The news is by your side.

پاکستان کے تعلیمی نظام میں خامی کیا ہے؟ (چھٹی قسط)۔

سرکاری اسکولوں میں لاکھ خرابیاں ہوں لیکن جو ایک بات سب سے اچھی ہے و ہ یہ ہے کہ ان میں بغیر ایک خاص تعلیمی قابلیت اور خاص تعلیمی ڈگری کے ملازمت نہیں ملتی جبکہ اس کے برعکس نجی اسکول اس قانون سے ماورا ءہیں یا کم از کم وہ خود کو ایسا سمجھتے ہیں اور ان کے لیے کوئی ایسے قوانین نہیں بنائے گئے کہ وہ بھی اس سرکاری ضابطے کی پیروی کریں۔

گزشتہ سے پیوستہ

اب تو سرکاری اسکولوں میں کتابیں اور کاپیاں طلبا کو حکومت کی طرف سے مہیا کی جاتی ہیں جیسا کہ مغربی ممالک میں ہوتا ہے خاص طور پر بالکل ابتدائی جماعتیں جنھیں پری اسکولنگ اسٹینڈرڈ کہا جاتا ہے ان جماعتوں میں بچے کو کچھ نہیں لانا ہوتا ہے وہ اپنا بیگ ہی شوقیہ طور پر لٹکا کے لے آتا ہے لیکن اسکول سے متعلق تمام چیزیں جیسے کہ تعلیمی کھلونے، بولنے والی کتابیں، نظموں، اسباق اور کہانیوں وغیرہ کی ویڈیوز، رنگ بھرنے یا دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کام آنے والی ہر ضروری شے کمرہ جماعت میں ہی موجود ہوگی یہ نظام یہاں بھی کئی ان اسکولوں میں ہے جو بہت اعلیٰ درجے کے اسکول ہیں۔

طلبا کو کاپیاں کتابیں حکومت کی طرف سے مہیا تو کی جارہی ہیں لیکن جہاں اس کے کچھ فائدے ہیں وہاں کچھ نقصانات بھی ہیں۔ فائدہ تو اس کا یہ ہے کہ اس طرح غریب بچے بھی بآسانی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں محنت کش اور مزدور طبقے کے وہ لوگ جو روز بروز مہنگی ہوتی ہوئی تعلیم کے سبب اپنے بچوں کو پڑھانے کا خواب پورا نہیں کرسکتے تھے اب ان کے لیے آسانی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں مال ِمفت دل بے رحم والی بات ہے ۔اکثر تو ہوتا یہ ہے کہ ایسے علاقوں میں جہاں کم آمدنی والے غریب طبقے کی آبادی زیادہ ہے وہاں عموماً یہ چیز دیکھنے میں زیادہ آتی ہے کہ اکثر بچے کتابیں کاپیاں سال پورا ہونے سے پہلے ہی ان کے صفحات پھاڑ پھاڑ کے ضایع کردیتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک اور بات جس کا ذکر ضروری ہے وہ یہ کہ نجی اسکولوں میں جو آئےدن فنکشنز اور طرح طرح کے دن منانے کا جو رواج ہے وہ والدین کے لیے بہت تکلیف دہ بات ہے۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ کبھی عالمی سطح پر منائے جانے والے دنوں کے حوالے سے اور کبھی اسکول مالکان کی مرضی سے مختلف انواع کے فنکشنز منعقد کیے جاتے ہیں جن میں طلبا ءکو شرکت کرنے پر اصرار کیا جاتا ہے اور ان فنکشنز اور ”ڈیز “ کے لیے بچوں سے طرح طرح کی فرمائشیں کی جاتی ہیں ۔مثلاً کبھی نیلا پیلا دن منایا جارہا ہے تو بچوں کو اس رنگ کے کپڑے اور چیزیں لانے کو کہا جاتا ہے فنکشن میں جو کردار بچے کو دیا جاتا ہے اس کے مطابق خاص قسم کا لباس منگوایا جاتا ہے جیسے کہ پری، ڈاکٹر یا فوجی وغیرہ اب سوچیے تو ایسے لباس اور اس سے متعلقہ لوازمات ہر وقت تو گھر میں ہوتے نہیں ہیں بازار سے ہی خریدنا پڑتے ہیں ۔

آسان لفظوں میں بلاوجہ کا خرچہ کیوں کہ ایک دفعہ کے بعد وہ کپڑے اور اس کے ساتھ کی چیزیں چونکہ دوبارہ کام نہیں آتیں لہٰذا بیکار ہی ہوجاتی ہیں والدین کی رقم البتہ خرچ ہوجاتی ہے اس بات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ایسے خاص ملبوسات کسی خاص دکان سے خریدنے کی ہدایت کی جاتی ہے جہاں اسکول کا یونیفارم ملتا ہے اب بقیہ کہانی آپ خود بھی سمجھ سکتے ہیں اس کے علاوہ ایک تو ہر مضمون کے لیے ٹیچرز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اپنی جماعت کے طلبا سے پروجیکٹ بنوائیں اور اس کے لیے جو اشیاء درکار ہوتی ہیں وہ طلبا سے منگوائی جاتی ہیں ۔ظاہر ہے مفت میں تو وہ آتیں نہیں چنانچہ مہینے میں والدین کو یہ اضافی خرچے ایک سے زائد بار بھگتنا پڑتے ہیں۔

پھر ایک اور ستم یہ کہ اکثر اسکول بڑے سوشل قسم کے ہوتے ہیں اور طلباکو کبھی کہیں لے کے جارہے ہیں کبھی کہیں جیسے کہ پکنک، کتب میلے یا کسی نوع کی نمائش وغیرہ اور اس کے لیے چونکہ گاڑی کا انتظام کرنا ہوتا ہے تو طلبا اور ٹیچرز سے بھی پیسے لیےجاتے ہیں اگر اس بات پہ اعتراض کیا جائے تو جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس طرح طلبا کی تربیت ہوتی ہے انھیں سماجی میل جول اور اس نوع کی سرگرمیوں سے شناسا کیا جاتا ہے یہاں اگر سوچا جائے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ تعلیمی ادارے تعلیم دینے کے لیے ہونا چاہئیں اور ایک حد تک تربیت بھی دیں ورنہ تو تربیت والدین کا فرض اولیں ہے اور ان کی اہم ترین بنیادی ذمہ داری بھی۔ اگر کوئی اسکول بچوں کو تعلیم کے ساتھ تربیت بھی دیتے ہیں تو والدین کا خرچہ کروائے بغیر بھی یہ کام کیا جاسکتا ہے ۔

یہ وہ ساری غیرضروری باتیں ہیں جن کے باعث ایک متوسط طبقے کا فرد تین چار بچوں کو پڑھانے کا سوچتے ہی اسے اپنی کمر ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے لیکن کہانی بس یہاں تک ہی نہیں ہے ایک اور زیادتی جس پہ کئی سالوں سے شور ہورہا ہے وہ یہ کہ گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس لینا جس کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا اور خاص طور پر دسویں جماعت کے طلبا سے تو دو مہینے کی فیس کا تو قطعی جواز نہیں بنتا اور اگرچہ اس زیادتی کے خلاف سپریم کورٹ تک نے ایکشن لیا لیکن پھر بھی اکثر اسکول اس معاملے میں قانونی احکامات کی پابندی نہیں کرتے ستم بالائے ستم تو یہ کہ اسکول والوں کی دیکھا دیکھی وین مالکان بھی والدین سے گرمی کی چھٹیوں کی دو ماہ کی فیس وصول کرتے ہیں نہ دیں تو دھمکی کسی اور وین کا بندوبست کریں بےچارے والدین یہ ستم بھی برداشت کرتے ہیں کیا کریں آخر بچوں کو پڑھانا بھی تو ہے۔

 

Facebook Comments
کرن صدیقی

کرن صدیقی

کرن صدیقی طویل عرصے سے صحافت اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں ، مختلف جرائد، اخبارات اور ویب سائٹس کے لیے مضامین اور کہانیاں تحریر کرتی ہیں

بلاگر کے مزید بلاگ پڑھنے کے لیے کلک کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اس خبر کو لائیک یا شیئر کرنے اور مزید خبروں تک فوری رسائی کے لیے ہمارا اور وزٹ کریں



نوٹ: اے آروائی نیوزکی انتظامیہ اور ادارتی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں ناظرین تک پہنچے تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 700 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: [email protected] آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔