The news is by your side.

خان صاحب ایک نظر غریبوں پر بھی

حکومت اور اس کے وزراءیہ چاہتے ہیں کہ قوم ٹیکس دے مگر قوم کی بہتری کے لئے اب تک حکومت کی جانب سے بصیرت افروز خیالات کا فقدان ہے۔ عمران خان بحیثیت وزیراعظم کوشاں ہیں کہ پاکستان بے مقصد تصادم سے بچتے ہوئے ترقی کرے، مانا کہ یہ ان کا فراخدلانہ فیصلہ ہے اور یہ اچھی سوچ ہے مگر اتنی خوبیاں ہونے کے باوجود مہنگائی کے حوالے سے قوم ناراض ہے، وقت کا ضیاع کرے بغیر خان صاحب اچھے فیصلے کریں جو نظر آئیں، معتبر جمہوری نظام کا پودہ تو جب ہی پھل دے گا جس کی جڑیں عوام میں ہیں۔

اپوزیشن بلند و بانگ دعوے کرکے اپنے آپ کو زندہ رکھنے کی پوری کوششیں کررہی ہے اور جو کرپشن میں لتھڑے ہوئے ہیں، وہ بھی پارسا بن کر واویلا مچارہے ہیں مگر دکھ اس بات کا ہے کہ حکومت کے وزراءاپنے رہبر عمران خان کو قواعد وضوابط سمجھانے سے قاصر ہیں۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومتی کچھ وزراءقوم کی بہتری کے بجائے اپوزیشن کو جواب دینے کے لئے رات رات بھر بیانات لکھتے ہیں اور پھاڑ دیتے ہیں کہ صبح انہیں اپوزیشن کا حساب کتاب مکمل طور پر کرنا ہوتا ہے۔

حکومتی وزراءکو چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہم پر اس قوم نے اعتماد کرکے پرانے بت توڑے ہیں، ہمیں اپوزیشن کو نظر انداز کرکے صرف اور صرف عوام کے لئے میدان میں نکلنا ہوگا، ماضی کی نام نہاد جمہوریت کے استادوں نے اس معصوم عوام کو اس منصب پر فائز کردیا کہ ان کی سوچنے کی صلاحیتیں بھول بھلیاں کی نظر ہوگئیں، جو پڑھے لکھے لوگ تھے، انہوں نے تو 10 سال پہلے ہی یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ جب تک کارہائے نمایاں کوئی بات ان منجھے ہوئے سیاست دانوں کی طرف سے نہیں آئے گی وہ ووٹ کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کریں گے اور جو معصوم غیر تعلیم یافتہ لوگ تھے وہ ان کی چکنی چپڑی باتوں کی بھینٹ چڑھ گئے اور اس فارمولے پر عمل شروع کردیا کہ اپنے حقوق کے لئے آواز نہیں اٹھاتے اور یہ سوچتے ہیں کہ انقلاب آئے اور سب کچھ بدل جائے۔ حالات یہ ہیں کہ ایک لٹیرے اور چور کے لئے جان کی بازی لگاتے ہیں مگر اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ عدل وانصاف مہیا کیا جائے جب ووٹ دینے جاتے ہیں تو امیدوار کی تعلیم اور کردار کو نظر انداز کردیتے ہیں مگر وطن سے جہالت کا سدباب کرنا چاہتے ہیں۔

حالات یہ ہیں کہ دشمن ملک کی فلموں کو ذوق وشوق سے دیکھتے ہیں مگر انہیں کشمیر اور فلسطین کی آزادی چاہیے، اچھی قومیں اپنے حکمرانوں کا حساب کتاب لیتی ہیں مگر کرپشن سے لتھڑے ہوئے لوگوں کا دفاع کرنے کے لئے یہ جان کی بازی لگادیتے ہیں پھر ایک دن ان سے تاریخ وہ حساب لے لیتی ہے، یہ قوم بہت معصوم ہے، ماضی کے دروازوں کو بند کرکے حال کے دروازے کھول لیتی ہے۔

آج اپوزیشن شور مچارہی ہے کہ مہنگائی نے عوام کی جان نکال دی ہے مگر وہ یہ بھول گئی کہ اپوزیشن نے ماضی میں کیا کیا تھا، کیا ماضی کی حکومتوں میں پیٹرول118 روپے تک فروخت نہیں ہوا، کیا آلو 100 روپے کلو اور ٹماٹر150 روپے کلو نہیں بکے، یہ وہی معصوم لوگ ہیں جن کے بارے میں پچھلی سطروں میں لکھ چکا ہوں۔

اب آتے ہیں مسائل کی طرف۔۔۔ عمران خان صاحب کو چاہیے کہ اپوزیشن کی باتوں پر کان نہ دھریں بلکہ ناکامی دل گرفتہ قوم کے لئے اٹھ کھڑے ہوں، وزیروں کو بیانات سے روک دیں اور ہر وزیر کو کثیر فنڈ دیں تاکہ وہ اپنے حلقوں میں جائیں اور لوگوں کے مسائل کی طرف توجہ دیں۔ خان صاحب چاہتے ہیں کہ ہر پاکستانی ٹیکس دے، آپ کی بات سے سو فیصد اتفاق ہے مگر جو لوگ ایمانداری سے ٹیکس دے رہے ہیں ان کو ایسی مراعات دیں کہ جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے وہ شرم سے پانی پانی ہوجائیں اور اس معاشرے میں کوئی اپنی بے عزتی برداشت نہیں کرسکتا۔

اخبارات کے آرٹیکل کے لئے ایک مشیر کا اہتمام کریں جو صحافی عوامی مشکلات پر قلم اٹھاتے ہیں، ان کے آرٹیکل پڑھنے کے بعد اگر اس میں اصلاح کا پہلو نظر آتا ہے تو انتہائی محنت اور ایمانداری سے خان صاحب اس پر عمل کریں اور یاد رکھیں خان صاحب مفلس، نادار اور غریب صحافی ہی قومی مسائل پر لکھتے ہیں کہ انہیں تو خود پیٹ کے لالے ہیں اور وہ عوام میں رہ کر سختیاں جھیلتے ہیں کہ وہ انہی میں سے ہیں، اگر آپ عوام سے قربانی مانگ رہے ہیں اور آپ عوامی پذیرائی کے طلبگار ہیں تو پھر حقیقی قدم اٹھائیں کہ انصاف کی تزئین سامنے آسکے اور مایوسی کی گرد چھٹنی شروع ہو۔

عوام تو30 سال سے تیری باری اور میری باری کے انتظار میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر توہین وتذلیل کا شکار ہوتی رہی، آپ خان صاحب خود فیصلہ کیجئے کہ یہ قوم کب تک سولی پر لٹکی رہے گی اور اس سلگتی عوام نے آپ کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ مدینے کی ریاست اگر بنانی ہے تو پھر حضرت عمر فاروقؓ کے کردار پر عمل کرنا ہوگا، یہ قوم کب تک قربانی دے گی، آپ پہلی فرصت میں تمام ایم این ایز، ایم پی اے، سینیٹر، وفاقی وصوبائی وزراءاور مشیر حضرات کی مراعات ختم کریں، ان کی مراعات پر کروڑوں روپے سالانہ خرچ ہوتے ہیں، ان کے پروٹوکول پر ایسے ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ لکھتے ہوئے شرم آتی ہے، سب کچھ آپ قوم سے لینا چاہتے ہیں تو پھر حضرت عمر فاروقؓ اور مدینے والی ریاست کیسے جنم لے گی، جب اسمبلی میں مراعات کی بات ہوتی ہے تو اپوزیشن اور حکومتی اراکین اپنے حقوق کے لئے ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر واویلا مچاتے ہیں، ان کی مراعات دیکھتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، یہ کیسا انصاف ہے؟

قوم نے آپ کو اس لئے ووٹ دیا تھا کہ اب سارے اعزاز و اکرام قوم کے حصے میں آئیں گے مگر قوم تو وہی سوکھے کنوئیں پر کھڑی ہے، جس میں عزت کے پانی نام کی کوئی چیز نہیں ہے، آپ ٹیکس ضرور لیجئے کہ جو قومیں ٹیکس دیتی ہیں وہ خوشحالی کے بندھن میں بندھ جاتی ہیں، جو لوگ ٹیکس دیتے ہیں اور ایف بی آر کے ممبر ہیں ان کے لئے ریلوے، پی آئی اے، سرکاری ادارے میں ایک کاؤنٹر بنائیں جو صرف ایف بی آر کے ممبر کے لئے ہوں، آپ سوچیں جب کوئی ریلوے میں ٹکٹ کی بکنگ کے لئے جائے تو اس کاؤنٹر پر کھڑا ہو جو ٹیکس نہیں دیتا، دوسرے لوگ اسے اچھی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے پھر آخر مجبور ہو کر خوشحال لوگ اپنی بے عزتی برداشت نہیں کرسکیں گے اور حکومت کو خود ٹیکس دیں گے، اس معاشرے میں ایسے لوگ بھی بستے ہیں جو کروڑپتی ہیں مگر ٹیکس کے نام پر ایک آنہ نہیں دیتے، وہ اس بے عزتی کو کیسے برداشت کریں گے جو روٹی کے لئے محتاج ہے، اس کی صحت پر ان کاؤنٹر کا اثر نہیں پڑے گا، ہاں جو کروڑوں کی گاڑیوں میں آتے ہیں ملک کو ایک پیسہ نہیں دیتے ان کے لئے یہ مرحلہ کسی عذاب سے کم نہیں ہوگا۔

یہ کیسی روایت ہے کہ جو تنخواہ دار طبقہ ہے، اس سے تو ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے کہ وہ آپ کے اور ادارے کے حصار میں ہے مگر جو کاروبار کے نام پر لاکھوں کماتے ہیں مگر ٹیکس سے بچنے کی کوششیں کرتے ہیں، جو ٹیکس ادا کرتے ہیں انہیں آپ کی حکومت اسٹیکر جاری کرے تاکہ بوقتِ ضرورت وہ اس اسٹیکر کو استعمال کریں، خدارا جو ملک کو ٹیکس دیتے ہیں، ان کی عزت کیجئے لاکھوں موٹر سائیکلیں، ہزاروں پبلک ٹرانسپورٹ تو لاقانونیت کرتے ہیں مگر جو شریف شہری ٹیکس دیتا ہے ایف بی آر کا ممبر ہے، اس سے پولیس پوچھتی ہے کہ آپ نے بیلٹ کیوں نہیں باندھی۔

راقم نے اصولوں کے دروازے کو کھٹکھٹایا ہے، آپ نیکی سے اس دروازے کو کھولیے تاکہ قوم میں ٹیکس دینے کا شعور پیدا ہو، اگر آپ اس ناقص مشورے پر توجہ نہیں دیں گے تو پھر اگلا الیکشن تمام سیاسی جماعتیں اتحاد کرکے آپ کے مدمقابل ہوں گی، لہٰذا اچھے اصول نافذ العمل کریں اور راقم کی تحریر پر توجہ دیں کہ راقم بھی اس مفلس عوام کا حصہ ہے، آپ سے محبت کا یہ عالم ہے قوم کا کہ کراچی والوں نے آپ کے حق میں فیصلہ دیا تو پھر آپ اس قوم کو مایوس نہ کریں۔

وزیر داخلہ ایک فوجی رہ چکے ہیں اور فوج اصولوں کے تحت زندگی گزارنے کی عادی ہوتی ہے، چاروں صوبوں کے آئی جیز کو بلا کر لاقانونیت کا سدباب کروائیں، کراچی ٹریفک کے حوالے سے تباہ ہوچکا ہے، کوئی پرسانِ حال نہیں، ماضی میں دیدہ دلیریوں سے سویلین افراد کو وزیر داخلہ کا منصب دیا گیا جو بہت ناکام رہا اور قانون بے قاعدگیوں کا شکار ہوگیا ہے، اس میں سخت اصلاحات کی ضرورت ہے، قوم کب تک کولہو کے بیل کی طرح زندگی گزارے گی، خان صاحب قوم کے لئے اب نئے عزم واستقلال کی ضرورت ہے۔

کیا خوب غالب نے کہا کہ۔۔۔

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں