The news is by your side.

بدلتے ہوئے پاک امریکا تعلقات اور ہمارا مستقبل

بین الاقوامی تعلقات میں ہر ملک کا اپنا اپنا مفادہوتا ہے آج کے دوست کل کے دشمن اور کل کے دشمن آج پھر دوست بن سکتے ہیں اگر ان کے قومی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہو جائیں۔

امریکا کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات کی بھی عجب کہانی ہے جومختلف موڑوں اور دوہراؤں سے ہوتی ہوئی ایک ایسی نہج پر پہنچ گئی ہے جہاں پھر پاکستان امریکا کے لئے کسی مسیحا کا درجہ رکھتا ہے۔ بالکل یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں بلکہ قدرت کی شان ہے کہ نائن الیون کے واقعے کے بعد پاکستان کو پتھروں کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دینا والا سپر پاور ملک آج پاکستان سے التجا کر رہا کہ وہ اسے پتھروں سے نکلنے میں مدد فراہم کرے۔

پاک امریکا تعلقات میں یوں تو توازن ہمیشہ امریکا کے حق میں رہا مگر پھر بھی پاکستان نے اس سے اکا دکا فوائد حاصل کئے جن میں سر فہرست افغان جہاد کے آڑ میں امریکا کا بھروسا جیت کراس کے ناک تلےاپنا نیوکلئیر پروگرام پایہ تکمیل تک پہنچانا شامل ہے۔ مگر دوسری طرف 30 لاکھ افغان مہاجرین کا تحفہ، پاکستان کے سرحدی علاقوں میں، گن/ کلانشنکوف، منشیات کا فروغ اور غیر قانونی تجارت اور اسمگلنگ اور دہشت گردی کی آماجگائیں بھی امریکی دوستی کا ہی شاخسانہ ہے۔

تاریخ شاہد ہے کہ جب جب امریکا کے جیوپولیٹیکل مفاد پاکستان سے وابستہ ہوئے تب تب پاک امریکا تعلقات بہت اچھے ہو نے لگے مگر جیسے ہی پاکستان میں امریکا کا مفاد کم یا ختم ہونے لگا دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر بھی اس کا اثر پڑا۔ افغان جہاد اور نائن الیون کے واقعے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات مثالی تھے اور واضح رہے کہ پاکستان میں 2005ء کے زلزلے میں امریکی امداد اور کردار قابل ستائیش تھا۔ مگر آہستہ آہستہ پھر سے ان میں تناؤ آنے لگا جیسے جیسے دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی پر تنقید شروع کی۔ پھر سے دونوں میں بداعتمادی کی فضاء بتدریج بڑھنے لگی ۔

پاکستان کو غصہ تھا کہ امریکا نے پاکستان کو مطلوب دہشت گرد ملا فضل اللہ کو افغانستان میں پناہ دے رکھی ہے۔ اورامریکا پاکستان پر الزام لگاتا رہا کہ پاکستان افغان طالبان کے خلاف کارروائی نہیں کررہا۔ بعد ازاں، لاہور میں رونما ہونے والے ریمنڈ ڈیوس کےافسوسناک واقعے، پھر امریکا کے ایبٹ آباد آپریشن، اور سلالہ کے واقعے نے دونوں ملکوں کے مابین بد اعتمادی کی فضاء کو فروغ دیا۔ امریکا دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے اس سے ڈو مور کا مطالبہ کرتا رہا مگر گزشتہ سال پہلے پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکا کے اس مطالبے کو رد کیا اور پھر پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف ٹویٹ کا دوٹوک جواب دیا جس سے امریکا کو ایک واضح پیغام گیا کہ پاکستان میں اب حالات بہت بدل چکے ہیں جہاں ان کی احکامات کی پاسداری کرنے والوں کا دور اب رخصت ہو چکا ہے۔

مگر ادھر اس حقیقت سے بھی امریکا چشم پوشی نہیں کر سکتا کہ اسے یہ افغان جنگ نہ صرف بہت مہنگی پڑ رہی ہے بلکہ اس کی معیشت کی لٹیا ڈبونے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے جس کے پیش نظر امریکا اب اس جنگ سے باعزت نجات کا متمنی ہے اورجس کے لئے اسے پاکستان کی بیساکھی کی اشد ضرورت ہے۔ اس سے قبل وہ افغانستان میں بھارت کو شہ دے کر نتائج بھگت چکا ہے اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی افواج کی ماہرانہ صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ امریکا اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی چکا ہے اس لئے اسے دیر سے ہی سہی مگر اس بات کا اچھی طرح ادراک ہو چکا ہے کہ امریکا کو افغانستان سے نکلنے کے لئے جن بیساکھیوں کی ضرورت ہے وہ پاکستان کے پاس ہیں اسی لئے پاکستانی فوج کے سپہ سالار کو پینٹاگون میں اکیس توپوں کی سلامی دے کر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

بہر کیف امریکا پہلے خود ہی پاکستان کو اپنی بار بار ڈو مور بولنے والی روش کے باعث ناراض کر چکا تھا اس لئے اس نے اس بار سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ذریعے پاکستان کو قائل کیا کہ پاکستانی وزیر اعظم امریکی دورے کی پیش کش کو قبول کریں۔ پھر سونے پر سہاگہ پاکستانی وزیر اعظم نے اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات سے عین پہلے کیپٹل ہل ارینا میں ہزاروں سمندر پار پاکستانیوں کا مجمع اکٹھا کر کے امریکی صدر ٹرمپ پر دھاک بیٹھا دی جو خود کسی بھی محفل میں مخاطب ہونے سے قبل اس کے مجمعے کی تعداد پر خاص دھیان دیتے ہیں۔ لہٰذا پاکستانی وزیر اعظم کو خلاف توقع امریکا میں نہ صرف سر آنکھوں پر بیٹھا یا گیا بلکہ پہلی بار کشمیر پر امریکا نے پاکستان کی ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کو قبول کر کے پاکستان کو سفارتی محاذ پر دوسری ( کلبھوشن کے فیصلے کے بعد) بڑی کامیابی سے ہمکنار کر دیا جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اب ہوائیں پاکستان کے حق میں چل پڑی ہیں۔

علاوہ ازیں، توجہ طلب بات یہ ہے کہ گزشتہ تیس، چالیس برسوں میں جب پاکستان اپنے اندرونی سیاسی مسائل میں ہی الجھا ہوا تھا تو بھارت نے اپنی توجہ سائنس، ریاضی اور ٹیکنالوجی جیسے مضامین پر مرکوز رکھ کر ترقی کے منازل تیزی سے طے کئے اور اس کے شہری اب دنیا بھر میں ان شعبوں میں اہم مرتبوں پر فائز ہیں جس سے بھارت سفارتی محاذ پر بھرپور مستفید ہو رہا ہے ۔ اور انہیں وہ اپنے حق میں لابنگ کرنے کے لئے ماضی میں بھی احسن طریقے سے بروئے کار لاتا رہا ہے مگر اس بار ایسا لگتا ہے کہ اس کی دال قدرت نے شاید گلنے نہیں دی کیونکہ بھارت کے برعکس پاکستان نے تو زیادہ ڈاکٹرز پیدا کرنے پر زور رکھا اور وہ بھی ‘وائے ڈی اے’ کی کالز پر آئے روز ہمیں سڑکوں پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

مزید براں، بھارت کے امریکا میں تقریباً ڈیرھ کروڑ کے قریب شہری مقیم ہیں جبکہ پاکستان کے تقریباً ساڑھے سات لاکھ کے قریب ہیں۔ مگر پھر بھی بھارتی وزیر اعظم اتنا بڑا اجتماع وہاں کبھی نہیں کر پائے جتنا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے کر کے دکھا دیا۔ یہاں واضح رہے کہ یہ ساڑھے ساتھ لاکھ کے قریب اوورسیز پاکستانی امریکی ووٹرز بھی ہیں جس سے یقینی طور پر فرق پڑتا ہے اور پڑے گا بھی۔

علاوہ ازیں، پاکستانی وزیر اعظم کا فوجی حکام کے ہمراہ امریکا کا یہ دورہ دانستہ طور پر براستہ قطرکیا گیا جہاں افغان طالبان کا دفتر بھی قائم ہے اور جن سے کامیاب پیس ڈیل کے لئے امریکا کو پاکستان کی حمایت درکار ہے۔ اس ضمن میں پیش رفت سننے کے لئے امریکا یقینی طور پر بہت مضطرب ہو گا کیونکہ یہی وہ امر ہے جس نے امریکا کو پاکستان کی طرف جھکنے پر مجبور کیا۔ اورپاکستان بھی بجا طور پر طالبان سے مذاکرات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے جس سے افغانستان میں امن لوٹ آئے اور وہاں خون کی ہولی بند ہو۔ اس کے علاوہ پاکستان سے امریکی دیگر مطالبات میں، شکیل آفریدی کی رہائی، حافظ سعید کے خلاف قانونی کارروائی، انٹر نیشنل این جیوز کے خلاف کریک ڈواؤن بند کرنےکا مطالبہ اور بھارت کو براستہ پاکستان تجارت کرنے کی اجازت دینا شامل ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم کا یہ امریکی دورہ تو کامیاب ہے اس میں کوئی شک نہیں مگر اس کے نتائج نکلنے میں وقت درکار ہو گا اور ہمیں امید یہ رکھنی چاہیئے کہ پاکستان نے ماضی کی اپنی غلطیوں سے سیکھا ہو گا اور اس بار ہم امریکا سے اپنے قومی مفاد کی آئینے میں تعلقات استوار کریں گےنا کہ اپنی قومی سالمیت پرسمجھوتے کی قیمت پر جیسا کہ پہلے ہوتا آیا ہے جس کے نتیجے میں یہاں بلیک واٹر جیسی خونخوار امریکی تنطیم نے اپنے پنجے گاڑھ لئے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں