The news is by your side.

زندگی کی ڈورکو کاٹتی پتنگ

حکومت پنجاب نے ۱۲ سال کے بعد پنجاب کے روایتی تہوار بسنت کو منانے کا عندیہ دیا ہے اور صوبائی وزیر قانون سیکریٹری پنجاب اور لاہور کی ضلعی انتظامیہ کے افسران پر مشتمل ایک کیمٹی تشکیل دی ہے جو کہ اس بات کا جائزہ لے گی کہ اس تہوار کے موقع پر کیا اقدامات کئے جائیں کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جاسکے ۔یاد رہے کہ ماضی میں اس تہوار پر پابندی انسانی جانوں کے ضیاع پر ہائی کورٹ کی طرف سے لگائی گئی تھی تاہم اس سال پابندی کو اٹھانے کا اعلان کردیا گیا ہے جبکہ کافی عرصہ سے کسی بھی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ بھی نہیں کیا گیا تھا ایک طرح سے تولوگ اس تہوار کو پتنگ بازی کے حوالے سے بھول ہی چکے تھے لیکن پنجاب گورنمنٹ کے اطلاعات کے وزیر نے ایک پریس کانفرنس میں اس تہوار کو منانے کے اعلان کے دوران یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ ایک عوامی مطالبہ تھا ۔بارہ سال پہلے جب اس پر پابندی لگی تھی تو پتنگ بازی کے شوقین افراد نے اس کو ناجائز قرار دیا جب کے بعض طبقعوں کی جانب اس کا خیر مقدم کیا گیا ۔ان ہر دو متضاد سوچ رکھنے والوں کے اپنے اپنے دلائل اور وضاحتیں تھیں مشرف، پرویز الہی ، زرداری، شہبار شریف غرض جتنے بھی حکمران آئے ان کی کوشش رہی کہ اس تہوار کو دوبارہ سے بحال کیا جائے لیکن وہ بھی ایسا نہ کرسکے کیونکہ ان کے پاس ایسی کوئی ضمانت نہیں تھی کہ کوئی حادثہ پیش نہیں آئے گا اور انسانی جان کو خطرہ درپیش نہ ہوگا۔

ایک مرتبہ سابق گورنر سلیمان تاثیر نے جو کہ بسنت منانے کے بہت بڑے ہامی تھے کی کوششوں سے ایک دن کی اجازت بھی دے دی گئی اس وقت میاں شہباز شریف پنجاب کے چیف منسٹر تھے انہوں نے سختی سے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ایسا کوئی بھی میٹریل جو کہ انسانی جان کیلئے خطرہ ہوپتنگ بازوں کو استعمال نہ کرنے دیا جائے لیکن عین جب یہ بسنت منائی جانی تھی اس سے تین دن پہلے ایک چھ سال کی بچی اپنے والد کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کرجارہی تھی کہ اچانک ایک کٹی ہوئی ڈور کی پتنگ نے اس کی شے رگ کو کاٹ ڈالا اور اس ننھی جان نے اپنے باپ کی ہاتھوں میں ہی تڑپ تڑپ کر جان دےدی۔ اس پر پنجاب گورنمنٹ اور ہائی کورٹ نے اس پر ایک بار پھر سے پابندی لگادی اس واقعہ کے بعد پھرکبھی بھی کسی جانب سے کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا کہ یہ کہا جاسکے کہ گورنمنٹ بہت زیادہ پریشر میں تھی تاہم کچھ افواہیں ضرور گردش کررہی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے لاہور کی مشہور شخصیت جو اپنی حویلی میں ایسی ثقافتی سرگرمیاں منعقد کروانے کے شوقین ہیں کی کوششیں بسنت کو بحال کروانے میں معاون ثابت ہوئیں اور یہ بات تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ان کی پی ٹی آئی والوں سے دوستی کتنی پرانی ہے اور پنجاب گورنمنٹ میں ان کا کیا اثر رسوخ ہے اگر اس بات میں سچائی ہے تو اس اقدام کی کسی بھی طور پر حمایت نہیں کی جاسکتی.

باساتاہم اگر ملک میں سیاحت کو بحال کرنا مقصود ہے تو پھربھی صرف اسی صورت قابل قبول ہوگئی کہ اس کو منانے سے پہلے ایک عوامی آگاہی کی مکمل مہم چلائی جائے اور انتظامیہ اس بات کی ضمانت دے کسی انسانی جان کو خطرہ نہ ہوگا کیونکہ ایک انسانی جان کا کوئی نیم البدل نہیں ہوسکتا،جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ عوام یا پتنگ باز اس بات کی ضمانت دے سکتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا دھاگا تندھی یا کیمیل لگی ڈور استعمال نہیں کریں گے جو کہ کسی کی بھی جان لے سکتی ہے اس لئے اس تہوار کو منانا اپنے اندربہت اندیشے لئے ہوئے ہے اور گورنمنٹ کو بڑا سوچ سمجھ کر یہ اقدام اٹھانا ہوگا۔ اب ذرا آئیں ان وجوہات کا جائزہ لے لیتے ہیں جن کی بنا پر کئی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور پھر حکومت کو اس پر پابندی لگانی پڑی ۔

دھاتی ڈور کا استعمال:


بسنت یا عام دنوں میں سب سے زیادہ اموات دھاتی تار کے استعمال کے باعث ہوتی ہیں یہ وہ تار ہوتی ہے جو کہ عام طورپر موٹر سائیکل کے کلچ ایکسیلیٹر اور فرنٹ بریک لگانے کے لیے استعمال ہوتی ہے اس تار کے ساتھ پتنگ بازی کا مقصد دوسرے کے ساتھ پیچ لڑانا نہیں ہوتا بلکہ اس سے صرف کٹی ہوئی پتنگوں کو پکڑنا یا دوسرے کی اڑائی ہوئی پتنگ کو اس میں الجھا کر کھینچ لینا ہوتا ہے جس کا روایتی پتنگ بازی سے دور کا بھی تعلق نہیں اور ؁ سنہ 2000 تک اس کا کوئی وجود نہ تھا اس لئے اگر اعدادوشمار اٹھا کر دیکھیں تو ؁۲۰۰۰سے پہلے بنست یا پتنگ بازی سے ہونے والی اموات بہت کم تھیں لیکن پھر کسی شیطانی ذہن کے لوگوں نے ٖصرف پتنگین لوٹنے کیلئے اسے استعمال کرنا شروع کردیا اس کی ساخت کچھ اس طرح کی ہوتی ہے کلچ کی تار جو سولہ باریک تاروں سے مل کربنی ہوتی ہے اسے کی ہرایک باریک تار الگ کر کے آگے پیچھے جوڑی جاتی ہے اور تقریبا ایک ایک فٹ کے فاصلے پر تار کی گرہیں باندھی جاتی ہیں ۔

کیمیکل ڈورکا استعمال:


کیمیکل لگی نائیلون کی مضبوط ڈوری انسانی اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے یہ انتہائی مضبوط ہوتی ہے جو کہ مچھلی پکڑنے کے لیے استعمال ہونے والی ڈوری ہوتی ہے جو کہ بیگ جوتے وغیرہ بنانے میں استعمال ہوتی ہے اس پر کیمیکل لگایا جاتا ہے جو کہ رگڑ کھانے پر انتہائی گرم ہوجاتا ہے اور یہ ڈور ساتھ لگنے والی ڈور کو کاٹ ڈالتی ہے اور جب یہ کٹ جائے، تو کئی کلو میٹر تک پتنگ کے ساتھ لٹکتی چلی جاتی ہے ایسے میں اگر کوئی بدقسمت موٹر سائیکل سوار اس کی زد میں آجائے تو پھر یہ خود تو نہیں کٹتی لیکن انسانی جسم کے جس حصے پر پڑتی ہے اسے کاٹتی چلی جاتی ہے ۔

عام مانجھا لگی ڈور:


اکثر بسنت کی حمایت میں بولنے والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر عام ڈور سے پتنگ اڑائی جائے تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتی اس میں دو باتیں غور طلب ہیں ایک تو یہ کہ یہ اس دور کی بات ہے جب پاکستان یا انڈیا کا بنا ہوا ایک عام دھاگہ اس مقصد کیلئے استعمال کیا جاتا تھا اور دورسر یہ کہ یہ پندرہ بیس سال پہلے کی بات ہے جب چائنیہ کا مال نہیں آتا تھا پھر اس زمانے میں موٹر سائیکل بھی اتنے نہیں تھے جس کی وجہ سے حادثے بہت کم ہوتے تھے اور اگر کہیں ہوتے بھی تو زیادہ ہائی لائٹ نہیں ہوتے تھے تاہم آج جب موٹر سائیکل کی تعداد کئی ہزار بلکہ لاکھ گنا بڑچکی ہے تو پھر حادثے کے امکانات بھی بڑھ چکے ہیں اور ایک غیرمحفوظ بسنت پہلے سے بھی زیادہ خطرناک اور جان لیوا ہوسکتی ہے اس کا اندازہ مشکل نہیں کہ یہ عام مانجھا لگی ڈوربھی مضبوط اور کاٹ دار ڈورکی طرح اگر تیز چلتی موٹر سائیکل سوار کی گردن کے گرد لپٹ جاۓ تو گردن کا کیا حشر کرے گی جبکہ آج کے دورمیں ماضی کی نسبت ہر دوسرے شخص کے پاس موٹر سائیکل ہے۔

ہوائی فائرنگ:


افغان وار نے جہاں اس خطہ کو بے شمار مسائل سے دوچار کیا وہیں ایک اصطلاح کلاشنکوف کلچر کی بھی دی۔ 80 سے پہلے بسنت پر ایک آدھ نعرہ یا بو کاٹا کی آواز بلند کرکے خوشی کا اظہار کیا جاتا تھا لیکن ۸۰ کی دھائی میں خوشی کا اظہار ہوائی فائرنگ کی شکل میں کیاجانے لگا ۔گولی اوپر کی جانب ہوا میں چلائی جاتی ہے تو پھر ایک خاص بلندی پر جاکر واپس زمین کی کشش ثقل کی وجہ نیچے کی جانب آتی ہے اور اس کی ولاسٹی اتنی ہی خطرناک ہوتی ہے جو کہ فائر کرتے ہوئے ہوتی ہے۔

لڑائی جھگڑے و دیگرحادثات:


اگر ہم ۷۰ کے عشرے کو مدنظر رکھیں تو معاشرے میں برداشت رواداری جیسی خوبیاں کسی ایک محلہ کو ایک خاندان سی شکل دے دیتی تھیں پتنگ بازی بچوں ٹین ایجر یا کالچ کی عمر تک کے لڑکوں کا شوق سمجھا جاتا ،جیسے ہی کسی بڑے نے گھر میں قدم رکھا چھت پر اڑاتے ہو لڑکے بالے پتنگ کو ہاتھ سے کاٹ کر اور ڈور کو ادھر اودھر چھپا بھاگ نکلتے تھے کسی کی ڈور کٹ جانے پر یا یہ کہ دوسرے نے کھینچا کیوں مارا تھوڑی بہت تو تکرار تو ضرور ہوجاتی تھی لیکن کیا مجال کوئی بڑا بزرگ اس کام میں شامل ہو بلکہ محلہ کے بڑے بوڑھے نظر رکھا کرتے کہ کس کا بچہ گھر کی چھت پر پتنگ اڑا رہا ہے اور جیسے ہی اس گھر کا کوئی بڑا نظر آتا اسے بتایا دیا جاتا بس پھر کیا ہوتا کہ لڑکے کی شامت آجاتی ۔لیکن پھر زمانے نے کروٹ بدلی اور ایک ایک پتنگ پر جس کی قیمت ایک سےپانچ روپے تک کی ہوتی تھی عزت و انا کا مسئلہ بن جاتی کسی نے ذرا اونچی آواز میں بو کاٹا کیا کہہ دیا گویا مرنے جینے کا مقام بن گیا گولی چلنے تک کی نوبت آگئی ایسے کئی واقعات موجود ہیں کہ ایسی لڑائیوں میں جانیں گئی اور دشمنیاں کئی کئی سال چلتی رہیں جہاں تک حادثات کا تعلق ہے تو بسنت کے دنوں میں ہسپتالوں کے ایمرجینسی وارڈز مین خصوصی انتظامات کئے جاتے تھے زیادہ تر حادثات کٹی ہوئی پتنگ لوٹتے ہوئے کسی چلتی گاڑی بس یا موٹر سائیکل کے سامنے آجانے سے آتے تھے کچھ حادثات چھتوں یا دیواروں سے گرنے سے آتے تھے لیکن ان حادثات میں جانی نقصان بہت کم دیکھنے مین آتا تھا

میں نے اوپر انسانی جان جانے کی جو وجوہات بیان کئیں ان پر قابو پانے کی کوششیں مختلف حکومتوں کی طرف سے کی گئی جیسا کہ میں اپنی تحریر کے آغاز میں بھی ذکر کرچکا ہوں لیکن وہ ان پر قابو نہ پاسکے۔ اس کی وجوہات میں سب سے پہلے خود عوام کا عدم تعاون ، دوسرا انتظامیہ کے چھوٹے افسران کی بد نیتی ، کرپشن اور تندی ، کیمیکل اور ڈور پتنگ کے کاروبار سے منسلک مافیا کا ہاتھ شامل ہے نتیجہ یہ کہ بالآخرکارہائی کورٹ اور گورنمنٹ کو اس پر مکمل پابندی لگانی پڑی اور ایک ثقافتی پروگرام جو کہ پوری دنیا میں پاکستان کی پہچان بن چکا تھا ختم ہوکر رہ گیا ۔ لیکن ایک دفعہ پھر اس کو منانے کا جو اشارہ دیا گیا ہے اسے میرے سمیت کوئی بھی اپنی تہذیب وثقافت کا دلدادہ کبھی انکار نہیں کرے گا لیکن بطور ایک انسان اور اس معاشرے کے رکن ہونے کے یہ سوال کرنے کا حق مجھے ہے کہ کیا یہ بسنت کسی انسانی جان سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ہوا میں اڑتی ہوئی یہ موت کی ڈور کسی بے قصور کے لئے موت کا پھندہ ثابت نہیں ہوگی؟۔

Facebook Comments
سردار ریاض الحق

سردار ریاض الحق

سردار ریاض الحق صحافی ہیں اورساتھ ہی ساتھ معذوروں کے حقوق کے لیے سرگرم سماجی کارکان بھی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں بھی متحرک رہتے ہیں

بلاگر کے مزید بلاگ پڑھنے کے لیے کلک کریں


Twitter

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اس خبر کو لائیک یا شیئر کرنے اور مزید خبروں تک فوری رسائی کے لیے ہمارا اور وزٹ کریں



نوٹ: اے آروائی نیوزکی انتظامیہ اور ادارتی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں ناظرین تک پہنچے تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 700 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: [email protected] آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔