The news is by your side.

گزشتہ کراچی کا نوحہ ۔۔ میں حرارتِ قلب ہوا کرتا تھا

کراچی بھی کبھی علم و ادب کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ لوگ روشن خیال اور مہذب تھے ۔ رواداری اور برداشت معاشرے کا حصہ تھی۔ مجھے اکثر بھائی صاحب اپنے ساتھ ایسٹرن کافی ہاؤس اور زیلنز ریسٹورنٹ لے جاتے تھے ۔ وہاں بھی مخصوص میزوں پر میں نے طلعت حسین،شکیل، ابراہیم جلیس، علی مختار رضوی ، فتح یاب علی خاں ، ایس ایم سلیم اور دوسری بہت نامور شخصیتوں کو دیکھا۔ بھائی صاحب تو ان میں گھل مل جاتے اور ہمیں دوسری ٹیبل پر بٹھا دیتے اور کولڈ کافی کے ساتھ پیسٹری ہمارے لئے بھجوا دیتے جو ہمارے لئے ایک نعمت ہوتی اور ہم دور سے ان حضرات کو دیکھا کرتے ۔ جب ہم ذرا بڑے ہوئے تو خود بھی اکیلے یا دوستوں کے ساتھ جانے کا شوق ہوا اور اکثر پیلس یا کیپٹل سنیما سے فلم دیکھنے کے بعد ایسٹرن کافی ہاؤس کے والٹی یا زیلنز میں کبھی کبھی بڑے فخر سے جاتے۔ لیکن وہ ادبی محفلیں اس وقت تک تقریباً ختم ہوگئی تھیں لیکن پھر بھی شرافت اور روادری اور گئے وقتوں کے کچھ نقوش باقی تھے ۔

کافی ہاؤس کے علاوہ بھی کئی جگہ تھیں جہاں شاعر و ادیب اور فنکار نظر آتے ۔ان میں فریڈرک کیفے ٹیریا جس کے گراؤنڈ فلور پر تو ریسٹورنٹ اور دوسری منزل پر بار تھا ۔اس کے علاوہ صدر میں کئی اور بارز تھے جیسے کے پام گرووز بار ، میراماربار ، رٹز بار جہاں اہل علم اور فنکار مے نوشی کے ساتھ علمی و ادبی بحث مباحثوں میں مصروف رہتے۔ ہر گروپ کا مخصوص ٹھکانہ ہوتا جہاں وہ شام ہوتے ہی پہنچ جاتے ۔ ویٹر بھی ان حضرات کو پہچانتے اور اگر کبھی ان کا دیرینہ’مہمان‘ خالی جیب بھی ہوتو کسی کو تشنہ نہیں  بھیجتے۔

آنکھ کے اشارے سے سمجھ جاتے کہ آج صاب سے کچھ نہیں ملنا۔ شاید اس زمانے تک ’ادھار محبت کی قینچی نہ تھی ‘۔ لوگ دیانتدار تھے اور اپنا حساب پہلی فرصت میں چکا دیاکرتے۔اکثر بار کاچھوٹا سا دروازہ صرف چوکھٹ کے درمیان ہی میں ہو تا جو دونوں طرف کھلتا اور اس کے باہری طرف انگریزی میں’بار‘ط لکھا ہوتا ۔ بار کے اندر ایک کاؤنٹر پر بار ٹینڈر ساقی کے فرائض ادا کررہا ہوتا اور سامنے اونچے اونچے اسٹول پر لوگ مے نوشی اور گپ شپ میں مصروف ہوتے۔ سگریٹ کا دھواں اور ہلکی ہلکی ’ کم سپٹمبر‘ کی موسیقی سماں باندھ دیتی ۔یہ سب کچھ ابن صفی کے کسی جاسوسی ناول کا حصہ معلوم ہوتا ۔ اوپن بارز کے علاوہ ’وائن اسٹورز‘ بھی ہوتیں جہاں سے قسم کا مغربی مشروب بآسانی خریدا جاسکتا تھا اکثر وائن اینڈ فارمیسی ایک ساتھ ہی ہوتی۔ ایک طرف شیلف میں دوائیں دوسری طرف کے شیلف میں مئے گلفام ہوتی۔ شام کو اکثر حضرات اخبار میں لپٹی بوتل بغل میں دابے نکلتے دکھائی دیتے ۔ اس آزادی کے باوجود کبھی کسی کو بدمست لڑھکتے نہیں دیکھا ۔ لوگ یا تو اپنے مخصوص بارز میں مے نوشی کرلیتے یا بوتل گھروں کو لیجاتے ۔

ان بارز اور وائن اسٹورز کے علاوہ شہر میں بہت سے نائٹ کلبس بھی تھے۔ اکسیلشئیر ۔ لیڈو۔ تاج۔ روما شبانہ اور ہارس شو مشہور کلب تھے جہاں یورپ اور دوسرے ملکوں سے ٹروپے بھی آتے اور مقامی رقاصائیں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتیں ۔ کلب میں ڈانس فلور پر خواتین اور مرد والز، چاچا چا اور ٹوئسٹ کرتےنظر آتے ۔ رقص و سرود کی محفلیں رات گئے تک جاری رہتیں۔ ایک مصری رقاصہ سمیعہ گمال اپنے کیبرے کے لیے بہت مشہور ہوئیں۔ شام کے اخباروں میں ان رقاصاؤں کی تصاویر اور کلب کے پروگرام کی تفصیلات ہوتیں ۔

سینٹ جوزف اور سینٹ پیٹرکس اسکول کے اطراف میں گوانیز زیادہ آباد تھے ۔ اکثر دیکھا نوجوان لڑکے لڑکیاں ٹولیوں میں بیٹھے گٹار کی دھن پر انگریزی گانے گا رہے ہیں ، ان کے ہاتھوں میں بئیر کی بوتلیں بھی نظر آتیں . ادھیڑ عمر کی خواتین اسکرٹ پہنے اپنے صاحب کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چہل قدمی کرتے نظر آتے یا کبھی وکٹوریہ پر شام کی سیر پر کلفٹن کی طرف جاتے دکھائی دیتے۔ کچھ لوگ اس علاقے کو بلیک پیرس بھی کہتے۔ ان گوانیز لڑکے لڑکیاں کے مختلف بینڈ بھی ہوتے اور وہ شام اور رات کو مختلف ہوٹلز اور نائٹ کلب میں لائیو بجاتے اور گاتے ۔ بیٹلز ، ایلوس پریسلے، فرینک سناترا کے گانے سنے اور پسند کیے جاتے۔ اس علاقے میں بھی کئی بار تھے لیکن ذرا کمتر درجے کے وہاں اکثر اسی محلے کے لوگ ہوتے ،تیز میوزک بجتی اور خوب غل غپاڑہ ہوتا ۔ وہیں قریب فلیٹ کلب میں تمبولا بھی ہوتا اور بلئیرڈ بھی کھیلا جاتا ۔

صدر ہی میں ریکس ، ریو ۔ کیپیٹل ،پیراڈائز ،بمبینو، لیرک سنیما تھے اور پیلس کا تو جواب نہیں اسے ہائی جنٹری سنیما سمجھا جاتا۔ ان سب میں انگریزی فلمیں چلا کرتیں ۔ میں نے یہیں لا تعداد امریکن کاؤ بوائے فلمیں ، دوسری جنگ عظیم پر بنی فلموں کے علاوہ ہالی وڈ کی کلاسک فلمیں دیکھیں لیکن جو مزہ پیلس سنیما میں جیمز بونڈ سیریز کی پہلی فلم ’ڈاکٹر نو‘ دیکھ کر آیا وہ آج بھی یاد ہے ۔ اسی فلم کے بعد جیمز بونڈ کا کردار امر ہوگیا ۔ ایان فلمنگز کی اس کے بعد بہت سے فلمیں آئیں لیکن جو کامیابی’ ڈاکٹر نو ‘ اور ’فرام رشیا ود لو ‘ میں تھی وہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی ۔ گنز آف نیورون لیرک میں اور قلوپطرہ بمینو سنیما میں کھڑکی توڑ رش لے رہی تھیں ۔ ٹکٹ بلیک میں ملتے اور لوگ ٹکٹ کے لئے صبح سے لائن لگا لیتے۔

اس زمانے میں سی ویو وغیرہ تو تھا نہیں ۔ شوقین حضرات اور جوڑے شام کے وقت اولڈ کلفٹن چلے جاتے اور مزے کرتے نہ انہیں پولیس تنگ کرتی اور نہ ہی ان کا نکاح نامہ مانگا جاتا ۔

کینٹ اسٹیشن کے قریب کراچی ریس کورس تھا جہاب بدھ اور اتوار کو ریس ہوتی اس کے علاوہ پچیس دسمبر کو قائد اعظم گولڈ کپ اور ڈربی ہوتی۔ ریس کے دن رسیا دوپہر سے ہی کیفے جارج اور صدر کے دوسرے ریسٹورنٹس میں ریس کی کتاب میں کھوئے رہتے اور اپنی اپنی پسند کی ریس اور گھوڑوں پر بیٹنگ کے لیے تیاری کررہے ہوتے۔ جیک پاٹ ،ون اور پلیس پر بازیاں لگتیں، ریس کورس میں ایک افراتفری اور گہما گہمی ہوتی۔ ہر ایک بکیز کے کاؤنٹر پر رقم لگا رہا ہوتا۔ وہاں ریس کے وقت کوئی کسی کو نہیں پہچانتا ۔ اگر کوئی شناسا مل بھی جائے تو اس سے پہلا سوال یہی ہوتا کس پر کتنا لگایا۔ ون یا پلیس پر یا جیک پاٹ پر ۔ ریس شروع ہوتی تو لوگ دیوانہ وار اپنے گھوڑے اور جاکی کو بک اپ کرتے اور ختم ہونے پر فوٹو فنش کا انتظار کرتے۔ ہر طبقے کے لوگ نظر آتے ۔ امیر غریب، فلمی ستارے سب ہی مل کر شور مچاتے ۔ کچھ تو لٹا کے واپس آتے اور کوئی جیب بھر کر لوٹتا ۔

شہر میں سیاح اور سی مینز کثرت سے آتے ۔ صدر اور اس کے اطراف میں ہینڈی کرافٹس اور لیدر جیکٹ کی دوکانوں پر وہ جوق در جوق نظر آتے ۔ ہپی بھی کثرت سے نظر آتے ۔ اس زمانے تک ہیروئن متعارف نہیں ہوئی تھے یہ ہپی ’دم مارو دم ‘ پر ہی گزارہ کرتے ۔ شہر میں جرائم نہ ہونے کے برابر تھے ۔ اکثر لوگ بسوں اور رکشہ میں سفر کرتے لیکن اس میں بھی ایک سلیقہ ہوتا ۔

جیب خالی بھی ہو تو شام کو صدر کا ایک چکر لگا لیں طبیعت بحال ہوجاتی تھی ۔ اکثر حضرات ٹولیوں میں کیپٹل سنیما کی گلی اور کوآپریٹیو مارکیٹ کے کونے میں لگی ریلنگ کے سہارے کھڑے خوش گپیوں میں مصروف رہتے ۔ یا الفنسٹن اسٹریٹ جسے پیار سے’ الفی‘ کہا جاتا ایک چکر لگا لیتے ۔ بعد میں الفی کو مشرف بااسلام کردیا گیا اور یہ زیب النسا اسٹریٹ ہوگئی اسکے باوجود اس سڑک سے اہل کراچی کا پیار کم نہیں ہوا اور اسے ’زیبی‘ کا نام دے دیا۔ الفنسٹن اسٹیٹ پر شام ہوتے ہی رنگ برنگی روشنیاں اور نیون سائن جگمگانے لگتے اور عجیب ہی سماں ہوتا اسی کو روشنیوں کا شہر کہا گیا ۔

اور تو اور ویک اینڈ پر’ کراچی بائی نائٹ ہوتی ۔ کراچی ایرو کلب سے چھوٹے سیسنا طیارے اڑتے اور لوگ کچھ ٹکٹ دے کر کراچی پر رات کو نیچی پرواز کرتے اور ” کراچی بائی نائٹ ” سے لطف اندوز ہوتے ۔ گلشن میں واقع ایرو کلب سے شام کو گلائیڈر بھی اڑتے ۔ وہیں قریب میں ایک ریٹائرڈ گوانی میجر کا سوئمنگ پول تھا جہاں چھوٹے چھوٹے ہٹ بھی موجود تھے۔ گوانیز لڑکے اور لڑکیاں وہاں آتے اور سوئمنگ کرتے ۔ ان کی ٹولیاں گٹار پر گاتے بجاتے اور ہلہ گلہ کرتے ۔ ہم بھی اکثر وہاں سوئمنگ کرنے جاتے اور ان سے گھل مل جاتے ۔ مخصوص لوگوں کے لیے وہیں سے سوا پانچ روپے کی لندن لاگر بئیر کی بوتل بھی فراہم ہو جاتی۔لیکن کبھی کوئی بد مزگی دیکھنے میں نہیں آئی۔ آج اسی جگہ عابد ٹاؤن ہے ۔ ایرو کلب اب شادی لان میں تبدیل ہوکر ختم ہوگیا ۔اب وہ شام کو گلائیڈر کے نظارے صرف ایک یاد بن کر رہ گئے۔

ہائے کیسا تھا میرا کراچی ۔ کتنے روشن خیال لوگ تھے کیسا تحمل اور برداشت تھا ۔ کیسے کیسے با علم اور وضع دار لوگ تھے جنہوں نے مل جل کر اس شہر کو روشنیوں کا شہر بنایا اور بین الاقوامی پہچان دے۔ اب جب کبھی صدر یا اس کے اطراف میں جانا ہوتا ہے تو دل سے ہوک اٹھتی ہے ۔

لگتا ہی نہیں یہ وہی شہر ہے جو میں نے اپنے لڑکپن اور جوانی میں دیکھا تھا ۔ جہاں کتنی ہی شامیں گزاریں اور کتنی راتیں خاموش سڑکوں پر بے مقصد مٹر گشتی کیں۔ کیسی کیسی تفریح میسر تھیں۔ سب بدل گیا لگتا ہے اس شہر کو نظر لگ گئی۔ ہر طرف گندگی کے ڈھیر ،بے ہنگم اور شور مچاتا ٹریفک ۔ لوگوں کے چہروں پے وحشت اور مزاج تنک ۔ انتہا پسندی ہر سو طاری ہے، کوئی کسی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ شہر میں مقامی اور پرانے باسیوں کی جگہ نئے چہرے نظر آتے ہیں جنہیں یہاں کی روایات اور کلچر سے کوئی دلچسپی نہیں۔

پرانی خوبصورت عمارتیں گرائی جارہی ہیں انکی جگہ کنکریٹ کا جنگل اگ رہا ہے۔ سمندر کی لہریں جو کبھی گزری اور کلفٹن تک آجا یا کرتی ہیں دھکیل کر پیچھے کردیا گیا اور لینڈ مافیا نے سمندر سے زمین چرالی اور نئی بستیاں بسالیں ۔ مینگروز ختم کردئیے گئے جس کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوا اور وارمنگ بڑھی اور ہر سال اس میں اضافہ ہورہا ہے۔ مسجدیں اور مدرسے تو بڑھ گئے اور لوگ بھی بظاہر زیادہ دیندار ہوگئے لیکن معاشرے میں جرائم میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ برداشت ختم ہوگئی اور دیانتداری مفقود ۔ جلدی امیر بننے کی دوڑ میں ہم تہذیب اور شائستگی میں کہیں بہت پیچھے چلے گئے ۔

میں شاید ماضی کا قیدی ہوں اور آج بھی اپنے۔۔۔۔۔ ’ گذشتہ کراچی‘کا نوحہ پڑھ رہا ہوں ۔ کاش میں اپنے بچوں کو اپنا وہی شہر دکھا سکتا جو میں نے دیکھا تھا ۔۔

 

Facebook Comments
انوار احمد

انوار احمد

انوار احمد کا تعلق کراچی سے ہے اور ان دنوں امریکا میں مقیم ہیں ۔ علم و ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں اور اپنی تحاریر میں متفرق موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان سے مندرضہ ذیل ای میل ایڈریس کے ذریعے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ [email protected]

بلاگر کے مزید بلاگ پڑھنے کے لیے کلک کریں


Facebook

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اس خبر کو لائیک یا شیئر کرنے اور مزید خبروں تک فوری رسائی کے لیے ہمارا اور وزٹ کریں



نوٹ: اے آروائی نیوزکی انتظامیہ اور ادارتی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں ناظرین تک پہنچے تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 700 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: [email protected] آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔