا ادھوری خواہشات کی تکمیل کے لیے اپنی اولاد سے توقعات وابستہ کرلیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اولاد والدین کے لیے امید کا استعارہ ہوتی ہے، لیکن بعض اوقات یہ "امید” بچے کی فطری شخصیت کے لیے بوجھ بن جاتی ہے۔ ہمارے ہاں ایک جملہ بہت فخر سے بولا جاتا ہے: "میری بڑی بیٹی تو میرا بیٹا ہے۔” بظاہر یہ جملہ محبت اور اعتماد کی انتہا لگتا ہے، لیکن نفسیاتی طور پر یہ اس لڑکی کی شخصیت میں ایک ایسے بگاڑ کی بنیاد رکھ دیتا ہے جس کا خمیازہ اسے ساری زندگی بھگتنا پڑتا ہے۔
جب ایک بچّی کو بچپن سے ہی یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اس کی اصل قدر و قیمت "بیٹا بننے” میں ہے، تو وہ لاشعوری طور پر اپنی صنف سے بیزار ہونے لگتی ہے۔ وہ اپنی فطری نزاکت، حساسیت اور نسوانیت کو ایک کمزوری سمجھ کر ترک کر دیتی ہے تاکہ وہ اس ‘مردانہ معیار’ پر پوری اتر سکے جو اس کے والدین نے اس کے لیے مقرر کیا ہے۔
جب یہ بچی سمجھدار ہوتی ہے، تو اس کی چال ڈھال، گفتگو اور رویوں میں ایک ایسی سختی آ جاتی ہے جسے ہمارا معاشرہ قبول کرنے کے بجائے اسے ‘بے حیا’ یا ‘مرد مار’ جیسے طنزیہ القابات سے نوازنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ جس سختی کی بنیاد خود والدین نے رکھی، دنیا اسی پر اس لڑکی کو ملامت کرتی ہے۔
اس مخصوص ماحول میں پرورش پانے والی خواتین کی ازدواجی زندگی اکثر توازن کھو بیٹھتی ہے، چونکہ ان کی ذہن سازی ‘مرد کے برابر یا اس سے بہتر’ ہونے کے گرد ہوئی ہوتی ہے، اس لیے وہ اپنے شوہر کو ایک ساتھی کے بجائے ایک حریف (Competitor) کے طور پر دیکھنے لگتی ہیں۔ گھریلو معاملات کو سلجھانے کے بجائے ان پر حاوی ہونے کا رجحان زیادہ رہتا ہے۔ ہر بات کو تسلیم کرنے کے بجائے ‘اپنی بات منوانے’ کی تڑپ گھر کے سکون کو غارت کر دیتی ہے۔ حد سے زیادہ مضبوط شخصیت دکھانے کے چکر میں ایسی خواتین اپنے شریکِ حیات کے ساتھ وہ مسائل یا کمزوریاں شیئر نہیں کر پاتیں جو ایک عام بیوی کو کرنی چاہئیں، اس سے مزید غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔
اگر شوہر نرم مزاج ہو تو گاڑی چلتی رہتی ہے، لیکن اگر شوہر بھی مضبوط شخصیت کا حامل ہو تو یہ رشتہ ایک مستقل ‘ایگو وار’ کی نذر ہو جاتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف بیٹیوں تک محدود نہیں، بعض اوقات بہنوں کے زیرِ اثر یا حد سے زیادہ زنانہ ماحول میں پلنے والے لڑکوں کی شخصیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ان میں وہ مردانہ فیصلہ سازی اور مضبوطی مفقود ہو جاتی ہے جو ایک خاندان کی سربراہی کے لیے ضروری ہے۔ وہ نسوانیت کے زیرِ اثر ایک ایسی شخصیت بن جاتے ہیں جو عملی زندگی کے سخت فیصلوں میں دوسروں کی محتاج رہتی ہے۔
والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بیٹی کو با اختیار (Empower) بنانے کا مطلب اسے ‘بیٹا بنانا’ ہرگز نہیں ہے۔ بیٹی کو ایک مضبوط عورت بنائیں، اسے حالات کا مقابلہ کرنا سکھائیں، اسے تعلیم دیں، اسے خود مختار بنائیں، لیکن اسے اپنی صنف سے پیار، اپنی شناخت کو اہمیت دینا اور صنفِ مخالف کا احترام کرنا بھی سکھائیں۔ فطرت سے جنگ نہ لڑیں، بچپن کے یہ ‘چونچلے’ کہ تم میرا بیٹا یا بیٹی ہو، مستقبل میں اس بچّے یا بچّی کی شناخت کا بحران (Identity Crisis) بن جاتے ہیں۔
ہمیں اپنے بچّوں کو حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ضرور کرنا چاہیے، لیکن ان کی صنف کی قیمت پر نہیں۔ بیٹی کو بیٹی رہنے دیں اور بیٹے کو بیٹا— کیونکہ کائنات کا حسن صنف کے فرق میں ہے، اس کو مٹا دینے میں نہیں۔


