The news is by your side.

شادی۔۔۔ لیکن اپنی باری پر

ہمارا ذاتی خیال ہے کہ شادی تو بور کے لڈو ہی ہیں یعنی جو کھائے وہ بھی پچھتائے اور جو نہ کھائے وہ اوربھی زیادہ پچھتائے۔ خیر کئی لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ شادی تو ایک جوا ہے بس جس کا داؤ چل گیا وہ کامیاب اور جو ناکام ہوا تو بس سمجھو دیوالیہ ہی ہو گیا۔

لیکن ان تمام باتوں سے قطع نظر شادی صرف اچھے کپڑوں ، زیورات اور خود نمائی کا ہی نام نہیں بلکہ سچ پوچھئیے تو ایک ذمہ داری بھی ہے۔ اس ذمہ داری کا اندازہ البتہ انسان کو شروع میں نہیں ہوتا تاہم بعد میں بیگم کی شاپنگ، بچوں کے لئے دودھ کے ڈبے اورڈائپر سبھی کچھ بھلا دیتے ہیں اورزندگی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبنے لگتی ہے ۔

بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی اس سے قبل کہ ہم اپنے موضوع کی تلاش میں خود ہی بھٹک جائیں آج کچھ چھوٹے بہن بھائیوں کے دکھوں پر بھی نظر ڈالنا ضروری سمجھتے ہیں۔ بچپن سے ہی جن گھرانوں میں بے چارے قسمت کے مارے چھوٹے بہن بھائی موجود ہوتے ہیں وہیں انھیں یہی سننا پڑتا ہے۔ جناب ابھی تو آپ کی پڑھائی کہاں مکمل ہوئی ، چپ سادھئیے ، شادی کے بارے میں تو سوچئے گا بھی مت ، ابھی تم سے بڑے بہن بھائی موجود ہیں، خاموشی سے اپنی باری کا انتظار کرو، بڑی بوڑھی خواتین اپنی ہمسائیوں کو یہ کہتی ہیں کہ ابھی کہاں اس بے چارے چھوٹے کی شادی کرنی اس سے پہلے تین بچے بیٹھے ہوئے ہیں ۔

اب کوئی یہ پوچھے کہ چھوٹے بہن بھائی کا کیا قصور ہے کہ وہ اپنے ارمانوں کا خون ہوتے دیکھتا رہے اور اگر غلطی سے اس سے شادی کے بارے میں ایک لفظ بھی نکل جائے تو یہ سننے کو ملے کہ اللہ دیکھو تو اس کی تو شرم ہی ماری گئی ، اپنی شادی کے بارے میں خود بات کر رہا یا کر رہی ہے ۔

یہاں ان بڑوں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر آپ چھوٹوں کی شادی کے بارے میں خود نہیں سوچیں گے اور ان کے لئے ہر آنے والے رشتے کو بائے بائے کہہ دیں گے تو کیا وہ خود بھی خود پر ہونے والی مظلومیت کا پرچار نہ کریں ۔

سنجیدگی سے اس مسئلے کو لیا جائے تو ہمارے کئی قدامت پسند گھرانوں سمیت کئی ماڈرن خاندانوں میں بہت تو نہیں لیکن ابھی بھی ماضی کی طرح یہ رحجان موجود ہے ۔ بیشتر لڑکے لڑکیاں صرف اس لئے بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ گئے کہ ان کی باری نہیں آئی اس لئے کہ بڑے بہن بھائیوں کے گھر آباد نہیں ہو سکے اور اس کے بعد انھیں جیسا تیسا ملا شادی کر لینی پڑی ۔

قسمت پر سب کا یقین ہونا ایک اہم امر ہے لیکن اس کو حرف آخر سمجھ لینا کہاں کی دانائی ہے ؟ یہ تو وہی ہوا کہ کسی کو نوکری نہ ملے اور وہ اپنی فرسٹریشن مٹانے کو یہ کہے کہ جناب ہم کیا کریں آج کل تو ایم اے پاس افراد بھی بے روزگار پھر رہے ہیں ۔

بہت سے لوگوں کے پاس یہ بھی ایک جواز ہے کہ اگر بڑی بہن یا بھائی کی موجودگی میں چھوٹے بہن بھائی کی شادی کر دی تو یقینا اس میں احساس کمتری پیدا ہو گاکہ نجانے مجھ میں کیا کمی ہے کہ مجھے چھوڑ کر چھوٹے بہن بھائی کو پسند کر لیا گیا ، کئی گھرانوں میں تو اب تک بڑی بہنوں کی موجودگی میں چھوٹی بہنوں کو رشتے کے لئے آنے والی خواتین کے سامنے آنے نہیں دیا جاتا ، یہ کبھی نہیں سوچا جاتا کہ ہر بندے کا اپنا نصیب ہے اور دوسرے کی قسمت بھی کھل جائے گی ۔

لیکن نہیں ہم اپنی روایت پسندی سے نہیں نکل سکتے ، کیونکہ یہاں تھوڑا سا الگ سوچنے والے کو باغی ہونے کا سرٹیفیکٹ مل جاتا ہے بلاشبہ وہی کہ خاموش رہو تو بزدل او رسامنا کرو تو بدتمیز ۔

یہی توجہیحات اور حقیقت سے آنکھیں چرانا کیا دانش مندی ہے ؟ کیا کسی نے بھی ان بہن بھائیوں کے بارے میں سوچا جنہیں ان کی باری کا لفظ تھما کر ان کے جائز حقوق سے بھی محروم کر دیا گیا ، کیا ان کے نفسیاتی اور جسمانی مسائل کے حل کے بارے میں کسی کی سوچ بدلی ۔۔ شاید اسی لئے نہیں کہ ہم کسی کے مسئلے کا حل تو کیا نکالیں گے الٹا ہم کسی کا مسئلہ سننے کے بھی روادار نہیں ہیں۔

 

Facebook Comments
راضیہ سید

راضیہ سید

راضیہ سید پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری کی حامل ہیں اور ایک دہائی سے زائدعرصے سے شعبہ صحافت سے بطور رپورٹر ، پروڈیوسر اور محقق وابستہ ہیں ، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے لئے کالم اور بلاگس تحریر کرتی ہیں۔

بلاگر کے مزید بلاگ پڑھنے کے لیے کلک کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اس خبر کو لائیک یا شیئر کرنے اور مزید خبروں تک فوری رسائی کے لیے ہمارا اور وزٹ کریں



نوٹ: اے آروائی نیوزکی انتظامیہ اور ادارتی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں ناظرین تک پہنچے تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 700 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: [email protected] آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔