The news is by your side.

سرخ پھول اورسبزٹہنی

ڈاکٹرشاکرہ نندنی


اِسمتھ ايک بہت پيارا چھ سال کا ذہين بچہ تھا۔ اس کے ماں باپ نے اسے ايک بہت بڑے سکول ميں پہلی کلاس ميں داخل کروايا۔ اس کو ڈھيرساری سيڑھياں چڑھ کرلمبےبرآمدےميں سےگزرکرآخری سرےپربنے ہوئےکلاس روم ميں جاناپڑتاتھا۔ چھوٹا ساتھا، تھک جاتاتھا ليکن اسےسکول جانا اچھا لگتا تھا۔

کچھ دنوں بعد اس کی کلاس ٹيچر نے کہا کہ آج پہلے ہم ڈرائنگ کريں گے اور پھر اس ميں رنگ بھی بھريں گے۔ يہ سن کر اِسمتھ بہت خوش ہوا ۔ اسے ڈرائنگ بہت پسند تھی ۔ اسے شير ، چيتا ، گائے، مرغياں، ٹرين اورکشتی کی ڈرائنگ بنانابہت اچھا لگتا تھا۔ اس نے فورا” اپنی رنگين پينسلوں کا ڈبہ بيگ سے نکالا اور ابھی ڈرائنگ بنانی شروع کرنے ہی لگا تھا کہ ٹيچر کی آواز آئی۔ ” ويٹ ، ابھی ڈرائنگ شروع نہيں کرنی ۔” وہ ايک دم رک گيا ۔ ٹيچر نے سب کی طرف ديکھا اور بولی “ہم پھول بنائيں گے ۔” اِسمتھ دل ميں بہت خوش ہوا کيونکہ اسے گلابی ، اورنج اور نيلے رنگوں کے خوبصورت پھول بنانا بہت اچھا لگتا تھا ۔ اس نے صفحے پر فورا” ايک پھول کی تصوير بنائی ابھی رنگ شروع کرنے ہی لگا تھا کہ ٹيچر کی دوبارہ آوازآئی ” ليکن ميں آپ کو بورڈ پر بنا کر دکھاتی ہوں کہ کيسا پھول بنانا ہے۔ ” اس نے بورڈ پر ايک لال پھول بنايا جس کی ٹہنی سبز تھی اور بولی ” اب تم لوگ بھی بالکل ايسا ہی پھول بناؤ۔ “

اِسمتھ نے اپنی ڈرائنگ کاپی کی طرف ديکھا جس پر وہ پھول بنا چکا تھا ليکن ابھی رنگ نہيں بھرے تھے اور پھر ٹيچر کے پھول کو ديکھا ۔ اسے اپنا بنايا ہوا پھول زيادہ اچھا لگا ۔ ليکن اس نے ٹيچر کو کہا کچھ نہيں، بس نيا صفحہ نکالا اورويسا ہی پھول بنا ديا جيسا ٹيچر نے بورڈ پر بنايا تھا۔ايک لال پھول جس کی ٹہنی سبز تھی ۔

کچھ دنوں کے بعد ٹيچر نے کہا کہ آج ہم مٹی سے کچھ چيزيں بنائيں گے ۔ يہ سن کر وہ بہت خوش ہوا۔ اسے مٹی سے کھيلنا اچھا لگتا تھا اور وہ اس سے سانپ ، کيچوا، ہاتھی ، شير اور کئی دوسرے جانور بہت اچھے بنا ليتا تھا ۔ جونہی اسے اس کا حصہ ملا ، اس نے فورا” جانور بنانے شروع کر ديے ۔ “رکو” اتنے ميں ٹيچر کی آواز آئی ۔ وہ ايک دم باقی بچوں کی طرح اِسمتھ بھی ٹيچر کی طرف متوجہ ہو گيا ۔” ہم آج اس مٹی سے پليٹ بنائيں گے ۔” اِسمتھ نے سوچا چلو مختلف قسم کی پليٹيں بناتا ہوں ۔ کوئی بڑی ، کوئی چھوٹی ، کوئی گہری ، کوئی بالکل فليٹ ۔ اس نے سب بنے ہوئےجانوروں کودوبارہ مٹی کاايک ڈھيربناديااورپليٹوں کی مختلف قسميں بنانےلگا۔ اتنے ميں ٹيچرکی آواز آئی” ليکن ميں اب آپ کو دکھاتی ہوں کہ آپ نے کونسی پليٹ بنانی ہے۔ ” اس نے مٹی کی ڈھيری اٹھائی اور اسے ايک گہری پليٹ کی شکل دےدی۔” اب آپ سب بھی ايسی ہی پليٹ بنائيں” ٹيچر نے کہا ۔

اِسمتھ نے ٹيچر کی بنائی ہوئی پليٹ کی طرف ديکھا اور اپنے سامنے رکھی ہوئی اپنی بنائی ہوئی پليٹوں کی طرف ديکھا ۔ اسے اپنی بنائی ہوئی پليٹيں زيادہ اچھی لگيں ليکن اس نے کچھ نہيں کہا اور ان سب پليٹوں کو دوبارہ مٹی کی ڈھيری ميں تبديل کر ديا ۔ پھر جس طرح ٹيچر نے پليٹ بنائی تھی ، چپ چاپ ويسی ہی پليٹ بنا لی۔

آہستہ آہستہ اسے ٹيچر کی بات سننا ، ماننا ،اپنی باری کا انتظار کرنا ، اور دھيان اور توجہ سے اپنا کام کرنا آ گيا ليکن خود سے سوچنا اور خود سے کچھ کرنا، لکھنا يا بنانا بالکل ہی بھول گيا ۔

کچھ ہی عرصے بعد اِسمتھ کے والد کا ٹرانسفر دوسرے شہر ہو گيا ۔ وہاں اِسمتھ کو پہلے سے بڑے سکول ميں داخلہ مل گيا ۔ جس کی سيڑھياں بھی پہلے سے زيادہ تھيں اور برآمدہ بھی بہت لمبا تھا جس کے آخری سرے پر اس کا کلاس روم تھا ۔ چھوٹا سا تھا ، تھک جاتا تھا ليکن اسے سکول جانا اچھا لگتا تھا۔

پہلے ہی دن نئی ٹيچر نے کہا کہ ” آج ہم پہلے ڈرائنگ کريں گے پھر اس ميں رنگ بھريں گے۔ ” وہ انتظار کرنے لگا کہ ٹيچر بتائےکہ انہوں نے کياڈرائنگ بنانی ہے اور کون سے رنگ کرنے ہيں؟ ليکن ٹيچر نے مزيد کچھ نہيں کہا اور کلاس ميں اِدھراُدھرچکرلگانےلگی ساتھ ساتھ بچوں سے ہلکی پھلکی باتيں بھی شروع کرديں۔

وہ چلتے چلتے اس تک پہنچی تو اسے فارغ بيٹھا ديکھ کر بولی ” تم نے ابھی تک ڈرائنگ شروع نہيں کی؟”” نہيں ، مجھے کس چيز کی ڈرائنگ بنانی ہے ؟” اِسمتھ نے پوچھا”جو تمہارا دل چاہے،” ٹيچر بولی۔ “کيسے بناؤں” ؟ اس نے دوبارہ پوچھا، “جيسے تمہارا دل چاہے” ٹيچر نے کہا۔”ليکن اس ميں کون سے رنگ بھروں ؟” اب اِسمتھ نے دوبارہ حيران ہوتے استفسار کيا۔ “جو تمہيں پسند ہوں ” ٹيچر نے جواب ديااور اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی ” اگر ميں بتاؤں کہ سب کيسی تصويربنائيں اورکون سےرنگ بھريں توسب کی تصويرتقريبا” ايک جيسی بنےگی، توکيسےپتاچلےگاکہ کس نےکونسی تصويربنائی ہےاورجب ديوارپرلٹکائيں گے توسب ايک جيسی اچھی نہيں لگيں گی ۔ سب مختلف ہوں گی تو سب ايک دوسرے کی تصوير شوق سے ديکھيں گے بھی اور کلاس روم بھی اچھا لگے گا۔

چلو شاباش اب تم ڈرائنگ شروع کرو” يہ کہہ کر ٹيچر آگے بڑھ گئی ۔ اِسمتھ نے پينسل اٹھائی اور ميکانکی انداز ميں کاغذ پر ايک پھول کی تصوير بنائی۔ اور پھر اس ميں رنگ بھرنے لگا۔ ايک لال پھول جس کی ٹہنی سبز تھی ۔

 

Facebook Comments
ڈاکٹر شاکرہ نندنی

ڈاکٹر شاکرہ نندنی

ڈاکٹر شاکرہ نندنی لاہور میں پیدا ہوئی تھیں اِن کے والد کا تعلق جیسور بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) سے تھا اور والدہ بنگلور انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آئیں تھیں اور پیشے سے نرس تھیں شوہر کے انتقال کے بعد وہ شاکرہ کو ساتھ لے کر وہ روس چلی گئیں تھیں. شاکرہ نے تعلیم روس اور فلپائین میں حاصل کی۔ سنہ 2007 میں پرتگال سے اپنے کیرئیر کا آغاز بطور استاد کیا، اس کے بعد چیک ری پبلک میں ماڈلنگ کے ایک ادارے سے بطور انسٹرکٹر وابستہ رہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سویڈن سے ڈانس اور موسیقی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اور اب ایلائیٹ لزبن ماڈل ایجنسی، پُرتگال میں ڈپٹی ڈائیریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں.

بلاگر کے مزید بلاگ پڑھنے کے لیے کلک کریں


Twitter

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اس خبر کو لائیک یا شیئر کرنے اور مزید خبروں تک فوری رسائی کے لیے ہمارا اور وزٹ کریں



نوٹ: اے آروائی نیوزکی انتظامیہ اور ادارتی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں ناظرین تک پہنچے تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 700 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: [email protected] آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔