ایک مڈل کلاس پاکستانی عورت کے لیے امریکہ کا سفر محض ایک خواب کی تعبیر نہیں ہوتا، بلکہ یہ اپنی ذات کو نئے سرے سے دریافت کرنے کا ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔ جب وہ اپنوں کی دعائیں سمیٹ کر کسی امریکی شہر کے ایئرپورٹ پر اترتی ہے، تو اسے احساس نہیں ہوتا کہ باہر کی چمک دمک کے پیچھے کتنے نفسیاتی اور سماجی طوفان اس کے منتظر ہیں۔
پاکستان میں رہتے ہوئے شاید وہ تھوڑی بہت انگریزی سمجھ لیتی ہو، لیکن امریکہ کی تیز رفتار بول چال، لہجہ (Accent) اور روزمرہ کے محاورے اسے بالکل "گونگا” کر دیتے ہیں۔ جب وہ سپر مارکیٹ جاتی ہے یا ڈاکٹر کے پاس، تو لفظ اس کے حلق میں پھنس جاتے ہیں۔ زبان سے اس کا نابلد ہونا اسے دوسروں پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ وہ عورت جو اپنے محلے میں سب سے زیادہ باتیں کرتی تھی، اب ایک گوشہ نشین عورت بن کر رہ جاتی ہے۔ یہ خاموشی اسے احساسِ کمتری کی طرف دھکیل دیتی ہے، جہاں اسے لگتا ہے کہ وہ اس جدید معاشرے کا حصہ بننے کے لائق ہی نہیں ہے۔
مڈل کلاس عورت کے لیے شوہر ہی اس نئے ملک میں اس کا واحد سہارا اور رابطہ کار ہوتا ہے۔ لیکن اکثر صورتوں میں، شوہر اپنی ملازمت اور معاشی دوڑ میں مگن ہو کر بھول جاتا ہے کہ اس کی شریکِ حیات جذباتی طور پر ٹوٹ رہی ہے۔ پاکستان میں اگر میاں بیوی میں ان بن ہوتی تھی، تو ماں، بہن یا سہیلی سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا تھا لیکن وہاں چار دیواری کی خاموشی اسے کاٹنے کو دوڑتی ہے۔ شوہر کا یہ رویہ کہ "میں تمہارے لیے اتنا کما تو رہا ہوں” اس کی جذباتی ضرورتوں کو پورا نہیں کر پاتا۔ جب اسے اپنی زبان میں بات کرنے والا اور اس کے دکھ سکھ بانٹنے والا شوہر نہیں ملتا، تو وہ گھر اسے سونے کا پنجرہ لگنے لگتا ہے۔
ایک بڑا کرب بچّوں کی پرورش کا ہوتا ہے۔ ماں چاہتی ہے کہ اس کے بچّے اردو بولیں، نماز پڑھیں اور بڑوں کا لحاظ کریں، لیکن گھر سے باہر کی دنیا بالکل مختلف ہے۔ اسے ڈر لگتا ہے کہ اگر اس نے زیادہ سختی کی تو بچّے باغی ہو جائیں گے، اور اگر نرمی کی تو وہ اپنی پہچان کھو دیں گے۔ جب بچّے انگریزی میں بات کرتے ہیں اور ماں ان کے اسکول کے مسائل یا ان کے جذبات کو انگریزی میں پوری طرح نہیں سمجھ پاتی، تو ماں اور اولاد کے درمیان ایک "کمیونیکیشن گیپ” پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے ہی بچّوں کے لیے ایک "قدامت پسند” عورت بن کر رہ جاتی ہے، جس کی باتیں انہیں پرانی لگتی ہیں۔
امریکہ میں مڈل کلاس پاکستانی عورت کے پاس نہ تو نوکر چاکر ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ ہنگامے جو پاکستان کی گلیوں میں ہوتے ہیں۔ دن بھر شوہر کام پر اور بچے اسکول میں ہوتے ہیں۔ وہ اکیلی برتن دھوتے اور کپڑے سمیٹتے ہوئے اکثر ان لمحوں کو یاد کرتی ہے جب وہ اپنی ماں کے ساتھ چائے پیتی تھی یا پڑوسن سے باتیں کرتی تھی۔ یہ تنہائی اسے اکثر ڈیپریشن کی طرف لے جاتی ہے۔
یہ کہانی صرف ایک عورت کی نہیں، بلکہ ہزاروں ایسی خواتین کی ہے جو خاموشی سے قربانی دے رہی ہیں۔ وہ اپنی زبان، اپنی محبت اور اپنی پہچان کی جنگ ایک ایسے میدان میں لڑ رہی ہیں جہاں قوانین تو بہت ہیں، مگر جذبات کی زبان سمجھنے والا کوئی نہیں۔


