The news is by your side.

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

گھر کی چار دیواری ہو، گلی محلہ یا آمدورفت کے راستے۔ تعلیمی ادارے، بازار اور دفاتر ہر جگہ روزانہ ہی جنسی ہراساں کرنے کے واقعات کے باعث عورت کا اعتماد اور اعتبار ٹوٹتا اور بکھر جاتا ہے۔ جبکہ جنسی ہراس اور زیادتی کے واقعات میں کئی عورتیں زندگی کی بازی ہار چکی ہیں۔ کہتے ہیں غریب اور بے سہارا عورتوں کی زندگی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اس معاشرے میں جہاں مردوں کی بالادستی قائم ہے، ایسی عورتوں کو مالی مشکلات، خاندان اور باہر کے لوگوں کے ناروا سلوک کے ساتھ جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس معاشرے میں امیر کبیر اور بااثر خواتین بھی محفوظ نہیں۔

جنسی ہراسانی کوئی نیا موضوع نہیں جسے بیان کیا جائے مگر می ٹو کا ہیش ٹیگ اور جنسی ہراسانی اور ریپ کا نشانہ بننے والی ہالی وڈ ایکٹریسز اس کے خلاف میدان میں اتریں تو بالی وڈ اور پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ ایکٹریسز نے بھی ہمت کی اور اپنے ساتھ پیش آئے واقعات دنیا کے سامنے رکھ دیئے ۔حالیہ مثال معروف گلوکار علی ظفر پر سنگر میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کا الزام ہے۔

علی ظفر نے اس الزام کو سختی سےمسترد کردیا ہے تاہم اس کے باوجود اب مزید چند شخصیات نے بھی علی ظفر کے خلاف اپنی آواز میشا شفیع کی آواز سے ملائی ہے اس پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔

دوسری جانب علی ظفر کا کہنا تھا کہ یہ بہتان تراشی اور جھوٹے الزامات ہیں اور وہ میشا کے خلاف کورٹ جائیں گے، انہوں نے اداکارہ کو قانونی نوٹس بھجوادیا ہے جس میں ان کی کردار کشی پر معافی مانگنے کے لیے دو ہفتے کی مہلت دی گئی ہے بصورت دیگر قانونی چارہ جوئی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

یہ سب کچھ اس طرح شروع ہوا کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گلوکارہ میشا شفیع نے کہا کہ علی ظفر نے ایک سے زائد بار جنسی طور پر ہراساں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب اس وقت میرے ساتھ ہوا جب انڈسٹری میں میرا نام تھا اور میں دو بچوں کی ماں تھی۔

یہاں جنسی ہراسانی اور جنسی زیادتی میں فرق تو ہے، مگر اس معاشرے میں بہت سی عورتیں یہ بھی نہیں جانتیں کہ جنسی ہراس کا مطلب ریپ تو نہیں ہے مگر کوئی بھی ایسی بات، ذو معنی گفتگو اور جنسی خواہش کا اظہار جو آپ کو ناگوار گزرے تو یہ جنسی ہراس ہے اور کوئی بھی اس کا حق نہیں رکھتا۔ عورتوں کو گھورنا، مرضی کے خلاف چھونے کی کوشش اور فحش گوئی جنسی ہراس کے زمرے میں آتا ہے۔

چند برس پہلے تک تو پاکستان میں جنسی ہراس کے بارے میں بات نہیں کی جاتی تھی مگر ہالی وڈ کے جنسی اسکینڈل کے بعد می ٹو کا ہیش ٹیگ دنیا بھر میں اس کے خلاف ایک تحریک بن گیا۔ اس ہیش ٹیگ کی ابتدا کرنے والی خاتون ترانہ برکے نے میڈیا کو بتایا ’’میں نے ہرگز یہ تصور نہیں کیا تھا کہ یہ چیز دنیا کو تبدیل کر دے گی۔ میں صرف اپنی کمیونٹی کو تبدیل کرنا چاہتی تھی۔ اسے مزید تقویت اس وقت ملی جب ہالی وڈ فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کے خلاف تقریباً 18 ایکٹریسز اور خواتین نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام اور 5 اداکاراؤں نے ان پر ’ریپ‘ کے الزامات بھی لگائے۔ ہالی وڈ سے ہوتا ہوا یہ معاملہ بالی ووڈ جا نکلا اور پھر پاکستان میں بھی شوبزنس کی دنیا سے آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔

قصور کی ننھی زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل کے دلخراش واقعے کے بعد نادیہ جمیل، فریحہ الطاف اور ماہین خان نے اپنی زندگی کے تلخ تجربات ’می ٹو‘ مہم کے ذریعے دنیا کے سامنے رکھے۔ معروف اداکارہ نادیہ جمیل نے اپنے ساتھ جنسی ہراسانی کی کہانی سنائی تو ماڈل فریحہ الطاف بھی بول اٹھیں اور پھر ڈیزائنر ماہین خان نے بھی اپنی تکلیف دہ بپتا سنا دی۔

یہاں سوشل میڈیا پر اس بحث کا آغاز اداکارہ نادیہ جمیل کی ٹویٹ سے ہوا تھا۔ کہیں قاری صاحب، کوئی رشتے دار، کبھی ڈرائیور اور کوئی مالددار اپنے اثررسوخ کی بنیاد پر جنسی طور پر ہراساں کرتا ہے اور منہ کھولنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ تاہم نادیہ جمیل کا یہ جملہ بہت پراثر اور ایسے بدکرداروں کے منہ پر طمانچہ تھا اور اسی میں متاثرہ لڑکی کے گھر والوں کے لیے حوصلہ اور ہمت بھی تھی کہ یہ شرمندگی میری نہیں بلکہ جس نے ایسا کیا اسے شرمندہ ہونا پڑے گا۔

جنسی ہراس ایک جرم ہے اور پاکستان کے قانون میں اس کی سزا بھی موجود ہے جو تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ لیکن شکایت کرنے والی لڑکیوں کی تعداد کتنی ہے؟ گھر والے عزت کا رونا رو کر چپ ہو جاتے ہیں مگر اب تبدیلی کی امید کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی مشہور اور بااثر خواتین اگرچہ اس کا شکار ہوئیں مگر اب انہوں نے کئی بے سہارا، کمزور لڑکیوں کو ہمت اور حوصلہ دیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کو نہ صرف بے نقاب کریں بلکہ اب کسی کو اپنے ساتھ ایسا نہ کرنے دیں۔ خوف اور ڈر کو شکست دیں۔

میشا شفیع نے علی ظفر پر الزامات لگائے ہیں اورعلی ظفر انہیں قانونی نوٹس بھیج چکے ہیں۔ اب اس معاملے کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا میشا شفیع کے ساتھ ساتھ ریاست کی ذمہ داری ہے تاکہ ایک مثبت معاشر کی تشکیل کی جانب ایک قدم آگے بڑھے اور عورت اس کی ترقی اور خوشحالی میں بے خوفی سے اپنا کردار ادا کرسکیں، اور اگر علی ظفر بے گناہ ہیں تو یہ ان کا حق ہے کہ وہ اس معاملے میں قانونی چارہ جوئی کریں ۔

بول کے لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے

 

Facebook Comments
سدرہ ایاز

سدرہ ایاز

سدرہ ایاز صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اورایک نجی ٹی وی چینل میں اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں

بلاگر کے مزید بلاگ پڑھنے کے لیے کلک کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اس خبر کو لائیک یا شیئر کرنے اور مزید خبروں تک فوری رسائی کے لیے ہمارا اور وزٹ کریں



نوٹ: اے آروائی نیوزکی انتظامیہ اور ادارتی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں ناظرین تک پہنچے تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 700 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: [email protected] آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔