The news is by your side.

روح کا زخم

وہ سامنے کھڑی تھی، پھٹے ہوئے بلاؤز اور میلی سی اسکرٹ پہنے ہوئے، مگر اس کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔ ابھی وہ کمسن تھی، مگر اس کے ہونٹوں پر لگی گہری لپ اسٹک نے مجھے روک لیا۔

میں نے اپنے دل میں اس سے سوال کیا، تم کیا چاہتی ہو؟ مگر اس سوال کے جواب میں، اپنے معصوم ہاتھوں سے اس نے اپنی آنکھوں کو ڈھانپ لیا۔ وہ کوری تختی کی طرح بالکل صاف ، آنکھوں میں چھپے آنسووں کی طرح شفاف تھی، حیران کردینے والے جذبات سے بہت دور، اپنے ہاتھوں میں تھامی ہوئی گڑیا کی طرح چپ!میں اپنے راستے کی طرف آگے بڑھ گئی، مگر ابھی تک میرے اندر مختلف جذبات کے درمیا ن سرد و گرم چل رہی تھی۔

اخبارات کی کئی سرخیاں، کٹی پھٹی لاشوں کی صورت میرے سامنے گر رہی تھیں، اس سب لاشوں کے درمیاں اس بچی کی بھی لاش تھی، جو گھر سے جِم کے لئے نکلی تھی تو ایک سیاہ ہاتھ نے اسے اندھیرے کی طرف دھکیل دیا تھا ، خواہشوں کے بھوکے جنگل میں دور تک اس کے معصوم جسم کوگھسیٹا جاتا رہا، یہاں تک کے اس کی آنکھوں میں روشن تمام ستارے ایک ایک کر کے بجھ گئے تو اس کےمعصوم بے روح جسم کو کانٹوں کی طرف اچھال دیا۔

دکھ اور درد سے بھر ے دل کے ساتھ آگے بڑھتی رہی کیونکہ اس کی روح کے زخم کو میں بہتر سمجھ سکتی تھی، میں بھی سیاہ ہاتھوں سے کئی بار اندھیروں میں دھکیلی گئی تھی۔

Facebook Comments
ڈاکٹر شاکرہ نندنی

ڈاکٹر شاکرہ نندنی

ڈاکٹر شاکرہ نندنی لاہور میں پیدا ہوئی تھیں اِن کے والد کا تعلق جیسور بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) سے تھا اور والدہ بنگلور انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آئیں تھیں اور پیشے سے نرس تھیں شوہر کے انتقال کے بعد وہ شاکرہ کو ساتھ لے کر وہ روس چلی گئیں تھیں. شاکرہ نے تعلیم روس اور فلپائین میں حاصل کی۔ سنہ 2007 میں پرتگال سے اپنے کیرئیر کا آغاز بطور استاد کیا، اس کے بعد چیک ری پبلک میں ماڈلنگ کے ایک ادارے سے بطور انسٹرکٹر وابستہ رہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سویڈن سے ڈانس اور موسیقی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اور اب ایلائیٹ لزبن ماڈل ایجنسی، پُرتگال میں ڈپٹی ڈائیریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں.

بلاگر کے مزید بلاگ پڑھنے کے لیے کلک کریں


Twitter

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اس خبر کو لائیک یا شیئر کرنے اور مزید خبروں تک فوری رسائی کے لیے ہمارا اور وزٹ کریں



نوٹ: اے آروائی نیوزکی انتظامیہ اور ادارتی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں ناظرین تک پہنچے تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 700 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: [email protected] آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔