The news is by your side.

سولر جیو انجینئرنگ‘ سائنس کی غلطی قیامت کا سبب بن سکتی ہے

پچھلے برس کی بات ہے جنوری میں سرما کی ریکارڈ توڑ برف باری کے بعد جو ٹھنڈ نے کوئٹہ میں ڈیرے جمائے تو بمشکل اپریل سے موسم معتدل ہونا شروع ہوا اور مئی تک گرمی کا نام و نشان بھی نہ تھا ۔ مگر صرف ایک برس میں گلوبل وارمنگ کی بدولت دنیا کے مختلف خطوں سمیت پاکستان میں بھی موسمیاتی تبدیلیاں بہت واضح ہیں اور مارچ سے ہی جہاں سندھ و پنجاب کے مختلف علا قوں کو یک بعد دیگرے گرمی کی شدید لہروں کا سامنا ہے وہاں بلوچستان اور شمالی علاقی جات میں بھی درجۂ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ تین دہائیوں کا بلند ترین درجۂحرارت ہے۔

دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے متعلق ماہرین کافی عرصے پہلے نشاندہی کر چکے ہیں جس کے بعد ترقی یافتہ ممالک کو ‘ پیرس کلائیمیٹ ایگریمنٹ ‘ کے ذریعے پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنے اپنے ملک میں گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی شرح پر کنٹرول کریں تاکہ گلوبل درجۂ حرارت ایک خاص تناسب سے زیادہ نہیں ہو۔ مگر بد قسمتی سے امریکہ سمیت زیادہ تر ممالک اس کوشش میں ناکام ہو چکے ہیں اور فی الوقت دنیا کا درجۂ حرارت پیرس ایگریمنٹ کی مختص کردہ حد سے 2 سینٹی گریڈ ڈگری بڑھ چکا ہے اور امکان ہے کہ 2018 میں مزید تیزی سے اضافہ ہوگا۔

جنوبی خطے میں رہنے والے افراد کواس برس شدید ترین گرمی کا سامنا کرنا پڑیگا جو لا محالہ ‘ڈی ہائیڈریشن ‘ ( زراعت کے لیئے پانی کی قلت ) ، خشک سالی ، اور زمینی کٹاؤ میں اضافے کا سبب بھی بنے گا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جزیروں اور جزیرہ نما ریاستوں کو اپنی بقا کے حوالے سے شدید خطرات کا سامنا ہے کیونکہ سمندروں کے پانی میں بڑھتی ہوئی کاربن کی شرح ان کے ساحلوں کو نگلتی جا رہی ہے اس کی وجہ سے ان ریاستیں کا حجم ہر برس کم ہو رہا ہے جبکہ دوسری جانب افریقہ و ایشیاء میں گذشتہ ایک دہائی سے شدید خشک سالی کے باعث غذائی قلت عروج پر پہنچ چکی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ِ ذکر ہے کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں صرف پسماند ہ یا ترقی پزیر ممالک ہی نہیں آئے ہیں بلکہ امریکی ریاستوں اور یورپ کو بھی اس کے باعث مشکل حالات کا سامنا ہے اوریہاں بھی گرمیوں میں سمندری طوفان و ٹورناڈو ، تو سردیوں میں برفانی طوفان کئی کئی ہفتوں تک نظام ِ زندگی مفلوج کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔

ان شدید حالات سے نمٹنے کے لیے ترقی پزیر ممالک کے چند سائنسدانوں نے سورج کی حرارت و روشنی کو روکنے کا ایک منصوبہ بنایا جسے ‘ سولر جیو انجینئرنگ’ کا نام دیا گیا تھا ۔ حال ہی میں ایک معروف سائنسی جریدے میں عتیق الرحمٰن اور پاؤلو ارٹاکسو، آصفہ ووسین اسرط اور اینڈی پارکر کا ایک مقالہ شائع ہوا ہے کہ اگر زمین کے ماحول میں ایک مناسب بلندی پر جسے سائنسی اصطلاح میں ‘ سٹریٹو سفیئر ‘ کہا جاتا ہے ،ایرو سول پارٹیکلز (ذرات) کا چھڑکاؤ کیا جائے تو اس سے سورج کی روشنی و حرارت کو مدہم کیا جاسکتا ہے ۔

ماؤنٹ پیناٹوبو کے آتش فشاں سے پیدا ہونے والے بادلوں کا منظر

ایک اور تصور سائنسدانوں کو 1991 میں ماؤنٹ پیناٹوبو میں آتش فشانی کے عمل سے حاصل ہوا جب شدید دھماکے سے آتش فشاں پھٹنے کے بعد کئی ماہ تک دھویں اور راکھ کے بادل ان علا قوں پر چھائے رہے تھے اور فضا میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کی کافی مقدار شامل ہو جانے کے باعث کئی سال تک یہاں کا درجۂ حرارت بڑھ نہیں پایا تھا ۔ سولر جیو انجینئرنگ پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے یہ آئیڈیا پیش کیا ہے کہ سٹریٹو سفیئر میں تقر یبا 50 میگا ٹن تک سلفر ڈائی آکسائیڈ کا سپرے کیا جا ئے جو ماؤنٹ پینا ٹوبو سے خارج ہونے والی سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار سے چار گنا زیادہ مقدار ہے۔ اس طرح اندازا دو سال تک زمین پر درجۂ حرارت میں اضافہ نہیں ہوگا اور گلوبل وارمنگ کی بدولت ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کو کچھ عرصے کے لیئے لگام ڈالی جا سکے گی۔

اگرچہ سولر جیو انجینئرنگ کی یہ تکنیک ابھی ابتدائی تحقیقاتی مرحلے میں ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے اس کے بارے میں ملا جلا رجحان سامنے آیا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو پایا کہ آیا اس تکنیک کے صرف فوائد ہیں یا کچھ ایسے بھی نقصانات ہو سکتے ہیں جو کرۂ ارض کے قدرتی ماحول کو مزید برباد کرنے کا سبب بن جائیں گے۔ تقریبا ایک عشرے سے اس پر تحقیقات کی جارہی ہیں کہ کہیں اس تکنیک سے مون سون کا سسٹم تبدیل نہ ہوجائے جس سے ایشیائی ممالک میں موسم ِ گرما میں بارشیں ہوتی ہیں ،مگر گزشتہ 4، 5 سال میں مون سون کی بارشیں ویسے ہی بے قاعدگی کا شکار ہیں اور کچھ علاقوں میں حد سے زیادہ تو کہیں نہ ہونے کے برابر بارشیں دیکھنے میں آئی ہیں ۔ لہذا ٰ یہ وقت بڑے فیصلے مانگ ر ہا ہے اور ترقی پزیر ممالک کو اپنی بقا کے لیے مل کر کوئی ایک حکمت ِ عملی طے کرنا ہوگی ۔ اگرچہ پیرس ایگریمنٹ کے مطابق گلوبل وارمنگ میں اہم کردار گرین ہاؤس گیسز نے ادا کیا ہے جس کے زیادہ ذمہ دار ترقی یافتہ ممالک ہیں ، لیکن اس کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ترقی پزیر ، پسماندہ اور چھوٹے جزیرہ نما ممالک زیادہ آئے ہیں ۔ اور اس وقت یہ موضوع سب سے زیادہ زیر ِ بحث ہے کہ دنیا بھر میں مو سمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصان کو پوراکرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ چونکہ ابھی عالمی ممالک مختلف بلاکس میں بٹے ہوئے ہیں اس لیے سولر جیو انجینئرنگ کی تکنیک کا بڑے پیمانے پر استعمال بھی ممکن نہیں ہے۔

سولر جیوا نجینئرنگ پر کام کو آگے بڑھانے کے لیے سب سے پہلے دنیا بھر کے ممالک کو پیرس ایگریمنٹ کی طرح کا کوئی معائدہ کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے مضر اثرات کسی بڑے جھگڑے یا عالمی جنگ کا سبب نہ بن جا ئیں ۔ کیونکہ ہر ملک کی اپنی فضائی حدود ہیں ۔ اس کے علاوہ کون سے علاقوں میں سلفر کی کتنی مقدار کا سپرے کرنا ہوگا ، اس کا فیصلہ بھی ایک مشکل امر ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا اس تکنیک سے سے بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت پر قابو پایا جا سکے گا یا پھر دیگر موسمیاتی تبدیلیاں جیسے زمینی و جنگلی حیات کو در پیش خطرات ، ساحلوں کا کٹاؤ ، اور بر اعظم انٹارکٹیکا کی تیزی سے پگھلتی برف اور اس کے باعث بڑے شہروں کے غرق ِ آب ہونے کے خطرے سے بھی نمٹا جا سکے گا یا نہیں ۔ لہذا ٰ اس کے لیے طویل تحقیق اور ابتدا میں چھوٹے پیمانے پر تجربات کی ضرورت ہے تاکہ نفع اور نقصان دونوں واضح ہو سکیں ۔

اگرچہ دیکھنے میں یہ کافی حد تک سائنس فکشن فلموں کی طرح لگتا ہے کہ سلفر ڈائی آکسائیڈ کی موٹے تہہ یا بادلوں پر سمندری پانی کے چھڑکاؤ کر کے انھیں گدلا بنا دیا جائے جس سے لمبے عرصے تک اس علاقے کا درجۂ حرارت بڑھ نہیں پا ئے گا اور اگر یہی تکنیک بڑے پیمانے پر دنیا کے مختلف خطوں میں مسلسل استعمال کی جائے تو لا محالہ بڑھتے ہوئے گلوبل درجۂ حرارت کو لگام ڈالی جا سکتی ہے ، کیونکہ گرین ہاؤس گیسیں ہمارے ماحول میں اس طرح سرائیت کر چکی ہیں کہ ان کے مکمل خاتمے میں شاید کئی عشرے لگ جائیں ۔ لہذا اس پر تحقیق کو آگے بڑھانے کے لیئے رائل سوسائٹی آف لندن نے 2010 میں سولر ریڈی ایشن مینجمنٹ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی ۔اس کے ساتھ ہی نیویارک میں ورلڈ اکیڈیمی آف سائنسز نے اٹلی کے مالی تعاون سے ماحولیاتی دفاعی فنڈ بھی قائم کیا ہے۔ جس کی مدد سے گذشتہ تین برسوں میں بنگلا دیش ، چین ، برازیل ، ایتھوپیا ، انڈیا ، جیمیکا ، کینیا ، تھائی لینڈ اور نیوزی لینڈ وغیرہ میں باقاعدگی سے ورک شاپس منعقد کی جاتی رہی ہیں۔ جبکہ پاکستان اور فلپائن کے سائنسدانوں موسمیاتی تبدیلیوں اور سولر جیو انجینئرنگ کی تکنیک پر مشترکہ تحقیقات کا آغاز بھی کیا ہے ، جس میں دونوں ممالک سے صحافی ، پالیسی میکرز اور سول سوسائٹیز کے نمائندگان بھی معاونت کر رہے ہیں تاکہ ہر پہلو کو مد ِ نظر رکھ کر اس پر کوئی ایک جامع پالیسی و سٹر ٹیجی بنائی جا سکے۔

یہ امر بھی قابل ِ ذکر ہے کہ سولر انجینئرنگ پر اب تک کی جانے والی تمام تحقیق کمپیوٹر سے بنائے گئے ماڈلز پرمشتمل ہے جو کہ عموما ََ موسم کی پیشن گوئی کرنے میں غلط ثابت ہوتا ہے ۔ زمین کا اپنا ایک نظام ہے جس کے مطابق بعض اوقات غیر متوقع واقعات و تبدیلیاں بھی رونما ہوتی رہتی ہیں اور موسمیاتی تغیرات کے باعث اب کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ سولر جیو انجینئرنگ کی تکنیک اسی وقت قابل ِ عمل ہوسکتی ہے جب ہر طرح کے شک و شبہات سے پاک ایک جامع حکمت ِ عملی بنائی جاسکے، کیونکہ ہم نے اپنی سرگرمیوں سے کرۂ ارض کے قدرتی ماحول کو پہلے ہی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور فی الوقت بنی نوع ِ انسان مزید کسی بڑی کوتاہی کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

 

Facebook Comments
صادقہ خان

صادقہ خان

صادِقہ خان کوئٹہ سے تعلق رکھتی ہیں‘ انہوں نے ماسٹر پروگرام اپلائیڈ فزکس میں مکمل کیا جبکہ دوسرا ماسٹر آسٹرو فزکس آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی سے جاری ہے

بلاگر کے مزید بلاگ پڑھنے کے لیے کلک کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اس خبر کو لائیک یا شیئر کرنے اور مزید خبروں تک فوری رسائی کے لیے ہمارا اور وزٹ کریں



نوٹ: اے آروائی نیوزکی انتظامیہ اور ادارتی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں ناظرین تک پہنچے تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 700 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: [email protected] آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔