The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس سے خون کے خلیات متاثر ہونے کے حوالے سے نیا انکشاف

برلن: جرمنی کے طبی ماہرین نے ایک تحقیق کے نتائج کے حوالے سے کہا ہے کہ کووِڈ 19 سے کچھ مریضوں کے خون کے خلیات میں طویل المیعاد تبدیلیاں آنے کا امکان سامنے آیا ہے۔

طبی جریدے بائیو فزیکل جنرل میں شائع تحقیق کے مطابق کووِڈ کو شکست دینے کے بعد بھی کئی ہفتوں یا مہینوں تک مختلف علامات کا سامنا کرنے والے افراد کے خون کے خلیات میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کرونا کی طویل المیعاد علامات کا سامنا کرنے والے مریضوں کے لیے لانگ کووِڈ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کووِڈ کو شکست دینے والے افراد کو مہینوں تک مختلف طبی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، جیسا کہ تھکاوٹ اور مختلف اعضا کو نقصان پہنچنا۔

ماہرین نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کچھ مریضوں کے خون کے خلیات کے حجم اور افعال کو بدل سکتا ہے، چوں کہ خون کے خلیات کسی بھی فرد کے مدافعتی رد عمل کا حصہ ہوتے ہیں اور جسم میں آکسیجن کی فراہمی کا کام کرتے ہیں، تو ان میں آنے والی تبدیلیاں طویل المیعاد پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہیں۔

اس طبی تحقیق کے لیے میکس پلانگ زینٹریم کے ماہرین نے 40 لاکھ سے زیادہ خون کے خلیات کا تجزیہ کیا، جو لانگ کووِڈ کے 17 مریضوں، کووِڈ کو شکست دینے والے 14 افراد اور 24 صحت مند رضاکاروں (کنٹرول گروپ) کے نمونوں سے حاصل کیے گئے۔

سائنس دانوں نے رئیل ٹائم ڈیفارمیبلٹی سائٹومٹری کا طریقہ کار استعمال کر کے پہلی بار یہ معلوم کیا کہ کووِڈ 19 خون کے سرخ اور سفید خلیات کے سائز اور سختی کو تبدیل کر دیتا ہے، اور یہ تبدیلی بعض اوقات مہینوں تک رہتی ہے، تحقیق کا یہ نتیجہ وضاحت کرتا ہے کہ کیوں بعض متاثرہ افراد کرونا انفیکشن سے ٹھیک ہونے کے بعد بھی طویل عرصے تک علامات کی شکایت کرتے ہیں۔

رئیل ٹائم ڈی فارمیبیلٹی سائٹومٹری نامی طریقہ کار میں فی سیکنڈ ایک ہزار خون کے نمونے ایک تنگ پتی سے گزارے گئے، جن میں خون کے مدافعتی خلیات اور سرخ خلیات بھی شامل تھے جو جسم میں آکسیجن کی فراہمی کا کام کرتے ہیں، آخری مرحلے میں ایک کیمرے سے خلیات کے حجم اور ساخت میں تبدیلیوں کو ریکارڈ کیا گیا، نتائج سے انکشاف ہوا کہ لانگ کووِڈ کے مریضوں کے خون کے سرخ خلیات کنٹرول کے مقابلے میں بہت زیادہ مختلف تھے۔

محققین نے بتایا کہ ہم بیماری کے دوران اور اس کو شکست دینے کے بعد خلیات میں واضح اور طویل المیعاد تبدیلیوں کو شناخت کرنے کے قابل ہوئے ہیں، اس سے یہ بھی ممکنہ وضاحت ہوتی ہے کہ اس بیماری سے بہت زیادہ بیمار افراد میں خون کی شریانوں کی بندش اور کلاٹس کا خطرہ کیوں بڑھ جاتا ہے، اور اسی طرح مریض کے جسم میں آکسیجن کی منتقلی کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔

طبی ماہرین نے بتایا کہ لانگ کووڈ کے مریضوں کے مدافعتی خلیات صحت مند افراد کے مقابلے میں ’نرم‘ ہوجاتے ہیں جو ضرورت سے زیادہ مدافعتی رد عمل کا عندیہ ہے، اور ہمیں مدافعتی خلیات میں سائٹوسکیلٹن کا شبہ ہے جو اکثر خلیات کے افعال میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔

خیال رہے کہ مجموعی طور پر بیماری کو شکست دینے کے 7 ماہ بعد بھی لانگ کووڈ کے مریضوں میں خون کے خلیات بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں، محققین کے مطابق کچھ مریضوں کے خلیات میں آنے والی تبدیلیاں اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد معمول پر آ جاتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں