The news is by your side.

پاکستان میں ووٹنگ کا جدید طریقہ کارکب آئے گا

پاکستان میں صرف9 دن بعد جنرل الیکشن ہونے والے ہیں اور اس وقت سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں سے لے کر میڈیا تک ہر کوئی الیکشن کے بخار میں مبتلا ہے، مگر عام افراد میں ووٹنگ کے حوالے سے کافی تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ چاروں صوبوں میں الیکشن کمپینز عروج پر ہیں مگر دیکھا جائے تو کوئی بھی بڑی سیاسی پارٹی نئے ،قابل اور با صلاحیت امیدواروں کو سامنے لانے میں ناکام رہی ہے، وہی برسوں سے باریاں لگاتے پرانے چہرے اور ان کے جھوٹے وعدے با شعور افراد کو الیکشن کے دن ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ بوتھ تک لانے کے لیے ناکا فی ہیں ۔ اس کے علاوہ گزشتہ پانچ سال میں بہت سے دعوؤں کے باوجود الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے الیکٹورل ووٹنگ یا ووٹنگ کی جدید اور نئی تکنیک متعارف کروانے میں ناکام رہا ہے اور اس دفعہ بھی وہی برسوں پرانے فرسودہ طریقۂ کار کے مطابق عوام کو جولائی کی شدید گرمی میں لمبی لمبی قطاروں میں گھنٹوں انتظار کرنے کے بعد بیلٹ پیپرز پر مہر ، انگوٹھے پر سیاہی اورعملے کی سست روی و بدلحاظیوں کا سامنا رہے گا جو عشروں سے پاکستان میں انتخابی عمل کا خاصہ رہا ہے۔

الیکشن 2018 میں یہ صورتحال اس لیے بھی پیچیدگی کا باعث بنے گی کہ 2013 کے الیکشن پر نتائج آنے سے پہلے ہی دھاندلی ہونےکے الزامات لگائے جانے لگے تھے اور بلوچستان سمیت ملک کے دیگر علاقوں کے اہم حلقوں کے انتخابی نتائج آج تک سوالیہ نشان ہیں ، جہاں پانچ سال میں بھی کوئی احتساب نہیں ہوسکا۔ مجھ سمیت پاکستان کا ہر با شعور شہری اس وقت اسی خدشے میں مبتلا ہے کہ آیا اس کا ووٹ ملک کی تقدیر بدلنے میں کچھ معاونت کریگا یا پھر پچھلی بار کی طرح انجینئرڈ نتائج کے ذریعے ہم پر جوڑ توڑ والی حکومت اور نا اہل حکمران مسلط کر دیئے جا ئیں گے جو اگلے پانچ سال تک کسی جونک کی طرح ملکی معیشت کے ساتھ عوام کا خون بھی چوستے رہیں گے؟ ان حالات میں ہر شہری کے لیئے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کون سی جدید تکنیکس ہیں جواس وقت بھارت سمیت دنیا بھر میں انتخابات میں دھاندلی روکنے اور بروقت اور شفاف نتائج حاصل کرنے کے لیے استعمال کی جارہی ہیں، بھارت کا تذکرہ اس لیے ضروری ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوا اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے روایتی حریف بھی ہیں ۔

دنیا کے مختلف خطوں میں تقریبا ایک صدی قبل ووٹنگ مشین کا ستعمال شروع ہوا ۔ کسی بھی ملک میں شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ ہارنے والے امیدوار نے نتائج کو کھلے دل کے ساتھ تسلیم کیا ہو، امریکہ سے لےکر بھارت تک اپوزیشن کی جماعتیں دھاندلی کا رونا روتی رہتی ہیں لیکن وہاں کے الیکشن کمیشنز اور حکومتوں نے اس کے سد باب کے لیے ایک مکمل شفاف سسٹم متعارف کروایا ہے۔

بھارت میں پہلی دفعہ 1999 کے انتخابات میں الیٹرانک ووٹنگ مشین استعمال کی گئی اور پانچ سال بعد 2004 کے انتخابات ہونے تک اس سسٹم کو پوری طرح اپ گریڈ کیا جاچکا تھا ۔ اگرچہ اس سارے عمل میں خطیر رقم صرف ہوئی مگر بیلٹ پیپرز کی چھپا ئی، بیلٹ باکسزاور دیگر سامان پر آنے والا خرچہ بھی کم نہیں ہوا کرتا تھا پھر ان کو با حفاظت ملک کے دور دراز علاقوں تک پہنچانااور پوری طرح حفاظت کرنے پر بھی خطیر رقم خرچ ہوا کرتی تھی اس کے باوجود دھاندلی کے الزامات الیکشن کمیشن کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا کرتے تھے۔ بیلٹ پیپر کی جگہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال سے نا صرف انتخابی عمل میں آسانی ہوئی بلکہ نتائج بھی شفاف ہو ئے۔لیکن بعد ازاں ان ای وی ایم کے استعمال میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں اور ہیکرز نے ان کے سسٹم میں خلل ڈالنے کے نئے طریقے دریافت کر لیے ، جس کے بعد ان مشنیوں کا استعمال بھی مشکوک ہو گیا ہے۔

اگرچہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اپنے مخصوص سسٹم اور سوفٹ ویئر پر کام کرتی ہے جس سے ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے ہر شہری کومخصوص وقت دیا جاتا ہے اور ایک منٹ میں پانچ سے زیادہ ووٹ کسی صورت کاسٹ نہیں کیے جاسکتے۔ لہذا اگر شہری یا خود انتخابی عملہ بھی جعلی ووٹ ڈالنا چاہے تو مشین انہیں رسائی نہیں دیتی یا ووٹ از خود رد ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح انٹرنیٹ ووٹنگ ‘ایستونیا ‘ ایک ایسی سہولت ہے جس کے ذریعے شہری اپنی مرضی کی جگہ سے با آسانی ووٹ ڈال سکتے ہیں ۔لیکن الیکٹرانک ووٹنگ صرف ووٹ ڈالنے میں ہی مدد گار نہیں ہوتی بلکہ اس کے ذریعے کم وقت میں اور بالکل درست ووٹ گنے جاسکتے ہیں جس سے دھاندلی کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔ اپنے اپنے تحفظات کے باعث مختلف ممالک میں ابھی تک مختلف طریقۂ کار رائج ہیں ۔ کچھ الیکٹرانک اور انٹرنیٹ ووٹنگ دونوں کا استعمال کر رہے ہیں تو کہیں پیپر بیلٹ اور ای پیپر بیلٹ استعمال کرتے ہیں ۔

پاکستان میں دیگر مسائل کے علاوہ سب سے زیادہ مسئلہ انتخا بی نتائج کے تاخیر سے اعلان میں ہوتا ہےلہذا یہ ای وی ایم ووٹ کو فورا گن کر بر وقت اور درست اعداد و شمار فراہم کر سکتی ہیں لیکن دور دراز کے علاقوں میں جہاں عملہ یا ووٹرز زیادہ پڑھے لکھے نہ ہوں وہاں انھیں استعمال کرنے میں مسائل کا سامنا ہوگا۔

اس مقصد کے لیے ان ای وی ایم کو اس طرح پروگرامڈ کیا جاسکتا ہے کہ ووٹر اپنا مطلوبہ امیدوار منتخب کر کے باقاعدہ اس کی تصدیق کرے اس طرح کم پڑھے لکھے افراد جو مشینوں کے استعمال کا علم نہیں رکھتے ان سے غلط ووٹ کاسٹ ہوجانے کے اندیشے کو کم کیا جاسکتا ہے۔ پھر بھی حاصل ہونے والے نتائج کا کوئی باقاعدہ ثبوت نہیں ہوتا کہ آیا یہ ووٹرز ہی کی چوائس تھی یا مشین میں کوئی گڑ بڑ کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کیئے گئے۔ اس مسئلے کو دور کرنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک میں ای پیپر بیلٹ استعمال ہو رہے ہیں اور ان کے ساتھ یہ ای وی مشینیں ،پیپر سے معلومات کو مانیٹر کرتی ہیں ۔

اگرچہ ان ووٹنگ مشینوں کے نقصانات بھی سامنے آئے ہیں مگر ان کے ساتھ یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ جن ممالک میں یہ استعمال کی جارہی ہیں وہاں کا الیکٹورل ٹرن آؤٹ بڑھ گیا ہے کیونکہ مشین کے ذریعے جلدی ووٹ کاسٹ ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو گھنٹوں تک قطار میں نہیں رہنا پڑتا ۔ اسی طرح انتخابی اخراجات ، انتطامات اور خاص کر عملے کی تعداد کم ہوجانے سے الیکشن کمیشن کے کئی دوسرے مسائل بھی با آسانی حل ہوسکتے ہیں اور الیکٹرانک ووٹنگ سے یقینا خواتین کے ووٹ کاسٹ میں اضافہ ہوگا ۔

اس کے لیے الیکشن کمیشن کو باقاعدہ ایک لیگل فریم ورک بنا کر مناسب اصلا حات کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ کیونکہ جہاں ٹیکنالوجی میں روز افزوں ترقی سے فراڈ کو ختم کرنے کے لیے نئی جہت سامنے آ رہی ہیں اسی طرح ان کے توڑ کے لیے بھی نئے طریقے ایجاد کیئے جارہے ہیں اور امریکہ سمیت ترقی یافتہ ممالک کے انتخابی نتائج بھی مکمل شفاف نہیں ہوتے۔ مگر الیکٹورل ووٹنگ سے پاکستان میں 2013 کے انتخابات میں ہونے والی کھلی دھاندلی جیسی صورتحال پر ضرور قابو پایا جا سکتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Facebook Comments
صادقہ خان

صادقہ خان

صادِقہ خان کوئٹہ سے تعلق رکھتی ہیں‘ انہوں نے ماسٹر پروگرام اپلائیڈ فزکس میں مکمل کیا جبکہ دوسرا ماسٹر آسٹرو فزکس آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی سے جاری ہے

بلاگر کے مزید بلاگ پڑھنے کے لیے کلک کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اس خبر کو لائیک یا شیئر کرنے اور مزید خبروں تک فوری رسائی کے لیے ہمارا اور وزٹ کریں



نوٹ: اے آروائی نیوزکی انتظامیہ اور ادارتی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں ناظرین تک پہنچے تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 700 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: [email protected] آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔