The news is by your side.

احادیث کی تدوین میں فقہی تضادات

پہلے تو میں یہ اعتراف کرتا چلوں کہ میں ایک نہایت کم علم اور خطا کار انسان ہوں۔ لیکن میری خوش قسمتی کہ میرا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں علم و ادب کی روشنی تھی اور وہاں معاشرتی اقدار کی بڑی حد تک پاسداری بھی کی جاتی تھی اسی طرح میرے گھرانے میں دینی تعلیمات اور فرائض کی ادائیگی پر ہمیشہ زور رہا۔ وقت کے ساتھ اور بزرگوں کے چلے جانے کے بعد یہ روایات کسی حد تک کمزور تو ہوئیں لیکن اس کی جڑیں اتنی گہری تھیں کہ ختم نہ ہوپائیں اور ہم نے اپنے بزرگوں تھوڑا بہت سیکھ ہی لیا اور اب میری یہی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس دم توڑتی تہذیب کو اپنے طور زندہ رکھ سکوں اور جس قدر ممکن ہو اپنی آئندہ آنے والی نسل تک پہنچا سکوں۔

گھر میں دینی ماحول ہونے کے باوجود میں نماز کی پابندی نہیں کیا کرتا تھا جس پر والدین ہمیشہ سرزنش بھی کرتے ۔ والد مرحوم ایک راسخ العقیدہ سیدھے سچے انسان تھے۔ جماعت اسلامی کے رکن اور فعال کارکن بھی رہے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک دن ابا مرحوم نے بڑے کرب سے کہا کہ ’’میاں آپ نے ہمیشہ مجھے پابندصوم و صلاۃ دیکھا اس کے باوجود آپ نماز نہیں پڑھتے۔ ہمیں تو یہ فکر ہے جب آپ کی اولاد آپ کو نماز پڑھتے دیکھے گی ہی نہیں تو وہ کیونکر اسکی طرف راغب ہونگے ‘‘ انکی یہ بات میرے دل کو لگی ۔ اس وقت میرے بچے بہت چھوٹے تھے ۔ بہرحال انکے کہنے پر میں نے نماز شروع تو کردی لیکن پابندی پھر بھی نہیں کرسکا۔

سنہ چھیاسی میں ابا کا انتقال ہوگیا۔ چند ماہ بعد اماں نے عمرے پر جانے کی خواہش کی اور مجھے یہ سعادت ملی کہ میں اس سفر میں اماں کے ساتھ تھا۔ روانگی سے پہلے بیگم نے کئی بار کہا عمرے پر جارہے ہیں اب تو نماز شروع کردیں اور میں ہر بار انہیں غچہ دے جاتا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایرپورٹ روانگی سے قبل میں نے گھر میں دو رکعت نفل ادا کی تھی اور پھر اس کے بعد نماز کا پابند ہوگیا اور مقام شکر ہے کہ میرے بچوں نے ہوش سنبھالنے کے بعد سے مجھے نماز پابندی سے پڑھتے دیکھا اس طرح شاید والد مرحوم کی آرزو بھی پوری ہوگئی ہو ۔ اسی دوران قرآن پڑھنے اور اسے سمجھنے کا بھی شوق ہوا۔ اس ضمن میں قرآن کے کئی تراجم اور تفسرات دیکھے لیکن سب سے زیادہ متاثر مولانا مودودی کی تفہیم القرآن نے کیا ، ان کی تفسیر بار بار پڑھی اور بہت کچھ سمجھنے کی سعادت حاصل ۔ہوئی۔

میں ایک ملٹی نیشنل آئل کمپنی میں ملازم تھا سنہ دوہزار میں کمپنی نے مجھے ایک پراجیکٹ پر سعودی عرب کے شہر الخبر بھیج دیا جہاں میں تقریباً دس سال رہا ۔ وہیں الخبر میں پہلی مرتبہ اپنے خالہ زاد بھائی ڈاکٹر شعیب نگرامی سے ملاقات ہوئی جو ہندوستانی شہری ہیں۔ تقسیم کے بعد میری والدہ مرحومہ تو پاکستان آگئیں لیکن خالہ بی بی ہندوستان ہی میں رہیں۔ ان کے مرحوم خاوند یعنی میرے خالو مولانا اویس نگرامی ندوتہ العلوم لکھنئو کے شیخ التفسیر تھے ۔ انکا شمار برصغیر کے جید علماء میں ہوتا تھا۔ مولانا عبدالماجد دریا آبادی اور مولانا شبلی نے انکا تذکرہ اپنی کئی تصانیف میں کیا ہے ۔ شعیب بھائی انکے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں۔ وہ چالیس سال سے زیادہ مصر، لیبیا اور سعودی عرب میں مقیم رہے اور اہم سرکاری عہدوں پر فائز تھے۔ ریٹائر منٹ کے بعد وہ آجکل بحرین میں رہائش پذیر ہیں۔

شعیب بھائی ندوتہ العلوم لکھنئو کے فارغ التحصیل عالم ہونے کے ساتھ حافظ قرآن بھی ہیں ۔ اسکے علاوہ وہ جامعہ اظہر سے اسلامی علوم میں پی ایچ ڈی کی سند بھی رکھتے ہیں اور مدینہ یونیورسٹی سے ڈی لٹ بھی ہیں۔ شعیب بھائی کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر یونس نگرامی مرحوم لکھنئو یونیورسٹی کے ڈین تھے وہ لکھنئو کی ایک معروف ادبی شخصیت تھے ان کے دو اوربھائی ڈاکٹر یوسف نگرامی اور ڈاکٹر ہارون نگرانی بھی عالم دین ہیں اور یہ دونوں بھی جامعہ اظہر سے ڈاکٹریٹ کے علاوہ ڈی لٹ ہیں اور سعودی عرب ہی میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ ہارون بھائی اب نہیں رہے ۔اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔

شعیب بھائی ” علم الحدیث ” کے ماہر ہیں وہ ریڈیو دمام سے اس موضوع پر پروگرام بھی پیش کرتے رہے ہیں ۔ وہ دمام اور الخبر کی ایک جانی مانی شخصیت تھے ۔ ان کے گھر پر ادبی و علمی نشستیں ہوا کرتی تھیں جس میں اہل علم شرکت کرتے اور ان سے مختلف مسائل پر رائے لیتے اور سوالات کرتے ۔ خوب گرما گرم مباحثے ہوتے ۔ انکی بیگم سب کی جگت بھابھی تھیں وہ خود کسی زمانے میں ریڈیو قاہرہ
سے پروگرام بھی کیا کرتی تھیں بڑی رکھ رکھاؤ والی خاتون تھیں ۔ حاضرین کی خوب خاطر مدارات کرتیں اور گھر پر ہونے والے علمی و ادبی ٹاکروں میں خود بھی شامل رہتیں۔ اور بہت عمدہ سوالات بھی اٹھاتیں۔

شعیب بھائی عربی زبان پر مکمل عبور رکھتے ہیں ۔ وہ عربی لباس پہنتے ہیں لیکن روایتی مولویوں اور علماء سے بہت مختلف ہیں ۔ کلین شیو ۔ پان سے منھ لال ۔ایک بٹوے میں چھالیہ اور کتھ ہاتھ میں پان کے ڈبیا جس میں سلیقے سے لگے پان ہوتے ۔ لہجہ ٹھیٹھ لکھنوی لیکن جب عربی بولنے پر آتے تو بالکل اہل زبان کی طرح بولتے۔اکثر انکے گھر تاش کی محفلیں سجتیں ۔ وہ برج کے بہت شوقین تھے اور کئی مقابلوں میں چمپئین بھی رہے ۔ ہفتے میں کئی بار آرامکو جاتے اور یورپین دوستوں کے ساتھ سارا سارا دن برج کھیلتے ۔ اچھا کھانا کھاتے اور کھلاتے بھی ۔ میٹھا انکی کمزوری تھی ذیابطیس کے مریض ہونے کے باوجود پرہیز کم ہی کرتے۔

شعیب بھائی دین میں ملائیت اور سختی کے بہت مخالف تھے ۔چاہتے تھے کہ لوگ شوق سے دین کی طرف راغب ہوں نہ کہ شدت کی وجہ سے بیزار ہوجائیں ۔ جب میں نے پہلی بار عمرہ ادا کیا اور مذہب کی طرف کچھ رغبت ہوئی تو نصیحت کی کہ میاں زیادہ شدت نہ کرنا ورنہ اکثر لوگ اسی تیزی سے واپس بھی چلے جاتے ہیں ۔ وہ عربی اور اردو میں کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ چالیس سال سے زیادہ سعودی عرب میں علمی و ادبی خدمات انجام دینے کے بعد اب بحرین میں سعادتمند بیٹے کی خدمت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ بھابھی اور شعیب بھائی مجھ سے بہت محبت اور شفقت فرماتے اور اپنی محفلوں میں شامل کرتے جہاں سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور مختلف مسائل پر آگاہی ہوئی ۔ دین کی تشریح جو مجھے انکی محفل میں ان سے اور دوسرے اہل علم حضرات سے جو کم و بیش انہی جیسی ڈگریوں کے حامل تھے سننے کو ملی وہ روایتی مولویوں کے بیانات سے بڑی حد تک مختلف اور قابل فہم تھی ۔

مجھے مولویوں کی روایتی تشریح دین سے پہلے بھی کافی حد تک اختلاف رہا ہے ۔ شعیب بھائی اور انکے اہل علم دوستوں کی محفلوں میں مزید آگاہی ملی اور معلوم ہوا کہ برصغیر میں رائج اسلام بڑی حد تک اصل دین سے دور ہے ۔ بہت سے سوالات نے جنم لیا جنکی تلاش میں مجھےاپنے طور پر کچھ جاننے کا تجسس ہوا ۔ میں اس مسئلہ پر جتنا بھی پڑھتا جاتا مزید الجھتا ہی چلا گیا ۔ اس تگ و دو میں مختلف مذاہب اور مسالک کا بھی مطالعہ کیا اور اپنے طور شعیب بھائی اور ڈاکٹر یوسف نگرامی کے علاوہ بھی کئی اور علماء سے استفادہ کیا ۔ اسی طرح دیگر ادیان کا تقابلی جائزہ بھی لیا۔ تورات ، انجیل،زبور اور گیتا کے ساتھ ساتھ گرو نانک اور دوسرے مسالک سے متعلق لٹریچر بھی پڑھا۔ ا س کے علاوہ سوشلسٹ اور کیمونسٹ نظریات کا بھی مطالعہ کیا اور کسی زمانے میں اس سے بہت متاثر بھی رہا ترقی پسند تحریک اور ادب نے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ صوفی ازم نے بھی کسی حد تک متاثر کیا لیکن سب سے زیادہ رہنمائی مولانا مودودی صاحب کی تفہیم سے ملی اور اسے بار بار پڑھا ۔اور ہر بار پہلے سے زیادہ اسے محسوس کیا۔

قرآن پاک کی سچائی اور کلام اللہ ہونے اور نبی کریم کے پیغمبر آخر ہونے پر مکمل ایمان اور ہر شک و شبہ سے بالاتر ہوجانے کے بعد احادیث اسکی تدوین اور ماخذ کے بارے میں پڑھا ۔ احادث کے مستند مجموعہ صحائح ستہ اور چاروں فقہ کا بھی مطالعہ کیا اور انکے درمیان مختلف مسائل اور اختلافات کا بھی مطالعہ کیا اور گڑ بڑا کر رہ گیا۔جب میں نے احادیث کی طرف نظر ڈالی تو بہت سے اور سوالات پیدا ہوئے جس کے جواب کی جستجو میں مزید کتابیں کھنگالیں اور کسی قسم کے مسلکی اور فقہی تعصب کا چشمہ لگائے بغیر ان کا مطالعہ شروع کیا تو یوں لگا ہر ’گروہ اور مسلک‘ نے اپنے اپنے مطلب کی باتیں ان ہی سے اخذ کیں اور ہر ایک نے اپنی اپنی روایات اور عقیدے کے مطابق دلائل پیش کیں جو انکے مسلک کو تو سپورٹ کرتی ہے لیکن دوسروں کے نکتہ نظر کو مسترد کرتی ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ سب ہی نے حوالے انہی کتابوں سے لئے تھے لیکن اپنے اپنے مطابق۔

کیا یہ ایک حقیقت نہیں کے اکثر احادیث نبی کریم کے وصال کے تقریباً دو سو سال کے بعد تدوین کی گئیں اور زیادہ تر احادیث کے راوی جیسے کہ ترمذی، طبری، بخاری اور مسلم کا تعلق ایران یا سنٹرل ایشیا سے تھا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دو سے ڈھائی سو سال کے بعد اکھٹا کی جانے والی احادیث جو غیر عربوں نے جمع کیں ۔ کیا اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی یہ احادیث اسی طرح مستند اور لفظ بلفظ رہی ہوں گی جس طرح نبی کریم نے فرمایا ہوگا ۔ ان احادیث کی صحت پر کیا شکوک نہیں پیدا ہوتے ۔

علم الحدیث ایک مکمل علم اور سائنس ہے۔ جس کی روشنی میں اہل علم نے احادیث کی چھان بین کی۔ حدیث کے صحیح ہونے، وضع ہونے یا مسترد ہونے کے کئی معیار ہوتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ ہر وہ حدیث جو قرآن سے متصادم ہو ہرگز مانی نہیں جاسکتی دوسری شرط حدیث کی زبان ہے ۔ حدیث کی زبان اور عبارت سے اہل علم جان لیتے ہیں کہ کیا یہ وہی زبان ہے جو ظہور اسلام کے وقت عرب میں رائج تھی ۔ کیونکہ زبان کی ساخت بدلتی رہتی ہے ۔ آج جو عربی مستعمل ہے وہ قرآن کی عربی بالکل نہیں بلکہ جدید عربی ہے ۔ اگر کسی کو اس زمانے کی عربی زبان اور اس وقت کے عرب معاشرے اور تاریخ کا علم نہ ہو وہ کسی طرح بھی ان احادیث کی صحیح طور پر تشریح کرنے کا اہل نہیں ہوسکتا ۔ اسی طرح کچھ احادیث جن میں دین کا قانون ہو ہر زمانے کے لئے لاگو ہیں لیکن کچھ احادیث ایسی بھی ہیں جو روز مرہ کی زندگی اور واقعات سے متعلق ہیں ۔ ضروری نہیں کہ ان کا اطلاق ہر زمانے پر ہو۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ بے شمار حدیثوں کو ’اسرائیلیات ‘ کا نام دیا گیا۔ ایسی ’احادیث ‘ پر شبہ ہے کہ یہ اہل یہود نے انہیں وضع کر کے ہماری کتابوں میں داخل کردی ہیں اور ہم بغیر کسی تحقیق کے ان کو مانے بیٹھے ہیں ۔بہرحال اس موضوع پر محض ایک طالبعلم ہوں اور کسی بات پر حتمی رائے کا اہل نہیں اور نہ ہی میں منکر حدیث ہوں۔

بہت ہی کم احادیث اہل ِبیت سے رقم کی گئیں، اسی طرح صحابہ اکرام سے بھی کم ہی حدیثیں ملتی ہیں ،ماسوائے حضرت ابو ہریرہ ؓکے جو اصحاب رسول میں سے تھے ۔ انک ے بعد امام مالک کی احادیث پر مبنی ایک تصنیف ’الموطاً‘ ملتی ہے وہ بھی وصال نبوی ﷺکے تقریباً سو سال بعد لکھی گئی تھی ۔

اب ذرا احادیث کے بیشتر مرتبین کے بارے میں دیکھا جائے کہ وہ بعثت نبوی کے کتنے عرصے بعد اور کہاں پیدا ہوئے اور کون تھے ۔

1- امام بخاری
یہ بخارا میں پیدا ہوئے اور 256 ہجری (یا بعض کے نزدیک 260 ہجری) میں سمرقند کے قریب فوت ہوئے-

2-امام مسلم-
صحیح مسلم کے جامع امام مسلم بن حجاج تھے جو ایران کے مشہور شہر نیشا پور کے باشندے تھے- انکی ولادت 204 ہجری میں اور وفات 261 ہجری میں ہوئی-

3-امام ترمذی-
امام ابو محمّد ترمذی- یہ ایران کے شہر ترمذ کے رہنے والے تھے- سال ولادت 209 ہجری اور وفات 279 ہجری ہے-

4-امام ابو داؤد-
سیستان (ایران) کے رہنے والے تھے 202 ہجری میں پیدا ہوۓ اور 275 ہجری میں وفات پا گئے-

5-امام ابن ماجہ-
ابو عبد الله محمّد بن زائد ابن ماجہ- یہ شمالی ایران کے شہر قزدین کے رہنے والے تھے- سن پیدائش 209 ہجری اور رحلت کا سن 273 ہجری ہے-

6-امام عبدالرحمٰن نسائی-
یہ مشرقی ایران کے صوبہ خراسان کے ایک گاؤں نسا میں پیدا ہوئے- انکا سن وفات 303 ہجری ہے ۔ !

یہ تمام حضرات ایرانی النسل یا سنڑل ایشیا سے تھے ان میں عرب کا رہنے والا کوئی نہیں تھا ،مقام حیرت ہے کہ عربوں میں سے بہت کم اصحاب نے اس عظیم کام کو سر انجام دیا جبکہ احادیث کی جمع و تدوین کا کام بیشتر غیر عربوں (عجمیوں) کے ہاتھ سرانجام پایا- یہ تمام حضرات تیسری صدی ہجری میں ہوئے یعنی دور نبوی ﷺکے تقریباً ڈھائی سے تین سو سال بعد ۔

جب ہم اسکول میں تھے تو اکثر کلاس میں ایک کھیل کھیلا جاتا تھا اور یہ کھیل شاید سب ہی نے کھیلا ہوگا ۔ ہوتا کچھ یوں تھا کہ اگلی پنچ پر بیٹھا ایک بچہ دوسرے کے کان میں کوئی لفظ سرگوشی میں کہتا پھر دوسرا تیسرے کے کان میں اور تیسرا چوتھے کے کان میں جو اس نے سنا سرگوشی کے انداز میں اگلے سے کہتا یہاں تک کہ کلاس کی آخری بنچ پر بیٹے بچے کے کان میں یہی سرگوشی کی جاتی پھر اس سے پوچھا جاتا کہ بلند آواز میں بتائے کہ اس نے کیا سنا اور ہر بار یہی ہوتا کہ آخری بچے کے کان میں سنی بات پہلے بچے کی کہی بات سے بالکل مختلف ہوتی۔ اور یہی انسانی فطرت بھی ہے ۔ ایک کمرے میں بیٹھے دو لوگ کسی موضوع پر گفتگو کررہے ہوں تو کیا یہ ممکن ہے کہ آدھے گھنٹے بعد ان میں سے کوئی اس گفتگو کو لفظ بہ لفظ دہرا سکے گا ۔ کیا ایسا گمان روایات کے سلسلے میں کرنا قابل فہم نہیں ہوگا۔

مجھے اعتراف کے محدثین نے احادیث اکھٹا کرنے میں بہت احتیاط سے کام لیا ہوگا اور تحقیق بھی ضرور کی ہوگی لیکن اس کے باوجود کیا کوئی دعوے سے کہ سکتا ہے کہ غلطی کا کوئی امکان نہیں رہا ہوگا ؟؟۔نبی کریم ﷺکی وصال کے بعد تقریباً سو سے ڈیڑھ سو سال بعد چار فقیہ پیدا ہوئے جن میں امام مالک اور امام شافعی تو سر زمین عرب سے تھے جبکہ امام حنبل اور امام ابو حنیفہ غیر عرب یعنی عجمی تھے ۔ ان چاروں فقیہ کے آنے سے پہلے تک اسلام اپنی اصلی شکل ہی میں تھا اور اس دور تک تابعین اور تبع تابعین بھی کثرت سے تھے لیکن انہوں نے تو اپنی طرف سے دین کی کوئی تشریحات نہیں پیش کیں اور نہ ہی اسکی ضرورت محسوس کی ۔ کیا وہ محترم شخصیات ان چاروں فقیہ سے کسی طرح کم تھے یا صرف انہی فقیہ حضرات کو صحیح اسلام اتنا عرصہ گزرنے کے بعد سمجھ میں آیا تھا ۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی تاویلات پیش کیں اور ایک دوسرے کی نفی کی ۔ ایک مزے کی بات تقریباً سارے ہی فقیہ
امام جعفر صادق کے شاگرد تھے اور امام جعفر صادق شیعہ مسلک کے بانی قرار دئیے جاتے ہیں اور آج بھی شیعہ حضرات ’فقہ جعفریہ‘ ہی کو مانتے ہیں ۔

چاروں فقیہ نبی پاک ﷺکی وفات کے پہلے سو سال سے ڈیڑھ سو سال بعد ہی آگئے اور اپنااپنا اسلام یا اسلام کی اپنی اپنی تشریح لے آئے جس سے شاید امت میں تفریق اور بگاڑ پیدا ہوا۔ مثلاً کوئی کہتا ہے ہاتھ باندھ کر نماز پڑھو، کوئی کہتا ہے ہاتھ چھوڑ کر پڑھو۔ کوئی کہتا ہے بآواز بلند آمین کہو کوئی فرماتے ہیں آہستہ سے پڑھو۔ کسی کے مطابق روزہ اذان مغرب کے فوراً بعد افطار ہوتا ہے ورنہ روزہ
مکروہ تو کسی کے مطابق آفتاب غروب ہونے کے بعد اسی طرح سحری کے اوقات میں تضاد اور تو اور آج کے ترقی یافتہ دور میں جبکہ سائنس کی ایجادات کی بدولت اگلے سو سال کا کلینڈر منٹوں اور سیکنڈوں کے حساب سے ترتیب دیا جاسکتا ہے ہمارے علماء عیدین اور رمضان کے چاند ہی پر متفق نہیں ہو پاتے اور ایک سراسر سائنسی مسئلے کو مذہبی رنگ دے کر پوری دنیا میں مسلمانوں کو ایک عید اور ساتھ رمضان نہیں کرنے دیتے۔

سب کی اپنی اپنی تشریح اور تاویلات ہیں لیکن اسکے باوجود کہا جاتا ہے کہ ہم سب ایک ہی بات کو مختلف طریقوں سے کہ رہے ہیں ہمارا مقصد تو ایک ہی ہے ۔ چاند کے مسئلے کو لے لیں، اسے بوہری مسلمانوں نے فاطمی کیلنڈر سے حل کرلیا اب ان کے یہاں رمضان اور عیدیں غیر متنازعہ ہوگئی ہیں لیکن ہم مفتی منیب اور مولانا پوپلزئی کی بریلوی اور دیوبندی مسلکی اختلافات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان فروعی باتوں سے ایک عام مسلمان تو کنفیوز ہوگیا ایک شخص جس کا مطالعہ سطحی ہے وہ تو گڑبڑا کر رہ گیا نہ ۔ نتیجتاً اس بیچارے نے صرف اپنے فقیہ اور مسلک کو صحیح جانا اور دوسرے کو بھٹکا ہوا یا غیر مستند قرار دیا ۔ کیا اس سے کوئی بہتری ہوئی یا نفاق کو مزید ہوا ملی؟؟۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ یہ چاروں فقیہ ظہور اسلام کے پہلے سو ڈیڑھ سو سال بعد ہی اپنی اپنی تشریحات لے کر آگئے لیکن کیا وجہ ہے ان کے بعد تقریباً بارہ سو سال تک پھر کوئی اور فقیہ نہیں پیدا ہوا جو آج کے عہد میں اسلام کی تشریح کرتا یا اجتہاد کی راہ دکھاتا جس کی آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے ۔ آج کے مسائل مثلاً لیزنگ، بینکاری انشورنس وغیرہ۔ انسانی اعضاء کی پیوند کاری وغیرہ کے بارے میں یا تو علماء خاموش ہیں یا پھر انہی فقیہ کے حوالے سے حل تلاش کرتے نظر آتے ہیں جو عام آدمی کے فہم سے بالا تر ہے اور آج کے دور میں شاید قابل عمل بھی نہ ہوں۔

دور حاضر کا مسلمان جو ذرا بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے بری طرح شکوک اور الجھن میں گرفتار ہے ۔ عدم برداشت کے اس ماحول میں سوال اٹھانے والے پر قدغن ہے ۔ علماء اور مولوی کے پاس یا تو جواب نہیں ہے یا پھر وہ سوال کرنے والے پر ہی فتوی داغ دیتے ہیں اور نہایت آسانی سے دین سے خارج کر دیتے ہیں ۔

ایک لفظ اکثر بہت استعمال ہوتا ہے ، ’قرآن اور سنت‘ قرآن تک تو بات ٹھیک ہے لیکن سنت کی تشریح سب کی اپنی اپنی ہیں اور اس کا ماخذ کیا ہے کون ہے یہ اب تک زیر بحث ہے اور قوم بٹی ہوئی ہے۔ ایک بہت بنیادی بات ہے کہ آپ کو اور مجھے جتنی اچھی طرح ہمارے اہل خانہ جانتے ہوں گے اور جن باتوں کے وہ شاہد ہوں گے ویسا کوئی باہر کا شخص دعوی ہرگز نہیں کرسکتا۔ اسی طرح نبی کریمﷺ کے اہل بیت سے بڑھ کر ان کی باتیں، ان کا عمل اور روز مرہ کی زندگی میں وہ کیسے تھے، کیا کہتے تھے کیا کرتے تھے ان کے گھر کے افراد سے زیادہ بہتر کون بتا سکتا تھا لیکن ان قابل احترام ہستیوں کے حوالے سے کتنی احادیث ہیں ؟؟؟ شاید آٹے میں نمک کے برابر ۔۔ افسوس کہ شاید اس معاملے میں بھی ہم مسلکی تقسیم کا شکار ہوگئے ہیں۔

اوپر کہی گئی باتوں اور تضادات کی بناء پر میری الجھنیں بڑھتی چلی گئیں اور میں نے اپنی سمجھ کے مطابق خود کو دین کی بنیادی عقائد اور تعلیمات کے مطابق محدود کرلینے کا فیصلہ کرلیا اور اپنے ایمان اور عقیدے کو مندرجہ ذیل باتوں پر مرکوز کر لیا ۔ میری دانست میں اگر میں انہی باتوں پر عمل پیرا ہوجائوں تو بہت غنیمت ہے ۔۔ وہ بنیادی باتیں یہ ہیں ۔

امنت باللہ وکتبہ و رسولہ و یوم القیامہ ۔

اس کے علاوہ بغیر کسی حیل و حجت کے میرا ایمان دین کے ان بنیادی اصولوں کے مطابق ہے ۔

توحید، نماز ، روزہ ، حج اور زکواۃ۔

ان بنیادی باتوں پر عمل کرکے میرے خیال میں میرا ایمان مکمل ہوجاتا ہے اور میں سمجھتا ہوں مجھے اس کے بعد مزید کسی الجھن میں نہیں پڑنا ۔ اب میرا پائجامہ کتنا اونچا ہو، داڑھی ہو کہ نہ ہو اگر ہو تو کتنی مٹھی کی ہو ۔کس پیر یا فقیر کی میں پیروی کروں یا نہ کروں ،کسی درگاہ پر دیگ چڑھاؤں یا شب برات کے دن حلوہ بنائوں میری اپنی صوابدید پر ہے اور ان کے ماننے یا نا ماننے سے میرا ایمان قطعی متاثر نہیں ہوسکتا ۔ اب اس کے بعد میں کم از کم اس ہیجان اور پریشانی سے نکل آیا ہوں ۔

دو برس پہلے میں اپنے بیٹے کے پاس سعودی عرب گیا۔ اس دوران عمرے کی ادائیگی کے لیے بیت اللہ کی زیارت بھی کی اور پھر روضہ رسول ﷺپر بھی حاضری کی سعادت نصیب ہوئی ۔ ایک روز میں نماز عصر کے بعد مسجد نبوی ﷺمیں بیٹھا تھا ۔ وہاں اکثر عصر اور مغرب کی نماز کے وقفے کے دوران مختلف جگہوں پر درس قرآن اور دینی تعلیمات دی جاتی ہیں اور لوگ چھوٹے چھوٹے گروپس میں بیٹھ جاتے ہیں اور کوئی سعودی عالم ان سے مخاطب رہتا ہے میں بھی قریبی کے ایک گروپ میں جاکر بیٹھ گیا جہاں ایک نوجوان سعودی عالم حلقہ میں بیٹھے افراد کو درس دے رہے تھے ۔ میں دس سال سعودی عرب میں رہا تھا لہذا عربی زبان گزارہ بھر بول بھی لیتا تھااور سمجھ بھی لیتا تھا ۔ درس کے بعد مدرس نے پوچھا کہ اگر کسی کا کوئی سوال ہو تو کر سکتا ہے ۔ میں نے ان سے کیا کہ میں ان سے اکیلے میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں وہ مجھے لیکر ایک گوشے میں آگئے میں ان سے ٹوٹی پھوٹی عربی میں اپنی الجھن بتانے کی کوشش کرہی رہا تھا کہ انہوں نے کہا آپ انگریزی میں بات کرلیں میں انگریزی بخوبی سمجھتا ہوں ۔ اب میری مشکل آسان ہوگئی اور میں زیادہ بہتر طریقے سے اپنا مافی
الضمیر بیان کرنے لگا کہ مسلکی اور فقہی تضادات کی وجہ سے میں کس الجھن میں گرفتا رہااور اس فیصلہ پر پہنچا کہ دین کے بنیادی احکامات پر صدق دل سے یقین رکھوں اور حسب توفیق ان پر عمل پیرا رہوں ۔

آمنت باللہ وکتبہ و رسولہ و یوم القیامہ ۔
اور
توحید، نماز ، روزہ، حج اور زکوۃ

میری بات پوری طرح سننے کے بعد وہ مسکرائے اور فرمایا کہ ’تمھاری یہ بات سننے کے بعد مجھے نبی کریمﷺ کا ایک واقعہ یاد آگیا کہ ایک روز نبی کریم ﷺمسجد نبوی کے صحن میں اینے اصحاب سے گفتگو فرمارہے تھے کہ ایک بدو کا وہاں سے گزرہوا جو اونٹ پر سوار تھا۔ چونکہ مسجد نبوی کی دیوار زیادہ اونچی نہیں تھی لہذا اس بدو نے اونٹ پر بیٹھے ان اصحاب کو دیکھ لیا اور اونٹ پر سے اترے بغیر پوچھا ،اے محمد! کیا تم اللہ کے رسول ہو؟۔ آپ نے فرمایا، ہاں! میں اللہ کا نبی ہوں۔ تو بدو نے کہا تو محھے بتاؤ کہ کیا عمل کروں کہ جنت میں جاؤں ۔ نبی پاک ﷺنے فرمایا ۔جھوٹ نہ بولنا، نماز پر قائم رہنا اور اللہ کے بندوں کے حقوق نہ مارنا اور چند بنیادی باتیں بتائیں۔ جس پر بدو نے کہا کہ میں بس اتنا ہی کروں گا اس سے آگے نہیں تو آپ نے ہنس کر کہا اتنا ہی کرلینا جنتی ہوجاؤ گے ۔ یہ جواب سن کر وہ بدو چلاگیا ۔ اس کے جانے کے بعد نبی کریمﷺ اپنے صحابہ سے مخاطب ہوئے اور فرمایا کہ’’اگر یہ بدو اتنا ہی کرلے تو جنت میں داخل ہو جائے گا‘‘۔۔۔۔ یہ واقعہ سنانے کے بعد انہوں نے فرمایا آپ اتنا ہی کرلیں تو انشااللہ آپ کی پکڑ نہیں ہوگی اور نہ ہی آپ کے ایمان کو کوئی خطرہ ہوگا‘‘۔

حرم شریف کے شیخ نے مجھے اپنا ای میل ایڈریس بھی دیا اور کسی بھی مزید مشورے کے لئے رجوع کرنے کی اجازت دی۔ آخر میں اتنا عرض کروں گا کہ میں مسلکی اور فقہی تنازعات میں الجھے بغیر اپنے نکتہ نظر پر قائم ہوں اور دوسروں کے اعتقادات بھی میری نظر میں انتہائی قابل احترام ہیں ۔ اسی طرح میں دوسرے تمام مذاہب اور ان کے ماننے والوں کو بھی محترم مانتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ ہم کو اچھا انسان بننے کی توفیق دے اور ہم سب مل جل اور اپنے اپنے عقیدوں پر رہتے ہوئے اس دنیا کو رہنے کے قابل بناسکیں ۔میرے خیالات سے اتفاق یا اختلاف کا آپ کو پورااختیار ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں