The news is by your side.

امریکا کی اپنی بقا کے لیے انتہائی خطرناک چالیں

امریکا ابھی بھی اس سیڑھی سے نیچے نہیں اتر رہا جس پر وہ کھڑا ہو کر ساری سے دنیا اونچا ہو جاتا تھا ، گزشتہ کئی دہائیوں سے وہ دنیا پر اپنی معاشی ،دفاعی طاقت کے بل بوتے پر حکمرانی کرتا آیا ہے، لیکن موجودہ صورت حال یہ ہے کہ جس سیڑھی کو وہ بلند تصور کر رہا ہے وہ چھوٹی ہو گئی ہے اوراب امریکا کے برابر چین پہنچ چکا ہے، دوسری طرف روس دوبارہ اس قابل ہو چکا ہے کہ وہ امریکا کے سامنے دیوار بن سکتا ہے۔ امریکا کی معیشت کا تو ڈھول مسلسل بج رہا ہے کہ دن بدن خزانے کم ہو رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیسے معیشت کو اوپر لائے اور دنیا پر امریکا کی اجارہ داری کو بھی برقرار رکھے، اب امریکا ماضی میں ہونے والے معاہدوں کو توڑنے جیسے کارڈ کھیل رہا ہے۔ امریکا نے سب سے پہلے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو توڑا اس کے بعد ایران پر مراحلہ وار پابندیاں عائد کیں، اب معاہدے توڑنے میں امریکا نے روس کا نمبر لگا دیا ہے۔

گزشتہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ نے روس کے ساتھ ہونے والے ایک تاریخی معاہدے انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلئیر فورسز ٹریٹی (آئی این ایف) سے دستبرداری کا اعلان کیا ، یہ معاہدہ طویل رینج کے کروز میزائل کے بنانے کے متعلق تھا یہ معاہدہ 1987 میں امریکا اور روس کے درمیان طے پایا تھا جس پر امریکی صدر رونلڈ ریگن اور سوویت رہنما میخائل گورباچوف نے دستخط کیے تھے۔اس معاہدے کی رُو سے 500 سے 5,500 کلو میٹر تک کے ہدف کے کروز میزائل کے تجربات پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

امریکا کو اب روس اور چین سے گھبراہٹ ہو رہی ہے ، روس تو پہلے ہی امریکا کا دشمن اول رہا ہے، روس امریکا کی طرح اپنے اسلحہ اور میزائل فروخت کے معاہدے بہت سارے ممالک سے کر چکا ہے۔ اس معاہدے سے امریکا کی دستبردار ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے جبکہ دوسری وجہ امریکا کے ہاتھ یہ بہانہ بھی آگیا ہے کہ ایک روسی سیاستدان ولادیمیر زھرینووسکی نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ اگر روس چاہے تو کرہ عرض پر دنیا کا کوئی بھی فوجی طیارہ اڑان نہیں بھرسکتا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے خفیہ میزائل پروگرام کے بارے میں بھی انکشاف کر دیا ۔ اس بیان کے اگلے روز ٹرمپ نے تاریخی معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔

آئی این ایف معاہدے سے دستبرداری کے بعد دونوں ممالک کے درمیان نئی اسلحہ کی دوڑ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ معاہدے سے دستبرداری کے بعد روس کی جانب سے ایک تازہ بیان جاری کیا گیا ہے کہ روس جوہری حملے میں پہل نہیں کرے گا۔، روسی صدارتی دفتر کریملن سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں سے متعلق سمجھوتے سے امریکی دستبرداری دنیا کو مزید خطرے سے دوچار کر دے گی۔ روس نے اپنے اعلامیہ میں یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ خود اس سمجھوتے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

روسی صدارتی ترجمان نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ کے سمجھوتے سے نکل جانے کی صورت میں روس جوہری طاقت کے توازن کو واپس لانے کے لیے اقدامات پر مجبور ہو جائے گا۔ ترجمان نے باور کرایا کہ روس کسی پر بھی حملے میں پہل ہر گز نہیں کرے گا۔بیسکوف نے مزید بتایا کہ اگر امریکا نے درمیانی مار کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق سمجھوتے سے دستبردار ہونے کے بعد نئے میزائل تیار کرنا شروع کیے تو روس اسی طرح جواب دینے پر مجبور ہو جائے گا۔

روس ایک طرف تو یہ کہہ رہا کہ وہ کسی حملے میں پہل نہیں کرے گا، البتہ معاہدہ ختم ہونے سے دو دن قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن نے سوچی میں ولادیائی کلب کے ایک اجلاس کے دوران کہا تھا اگر دنیا کا کوئی ملک روس پر جوہری ہتھیاروں کے ساتھ حملہ کرنے کا فیصلہ کرے تو اس ملک کا یہ اقدام زمین پر زندگی ختم کر دے گا۔

روسی صدر نے مزید باور کرویا کہ کسی جارحانہ اقدام سے پہلے دشمن کو جاننا چاہئے کہ روس پر جوہری حملے کے نتیجہ میں ساری دنیا تباہ ہو جائے گی۔ روسی ایٹمی اصول کسی بھی روایتی تنازعے میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دیتا ہے، لیکن اس وقت اگر روس کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو ممکنہ طور پر روسی فوج کو بڑے پیمانے پر ہونے والے بیرونی حملے کے جواب میں ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلئیر فورسز ٹریٹی یا آئی این ایف میں دونوں ممالک پھر سے معاہدہ بحال کر لیں گے۔ ؟ موجودہ حالات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تلخی زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہے گی البتہ ٹرمپ مزید کڑی شرائط پر کوئی نیا معاہدہ کرنے کو تیار ہو جائیں گے۔ ٹرمپ کی روسی صدر سے ملاقات اسی سال آئندہ ماہ 11 نومبر کو ہونے جارہی ہے جو فرانس کے شہر پیرس میں ہوگی۔ اس قبل بھی امریکی صدر ٹرمپ اور روسی صدر پوٹن کی ملاقات رواں برس 16 جولائی کو فن لينڈ کے دارالحکومت ہيلسنکی ہو چکی ہے۔

اگلے مہینے ہونے والی ملاقات کے بارے امریکہ کے نیشنل سیکیورٹی کے ایڈوائزر جان بولٹن نے کہا کہ گزشتہ روز امریکہ کی جانب سے نیوکلیائی ہتھیاروں کے معاہدہ کو ختم کرنے کے باوجود آئندہ ماہ امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات میں یہ مسئلہ ان کے ایجنڈے پر سرفہرست ہو گا۔ بعدازاں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا کہ روسی حکام سےجامع اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے واضع رہے کہ امریکہ کے نیشنل سیکیورٹی کے ایڈوائزر جان بولٹن آج کل روس کے دورے پرہیں۔ بولٹن روسی صدر کے علاوہ دیگر روسی حکام بشمول روسی وزیرخارجہ سے بھی ملاقات کی ہے۔

بولٹن کے دورہ روس سے دونوں طرف کی گرما گرمی میں کمی ہونے کے امکانات واضع ہو گئے ہیں۔ آئندہ مہینے ٹرمپ اور پوٹن کی ملاقات میں معاہدے کے متعلق مثبت پیش رفت کے امکانات ہیں۔ دونوں ممالک میں مزید تلخی برقرار رہی تو یہ خطرناک ثابت ہوگی، جس سے خطرناک ہتھیار بنانے کی دوڑ پھر سے شروع ہو جائے گی جس سے کررہ ارض تباہی کے دہانے پر کھڑی ہو جائے گی۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں