The news is by your side.

سندھ کے لسانی مسائل اور ان کا حل

سلیم احسن – یو اے ای


موجودہ دور میں پاکستان اور پاکستانی شہری جن مسائل سے دوچار ہیں وہ بہت سے ہیں لیکن یہاں میں ایک خاص موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں جس پر دھیان دینے کی اشد ضرورت ہے۔ وہ ہے پاکستان میں بسنے والے لوگوں کے ریاست کے متعلق نظریات اور ایک دوسرے کے حوالے سے تعصبات۔

اس سلسلے میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آج کے حالات 1947 والے نہیں رہے جب ہندوؤں کے خوف کی وجہ سے شمالی ہند اور حیدرآباد دکن کے تقریباً تمام مسلمان ‘مسلم قومیت’ پر یقین رکھتے تھے اور اسی پرچم تلے انہوں نے ‘مسلمانان ہند کے ہوم لینڈ اور پناہ گاہ’ کے طور پر پاکستان بنایا تھا۔

اس لیے موجودہ دور میں اس ملک کو خوش اسلوبی سے چلانے اور ایک دوسرے کے حوالے سے کشیدہ ماحول میں بہتری لانے کے لیے پاکستانیوں کے درمیان مستقبل کا لائحۂ عمل طے کرنے کے لیے سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ اس مکالمے کے حوالے سے چند نکتے جو میرے ذہن میں آ رہے ہیں یہ ہیں۔

1.لوگوں کے نزدیک ‘حقیقت’ اتنی اہم نہیں ہوتی جتنا اہم ‘تاثر’ ہوتا ہے۔ اور یہ ہرگز ضروری نہیں ہے کہ تاثر درست یا حقیقت پر مبنی ہو، مگر مانا وہی جاتا ہے۔ یہ تاثر تمناؤں کو بن کر بنایا جاتا ہے۔

2.لوگ احسانوں کو یاد نہیں رکھتے، خاص طور پر ان کو جو خود ان پر نہیں بلکہ ان کے آبا و اجداد پر کیے گئے ہوں۔

3.قیام پاکستان سے پہلے ان چار صوبوں کی جو اب پاکستان میں ہیں حیثیت متحدہ ہندوستان میں وہ نہیں تھی جو پاکستان میں ہے

4.قیام پاکستان سے پہلے متحدہ ہندوستان میں اصل اہمیت ‘گنگا جمنا تہذیب’ کو حاصل تھی، ہندوؤں کے لیے بھی اور مسلمانوں کے لیے بھی۔ یہ اہم بات نوٹ کرنے کی ہے کہ اس علاقے میں مسلمان اقلیت میں تھے۔

5. اس زمانے میں ‘گنگا جمنا تہذیب’ کے مسلمان اور ان کی زبان اردو بر صغیر کے مسلمانوں کی نمائندگی کرتی تھی۔ اس زمانے کے نسبتاً کم اہمیت والے صوبوں والے مسلمان ان کو بڑا بھائی مانتے تھے اور یہ بات ان کو کھلتی نہیں تھی۔

6.بیسویں صدی کے آغاز تک ‘گنگا جمنا تہذیب’ کے علاقوں میں ہندو مسلمان دشمنی شروع ہو چکی تھی۔

7.جب ‘گنگا جمنا تہذیب’ کے مسلمانوں کو اندازہ ہوا کہ انگریز یہاں زیادہ عرصے تک نہیں رہیں گے تو انہیں خوف پیدا ہوا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد ہندو اکثریت میں ہونے کی وجہ سے ہر شعبے میں چھا جائیں گے اور مسلمانوں کو معاشی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں مواقع نہیں ملیں گے۔

8.اسی خوف میں مبتلا ہو کر انہوں نے پہلے اول انڈیا مسلم لیگ بنائی، اور بعد میں پاکستان بنانے کو سوچا اور اس کے قیام کی تحریک چلائی۔

9.مسلم لیگ اور تحریک پاکستان زیادہ تر شمالی برصغیر کے ان علاقوں میں ہی مقبول اور سرگرم رہی جہاں مسلمان اقلیت میں تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ تحریک پاکستان چلانے والے ‘گنگا جمنا تہذیب’ کے مسلمان جانتے تھے کہ اگر ان کی تحریک کامیاب ہو بھی گئی تو پاکستان ان کے آبائی علاقوں میں نہیں، ان علاقوں میں بنے گا جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ یعنی اس وقت کے بر صغیر کے نسبتاً پسماندہ علاقوں میں۔

10.جو صوبے بعد میں پاکستان میں شامل ہوئے ان میں مسلم لیگ کوئی بہت زیادہ کامیاب نہیں تھی۔

11.انگریزوں، مسلم لیگ اور کونگریس پارٹی کے درمین مزاکرات کے بعد 3 جون 1947 کے اعلان کی بنیاد پر برصغیر کی تقسیم کا فیصلہ کیا گیا۔

12.لارڈ ماؤنٹ بیٹن جو اس وقت ہندوستان کے وائسروئے تھے اس وقت برطانیہ کی شاہی بحریہ میں حاضر سروس ریر ایڈمرل (آرمی کے میجر جنرل کے برابر) تھے اور جلد سے جلد اس قضیعے سے جان چھڑا کر واپس بحریہ میں جانے کے لیے بے قرار تھے کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ اس سے ان کی ترقی متاثر ہوگی۔ اس لیے انہوں نے تقسیم ہند کی تاریخ جون 1948 جس کی توقع سب کر رہے تھے سے قریب لا کر 15 اگست 1947 کر دی۔

13.اس اعلان کے وقت ان ملکوں کی سرحدوں کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ برطانیہ کے اس وقت کے مایہ ناز وکیل سر سرل ریڈکلیف دونوں ملکوں کی سرحد کا تعین کریں گے۔ سر سرل ریڈکلیف اپنی زندگی میں کبھی بر صغیر نہیں آئے تھے اور اس جگہ اور یہاں کے لوگوں سے بالکل نا آشنا تھے، اور ان کو یہ کام کرنے کے لیے صرف تین ہفتے دیے گئے تھے۔ ان کو یہ کام کرنے کے لیے صرف متعلقہ علاقوں کے نقشے اور آخری مردم شماری کے نتائج دیے گئے۔ تنگی وقت کی وجہ سے انہوں نے یہ کام اپنے دفتر میں بیٹھ کر سرانجام دیا اور ان علاقوں کا ایک بھی دورہ نہیں کیا۔ ان کے اتخاب میں اس چیز کو بس چیز کو یہ کہہ کر اہمیت دی گئی تھی کہ چوں کہ وہ اس علاقے اور اس میں بسنے والوں سے نا آشنا ہیں اس لیے وہ غیر جانب دار رہیں گے۔

14.بھارت اور پاکستان نام کے دو ممالک 14 اور 15 اگست 1947 کو قائم کیے گئے۔ مگر ان کے درمیان سرحد کا اعلان جسے ریڈ کلیف ایوورڈ کہتے ہیں 15 اگست کو ہوا تھا۔

15.تقسیم کے وقت شمالی ہند میں اور خاص طور پر پنجاب میں بڑے پیمانے پر ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے اور ہر طرف سے انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کیا گیا۔ لوگوں کو مارا گیا، املاک کو آگ لگائی گئی، اور خواتین کی بڑے پیمانے پر آبروریزیاں کی گئیں، جن میں سے کچھ کو ریپ کرنے کے بعد مار دیا گیا، کچھ کو اغوا کر کے اپنے گھروں میں رکھل بنا کر رکھ لیا گیا۔

16 پاکستان بننے کے بعد یہاں کے صوبے جو متحدہ ہندوستان میں کلیدی اہمیت نہیں رکھتے تھے، نئے ملک کا ہارٹ لینڈ یا مین لینڈ بن گئے ہیں

17۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ پاکستان ایک جدید قومی ریاست یعنی نیشن اسٹیٹ ہے جس میں مختلف صوبے ہیں۔ یہ ایک وفاق یعنی فیڈریشن ہے، جس میں صوبوں اور مرکز کے درمیان اختیارات وغیرہ کے معاملات قانونی طور پر طے کیے جاتے ہیں جو ان دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی یک طرفہ طور پر ان میں تبدیلی نہیں لا سکتا۔ یہاں مشکل یہ آن پڑی کہ یہ قومی ریاست قائم ایسی جگہ کی گئی جہاں کے لوگوں کی وابستگیاں اپنے اپنے علاقوں اور اپنی اپنی ‘قوموں’ تک محدود ہوتی تھیں اور کسی بڑے کثیر القومی یا کثیر اللسانی انتظام کے ساتھ نہیں۔

18: نئے ملک کے انتظام کا رنگ شروع میں وہ پڑا جو اس وقت کی اشرافیہ کا تھا یعنی اردو تہذیب کا۔ اور اس وقت ملک کے مغربی بازو کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ ہاں مشرقی بازو نے شروع سے اس کی مخالفت کی تھی۔

19: وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نئے ملک میں پیدا ہونے والے مواقعوں اور مقابلے سے ہندؤوں، سکھوں اور پارسیوں کے نکل جانے کی وجہ سے ان پاکستانیوں میں ترقی کے ثمرات پہنچنے لگے جو یہاں کے مقامی تھے، خاص طور پر پنجابی اور پختون، جو کہ بہت اچھی بات ہے۔

20: رفتہ رفتہ تعداد میں زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ ہر جگہ ہجرت کر کے آنے والوں کے ساتھ آنے لگے اور یہ مقام بھی آ گیا کہ وہ ان کی جگہ لینے لگے۔ اس پر اقربا پروری، اپنے علاقے اور ہم زبان لوگوں کی طرف داری کا تڑکا لگانے سے بات اردووی لوگوں کے لیے مزید بگڑ گئی۔ کوٹا سسٹم ایک الگ بحث ہے۔ اسے یہاں سمویا نہیں جا سکتا ہے)

21: اب صورت حال یہ ہے کہ ملک کو بنے ہوئے سات دھائیوں سے زیادہ وقت گزر چکا ہے اور اب نہ وہ لوگ باقی ہیں جو اس دور میں جی رہے تھے، نہ ہی وہ مخصوص حالات اور مشکلات اور خدشات آج اتنے معنی رکھتے ہیں جتنے 1947 میں تھے۔ آج کے دور میں ملک میں وہ لوگ رہ رہے ہیں جو پاکستان کے قیام کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ آج کے دور کے حالات، مشکلات، مسائل، خدشات اور تعصبات آج کے دور سے مخصوص ہیں اور ان سے بالکل الگ ہیں جو 1947 میں تھے۔

22: آج کے دور میں سب پاکستانیوں کے درمیان ایک مکالمے کی ضرورت ہے۔

اس میں اردووی لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج کا پاکستان 1947 والے پاکستان سے مختلف ہے۔ 1947 میں جو پاکستان بنایا گیا تھا اس کا مقصد تھا ‘مسلمانان ہند کا ہوم لینڈ اور پناہ گاہ’۔ جو پاکستان آج وجود رکھتا ہے وہ ہے ‘چار صوبوں کا وفاق’۔ اردووی لوگوں کو یہ بات بھی سمجھنی پڑے گی کہ آج کے پاکستان میں لوگ صرف پاکستانی ہو کر اور پاکستانی ہونے کے چکر میں اپنی صوبائی یا لسانی پہچان کو ثانوی اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں۔

ہم لوگ جو اپنی پہچان صرف پاکستانی بتاتے ہیں ہم کسی بھی قسم کی صوبائی/علاقائی/لسانی پہچان کو اہمیت دینے کو ملک دشمنی سمجھتے ہیں نہیں سمجھتے کہ ملک کی 92 دی صد آبادی ایسا نہیں سوچتی۔ وہ لوگ اپنے علاقوں، اپنی زبانوں، اپنی تاریخ اور تہذیب پر بہت نازاں ہیں اور وہ ان سب کی اہمیت ختم کر دینے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔ ان میں سے جو قوم پرست ہیں وہ تو یہاں تک منہ کھول کر کہہ دیتے ہیں کہ کہ ہماری ‘قوم’ ہزاروں سال پرانی ہے جب کہ یہ ملک صرف ستر سال پہلے بنایا گیا تھا۔ ہم اس ملک کے قیام سے پہلے بھی (فلاں) تھے اور اگر یہ ملک ٹوٹ جاتا ہے تو بھی ہماری سرزمین ہمارے لوگ ہماری زبان اور ہماری تہذیب یہیں موجود رہے گی۔ ان لوگوں کے سامنے اگر ملک کے مفاد اور ان کے صوبے کے مفاد کے درمیان اگر کبھی ٹکراؤ ہو تو یہ اپنے صوبے کے مفادات کو ترجیح دیں گے۔

یہ بات ہم کو اچھی لگے یا بری، مگر ہے مبنی بر حقیقت۔ ایسے میں 92 فیصد آبادی کے مقابلے میں اپنی بقا کے لیے مناسب ہوگا کہ ہم بھی جیسا دیس ویسا بھیس پر عمل کریں اور مان لیں کہ آج کے دور میں لوگ اپنے صوبوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں تو ہم بھی اپنی پہچان میں اپنے صوبے کا نام کسی نہ کسی شکل میں رکھیں اس لیے کہ ہمیں اچھا لگے یا برا، ہم مانیں یا نہ مانیں، ہمارا جینا مرنا اس پاکستان میں جو 92 فی صد لوگوں کے نزدیک چار صوبوں کا وفاق ہے، صوبۂ سندھ سے وابستہ ہے۔ ہم لاکھ کہیں کہ ہم اپنی ذات میں انجمن ہیں اور ہمارا اندرون سندھ آنا جانا اور میل جول نہیں ہوتا اور ہم ان پر منحصر نہیں ہیں، مگر جب تک پاکستان کی موجودہ آئینی شکل تبدیل نہیں ہوتی ہم صوبۂ سندھ کے باشندے ہیں۔ لہٰذا ہمیں کراچی اور پاکستان کے ساتھ ساتھ صوبۂ سندھ کو بھی اتنا ہی اپنا سمجھنا ہوگا۔

اسی طرح میں اپنے ہر قسم کے قوم پرست بھائیوں کی خدمت میں عرض کروں گا کہ ہمیں آپ کے علاقے کا، آپ کی زبان کا، آپ کی تاریخ کا، آپ کی تہذیب و ثقافت اور ان سب سے جڑی آپ کی پہچان کا بہت احترام ہے۔ ہم ان سب چیزوں کی قدر کرتے ہیں۔ لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ دور ملکوں اور قومی ریاستوں کا ہے۔ آج کے دور میں کسی بھی ملک کے تمام باشندے بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب اس ملک کی نیشن کہلاتے ہیں۔ اس انگریزی لفظ نیشن کا اردو ترجمہ ‘قوم’ ہوتا ہے۔ اس لیے جب ‘پاکستانی قوم’ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس کا مطلب پاکستانی شہریت رکھنے والے تمام لوگ ہوتے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ لفظ قوم کے ایک سے زیادہ معنی ہیں۔ ایک معنی وہ ہیں جن میں آپ لوگ اسے استعمال کرتے ہیں اور ایک معنی وہ ہیں جو میں نے بیان کیے ہیں، اور ان معنوں کے حساب سے کسی شخص کی طرح ایک قوم کا بھی ایک یوم پیدائش ہو سکتا ہے، جو اس ملک کے قیام یا آزادی کی تاریخ ہوتی ہے۔ اس لیے آپ لوگوں کا اس اصطلاح پر اعتراض مناسب نہیں ہے۔

دوسری بات یہ کہ جیسا کہ ابھی میں لکھ چکا ہوں کہ یہ دور ملکوں اور قومی ریاستوں کا ہے، اس لیے آپ کے تاریخی ہوم لینڈ لاکھ ہزاروں سال پرانے اور اپنی منفرد تاریخ، زبان، تہذیب و تمدن رکھنے والے سہی، لیکن آج کے دور میں وہ پاکستان نامی ملک کے صوبے ہیں اور اس حوالے سے وہ پاکستان کے ماتحت ہیں، چاہے پاکستان جمعہ جمعہ آٹھ دن پہلے ہی کیوں نہ قائم ہوا ہو۔ اس میں برا ماننے کی کوئی بات نہیں ہے، آج کی دنیا کا یہی دستور ہے۔

ایک اور بات جو میں اپنے قوم پرست دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ وہ اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان چار صوبوں کا وفاق ہے اس لیے صوبوں کے مفادات مرکز کے مفادات پر مقدم ہیں۔ بھائی آپ لفظ وفاق یا فیڈریشن کی غلط تعریف کر رہے ہیں۔ جو باتیں آپ اس حوالے سے کرتے ہیں وہ فیڈریشن نہیں کنفیڈریشن پر لاگو آتی ہیں۔

فیڈریشن کا لازمی مطلب ایک مردانہ کمزوری میں مبتلا مرکز نہیں ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ کسی قانونی فارمولے کے تحت مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات اور دیگر معاملات طے کیے جاتے ہیں جنہیں دونوں میں سے کوئی فریق یک طرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا۔ مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات اور دیگر معاملات کا کیا فارمولا طے ہوتا ہے یہ ہر فیڈریشن کا اندرونی معاملہ ہے، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے کہ مرکز لازمی طور پر کمزور ہونا چاہیے۔ اس لیے فیڈریشن میں رہتے ہوئے کنفیڈریشن والے اختیارات نہ مانگیں۔

کسی بھی ملک کے لیے اس کی بقا سب سے اہم چیز ہوتی ہے اس لیے وہ ملک کے مفادات کے خلاف کوئی کام نہ کریں، چاہے وہ یہ کام اپنے علاقے یا قوم کی محبت میں ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ ایسی باتیں نہ کریں جن کی وجہ سے پاکستان جیسے کثیر القومی اور کثیر اللسانی ملک میں فتنہ فساد پھیلے (ان میں طے شدہ امور کے گڑے مردے اکھیڑنا شامل ہے)، نہ ملک کا نام تبدیل کرنے کی بات کریں، نہ ہی اسے فیڈریشن سے کنفیڈریشن میں تبدیل کرنے کی۔ اور جو لوگ ریاست مخالف کام کرتے ہیں یا نعرے لگاتے ہیں ان کی حمایت نہ کریں۔ یہ یاد رکھیے کہ آپ کے علاقے ایک ملک کے صوبے ہیں اپنی ذات میں آزاد ملک نہیں ہیں۔

آپ کو یہ بھی تسلیم کر لینا چاہیے کہ سندھ کے شہری علاقوں میں رہنے والے اردووی لوگ، جن کی مادری زبان اردو ہے، وہ ہیں جن کے والدین یا دادا پر دادا تو پاکستان بننے کے بعد بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آنے کے بعد سندھ کے شہری علاقوں میں آباد ہوئے تھے لیکن وہاں آج کل آباد اردووی لوگ قیام پاکستان کے بعد پیدا ہوئے ہیں اور پیدائشی پاکستانی ہیں۔ اور یہ لوگ واپس بھارت نہیں جا رہے۔ یہ بات آپ لوگوں کو قبول کرنی پڑے گی کہ یہ لوگ آج کے پاکستان کی آبادی کا تقریباً آٹھ نو فی صد ہیں اور چوں کہ وہ خود پیدائشی پاکستانی ہیں، یہیں جیتے مرتے ہیں اور ان کے باپ دادا، بلکہ چار نسلوں کی قبریں پاکستان میں ہیں؛ نہ ہی ان کا منی آرڈر ان کے شہروں سے کہیں جاتا ہے نہ ان کی میت تدفین کے لیے کہیں لے جائی جاتی ہے تو وہ ہر طرح سے فرزند زمین ہیں؛ چاہے آپ کو اچھا لگے یا نہ لگے، چاہے آپ مانیں یا نہ مانیں۔

اس لیے آپ اس لفظ کو نہ پکڑ لیں جو انہوں نے (ان کے بقول) تنگ آ کر اور ضد میں اختیار کیا ہے یعنی ‘مہاجر’۔ یہ ایک سیاسی پہچان کی اصطلاح ہے۔ میں ذاتی طور پر اس لفظ کے خلاف ہوں کیوں کہ میرے نزدیک اس کا مطلب ہے ‘پردیسی’ اور اس ملک میں جو آپ کے ماننے کے مطابق آپ کے بڑوں نے بنایا ہے خود کو پردیسی کہنا اور پھر برابر کے حقوق مانگنا کہیں کی عقل مندی نہیں ہے؛ لیکن ہم کو یہ حق لوگوں کو دینا چاہیے کہ وہ خود کو جو کہلوانا چاہیں وہی کہلوائیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مہاجر کی اصطلاح کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان سب کو پناہ گزین کیمپوں میں ہونا چاہیے اور پھر انہیں ان کے آبائی علاقوں میں واپس بھیج دیا جانا چاہیے۔

سب پاکستانیوں کو تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ لوگ اس ملک کے فیبرک کا حصہ ہیں۔ یہ کہیں نہیں جا رہے۔ آپ کی ان کے لیے ناپسندیدگی کی وجہ سے یہ غائب نہیں ہو جائیں گے۔

اچھا یہ ہے کہ ان لوگوں کو اپنی تمام اچھائیوں اور برائیوں کے ساتھ جہاں ہے جیسا ہے کہ اصول کے تحت قبول کریں اور سب کے سب، بہ شمول اردووی لوگوں کے، اپنے اپنے تعصبات کو قابو میں رکھیں اور سب پاکستانی ایک دوسرے کو قبول کر کے اپنے اور اپنے بال بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کی کوششیں کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں