The news is by your side.

ایران کی کامیاب ڈپلومیسی اورامریکا

اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر حسن روحانی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹرش سے ملاقات کی اس ملاقات کے دوران ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کے ساتھ ایران کے جوہری معاہدے پر ان کی جانب سے مکمل عمل درآمد جاری ہے جبکہ امریکہ نے اس عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے سبوتاژکرنے کی کوشش کی ہے بالآخر امریکہ کو اپنی اس فاش غلطی کا احساس ہو کر چار وناچار پھر سے معاہدے کا حصہ بنے گا۔

ایرانی صدر کایہ بھی کہنا تھا کہ ایران اور عالمی برادری کے درمیان جوہری معاہدہ ایک عالمی معاہدہ ہے جس کو سیکیورٹی کونسل کے قرار داد نمبر 2231 کے تحت تائیداقوام متحدہ تائید حاصل ہے، اقوام متحدہ کی طرف سے اس معاہدے کی حمایت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

اس موقع پرا یرانی صدر نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کو عالمی معاہدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے اپنا بھر پورآئینی کردار ادا کرنا ہوگا ایرانی صدر نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کےسامنے دو ٹوک موقف رکھتے ہوئے کہا کہ امریکہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرکے قوام متحدہ کے عالمی کردار کو کمزور کرنے کے خواہاں ہے ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو مشرق وسطی میں موجود امریکی فوج سے الجھنے کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر تمام تر مسائل کو پرامن اور باعزت طرقہ سے حل کرنا چاہتے ہیں ۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خطے میں ایران کے مثبت کردار کی تعریف کی اور کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کو واپس مڑنا درست فیصلہ نہیں تھاکیونکہ اس معاہدے کو سیکیورٹی کونسل کی حمایت حاصل ہے ۔ سیکرٹری جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ اقوام متحدہ ایران پر عاید کی جانے والی پابندیوں کے بھی مخالف ہے ، ٹھیک اسی وقت چینی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بیجنگ میں پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا ایٹمی معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کو اقوام متحدہ کی تائید وحمایت حاصل ہے اس معاہدے سے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے فرع میں مدد ملی ۔

ایک ایسے وقت میں جبکہ امریکہ کی جانب سے ایران پر پابندیاں عائد کی جارہی ہے اور سال رواں کے آخر میں مزید اقتصادی وسفارتی پابندیوں کا امکان ہے تو ایسے وقت میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا ایران کی حمایت اس امر کا غماز ہے کہ ایران نے عالمی برداری سے کئے گئے معاہدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ میں بھی کامیابی سمیٹ رہی ہے جس کی وجہ سے چند برس قبل عالمی تنہائی کا شکار ایران اب دنیا کے سامنے سرخرو ہورہے ہیں ۔ بین الاقوامی امور کی اپنی ڈائنامکس ہوتی ہے دنیا میں نہ کوئی مستقل دشمن ہوتا ہے اور نہ ہی مستقل دوست۔ بلکہ عالمی سیاست دوستی ودشمنی سے مبراء مفادات کا مجموعہ ہے، تاہم پاکستانیوں کو اس بات کو سمجھنے میں کافی وقت درکار ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں