The news is by your side.

جمہوریت خطرے میں یا کرپٹ شکنجے میں؟

صرف دس دن پہلے یہ بیان دینے والے خورشید شاہ کہ حکومت کو مدت پوری کرنی چاہیے اور اگر مدت نہ پوری کرنے دی گئی تو ملک تباہ ہوجائے گا آج وہ اس حکومت کو ملک کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ پارلیمان کے لیے اور جمہوریت کے لیے قربانیاں دینے کے دعوےدار میثاق جہموریت کرنے کے علمبردار اور دھرنے میں نواز شریف کی حکومت کو بچانے والی سرکار اور الیکشن کے بعد دھاندلی کے الزامات پر مولانا کے موقف کہ پارلیمنٹ جاکر حلف نہ لینے کی نفی کرنے والے آصف زرداری جوکہتے تھے کہ جنت میں بھی میاں صاحب کے ساتھ نہیں جاؤں گا، جو کہتے تھے کہ مجھے سے ملاقات کرنے کے دس پیغامات نواز شریف بھیج چکے ہیں ،جو کہتے تھے کہ نواز شریف گریٹر پنجاب بنانا چاہتے ہیں ،جن کی نظر میں میاں صاحب سکیورٹی رسک ہوچکے تھے آج وہ ہی موجودہ حکومت کو ختم کرنے کے لیے تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر قرارداد لانے کی باتیں کر رہے ہیں۔

دوسری طرف مولانا جو شاید تاریخ میں پہلی بار وفاق اور صوبوں سے فارغ ہوئے ہیں ، اندرون خانہ پھر بھی موجودہ حکومت کے خلاف سب جماعتوں کو ایک پلٹ فارم پر لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ مولانا جنھوں نے وردی میں آمر کو ووٹ ڈالا ،ساتھ دیا ، اس ایم ایم اے کی سربراہی کی جس کی داغ بیل اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد پر ڈالی گئی تھی ۔ا ن کو آج ہر موڑ ،ہر زاوئیے سے سازش ہوتی نظر آرہی ہے۔

وہ نواز شریف جو کل تک کہتے تھے کہ پی پی پی اور بنی گالہ ہم نوالہ ہم پیالہ اور جو کہتے تھے کہ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دورخ ہیں جو کہتے تھے کہ اگر پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالا تو وہ پی پی پی کو جائے گا، وہ نواز شریف جو کہتے تھے کہ زرداری ملک کولوٹ کر کھا گیا ہے ،وہ جو کہتے تھے کہ انھوں حاجیوں کا پیسہ بھی نہیں چھوڑا ، وہی نواز شریف آج آصف زرداری کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور انھیں کے بھائی شہباز شریف جو کہتے تھے کہ سڑکوں پر گھسیٹوں گا ان سے لوٹی ہوئی دولت پیٹ چیر کر نکالوں گا ، وہ بھی اس بیان پر بر وقت معافی مانگ چکے تھے اور اس معافی کے بعد پھر سے مصمم ارادہ کرچکے تھے کہ اگر الیکشن میں ووٹ دیا تو لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے وہ ایک بار پھرآصف زرداری کے سامنے پشیمان ہونے کو تیار ہوں گے اور تو اور حمزہ شہباز نے آج ہی کہا کہ ملک کے لیے آصف زرداری کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔

یہ اچانک سب کو ہوا کیا؟؟ کیوں ماضی کے بیانات پر گرد بھی نہ جمنے پائی تھی کہ نوبت معافی تلافی سے لےکر ملاقاتوں تک اور اس سے آگے ساتھ مل کر چلنے کی قسموں تک پہنچ گئی؟؟؟۔

یہ ہیں کرپشن کے وہ الزامات جو دہایئوں سے لگتے چلے آرہے ہیں اور ان میں سے کچھ نئے بھی ہیں، ان میں سے بعض الزامات پر این ار او کی مہر ہے اور بعض پر جسٹس قیوم سے مرضی کے فیصلے لینے کی سیاہ تاریخ۔۔بعض میں قربانی کا بکرا سیف الرحمن کو بنایا گیا اور بعض میں نیب کو ڈرا دھمکا کر مرضی کے فیصلے لیے گئے کچھ ایسے بھی ہیں جن میں وکلاء سے زیادہ ججوں سے کام لیا گیا مگر یہ سب ماضی بعید ہے۔

اب سب کچھ بدل رہا ہے اب شکنجہ کستا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔اب سسٹم کے خطرےمیں ہونے کی باتیں سنائی دیں گی۔جمہوریت بھی رسک پر نظر آئے گی۔کچھ قوتوں کی طرف سے سازش ہوتی بھی دکھائی دے گی۔پارلیمان کا تقدس بھی پامال ہوتا اور پارلیمان کی بالادستی ختم ہوتی نظر آئے گی۔ کچھ نام نہاد لبرلز کو لگے گا کہ ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے تو کچھ بنیاد پرستوں کو اسلام خطرے میں دکھائی دے گا۔

موجودہ حکومت کو اگر اس قسم کے خطرے نظر نہ آئے تو وہ بلا دھڑک اور بلا امتیاز یہ سب کرنے میں مدد کرے گی اور اگر وزیر اعظم کو بھی جمہوریت خطرے میں نظر آنا شروع ہوگئی ، یا حکومت کا بوریا بستر گول ہوتا دکھائی دیا ،یا حکومت کی فکر کی کہ کہیں چلی نہ جائے تو سب کچھ بچ جائے گا یہ سیاستدان بھی، یہ سسٹم بھی، پارلیمان کی بالادستی بھی کیونکہ ماضی میں بھی ایسے ہی بچتے آئے ہیں اگر کچھ نہیں بچے گا وہ ہوگا وزیر اعظم کا نام اور وزیر اعظم کی پارٹی۔

 

Facebook Comments
ظہیر احمد

ظہیر احمد

ظہیر احمد صحافی ہیں اور ایک کرنٹ افیئر پروگرام کے پروڈیوسر ہیں ‘ پانچ سال سے مختلف موضوعات پربلاگنگ کررہے ہیں

بلاگر کے مزید بلاگ پڑھنے کے لیے کلک کریں


Twitter

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اس خبر کو لائیک یا شیئر کرنے اور مزید خبروں تک فوری رسائی کے لیے ہمارا اور وزٹ کریں



نوٹ: اے آروائی نیوزکی انتظامیہ اور ادارتی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں ناظرین تک پہنچے تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 700 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: [email protected] آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔