The news is by your side.

Advertisement

جلد کے کینسرکی تشخیص اب سادہ بلڈ ٹیسٹ سے ممکن

میلبرن: آسٹریلوی محققین کی ایک ٹیم نے ’ میلانوما‘ نامی کینسر کی ابتدائی مرحلے میں ہی تشخیص کے لیے خون کا انتہائی سادہ ٹیسٹ ایجاد کرلیا ہے۔

پگمنٹ خلیات پر مشتمل ’میلانوسائیٹس‘ عمومی طور پر جلد کے زیریں حصے میں موجود ہوتے ہیں اسی نسبت سے ان میں پیدا ہونے والے کینسر کو میلا نوما کہا جاتا ہے۔ میلانوسائیٹس قلیل مقدار میں منہ، آنتوں اور آنکھوں میں بھی پائے جاتے ہیں تاہم زیادہ تر میلانوما جلد کا کینسر ہی ہوتا ہے۔

کینسر کی دیگر اقسام کی طرح اس کینسر کو بھی ابتدائی مرحلے میں تشخیص کرنا بہت مشکل ہوتا ہے جس کی وجہ سے عمومی طور پر یہ آخری مرحلے میں ہی تشخیص ہو پاتا ہے جس کی وجہ سے مریض کی صحتیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں اس لیے ضرورت اس امر کی تھی کہ ایسا سادہ ٹیسٹ دریافت کیا جائے جس سے فوری تشخیص ممکن ہو سکے۔

ایڈیتھ کووآن یونیورسٹی کے ماہرین نے اس مشکل کو حل کرلیا ہے اور ایسا سادہ خون کا ٹیسٹ ایجاد کیا ہے جو میلانوما کینسر کو پورے جسم میں پھیلنے سے قبل ہی تشخیص کیا جا سکے گا اس طرح ابتدائی مرحلے میں تشخیص سے میلانوما کینسر کے مریضوں میں صحت یابی کی شرح 90 سے 99 فیصد ہے۔

اس سے قبل ماہرین جلد کے کینسر کے علاج کے لیے ایک جدید طریقہ بھی وضع کرچکے ہیں اور اس طریقہ علاج کو وائروتھراپی کہتے ہیں، جس میں ایک بیماری سے دوسرے بڑے مرض کا علاج کیا جاتا ہے، جلد کے سرطان میں مبتلا مریضوں کو خارش کے وائرس کے ذریعےعلاج کیا گیا تو یہ تجربات بے حد کامیاب رہے۔

ماہرین کے مطابق کامیاب تجربات کے بعد آئندہ سال یہ دواعام دستیاب ہوگی، جسےٹی ویک کا نام دیا گیا ہے، اس سے جلد کے کینسر کو بدن کے اندر پھیلنے سے قبل ہی ختم کرنا ممکن ہوگا۔

طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ ہمارے لائف اسٹائل میں اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپ اور دیگر گیجٹس کے استعمال کے سبب جلد کے کینسر کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ، اور فی الحال اس کی روک تھام کے کوئی واضح طریقے موجود نہیں ہیں صرف احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ہی جلد کے کینسر سے بچا جاسکتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں