The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس A بلڈ گروپ والوں کے لیے خطرناک قرار

برسلز: یورپین ممالک کے تحقیقی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ بلڈ گروپ اے والے افراد کرونا وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپ سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے ماہرین کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس سے متاثر ہونے والے افراد کے حوالے سے تحقیق کررہے ہیں تاکہ وبا کو کسی صورت قابو کیا جاسکے۔

سائنسدانوں نے مختلف تحقیقات کی طرح اس بات پر بھی تحقیق کی ہے کہ کرونا وائرس کون سے بلڈ گروپ کے افراد کو تیزی سے شکار بنا رہا ہے۔

بائیو ٹیکنالوجی کی ٹیسٹنگ کمپنی ’23 اینڈ می‘ کی ایک تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انسانی  جین میں ایسا فرق پایا گیا ہے جو خون کو متاثر کرتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان کووڈ 19 کا شکار ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کرونا کے حوالے سے جینیاتی عوام پر بھی تحقیق کررہے ہیں جس کا بنیادی مقصد اس بات کو معلوم کرنا ہے کہ کچھ افراد بغیر علامات کے کرونا کا شکار کیسے ہوجاتے ہیں اور جن میں علامات ظاہر ہوتی ہیں وہ شدید بیمار کیوں ہوتے ہیں۔

بائیوٹیکنالوجی کمپنی نے رواں برس اپریل میں مطالعے کا آغاز کیا جس میں مریضوں کے بلڈ گروپ کے حوالے سے تفصیلات جمع کی گئیں اور لاکھوں افراد کی ڈی این اے پروفائل بھی استعمال کی گئی تاکہ جینیات کے کردار کا معلوم ہوسکے۔

مزید پڑھیں: کرونا وائرس کن بلڈگروپس کے لوگوں کو زیادہ متاثر کرسکتا ہے؟ تحقیق

تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ بلڈ گروپ O کے حامل افراد کرونا سے سب سے کم متاثر ہوئے جبکہ B اور AB پازیٹیو گروپ کے حامل افراد زیادہ متاثر ہوئے۔

تحقیق کے مطابق بلڈ گروپ O والے افراد دوسرے گروپوں کے مقابلے میں کورونا وائرس سے زیادہ محفوظ ہیں کیونکہ اس کا دوسرے گروپس کے مقابلے میں 9 سے 18 فیصد تک امکان کم ظاہر ہوتا  ہے کہ  ان کا کووِڈ-19 کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آئے گا۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ B اور AB  کے حامل افراد میں کورونا وائرس کا شکار ہونے کے زیادہ امکانات ہیں کیونکہB اور AB میں کووِڈ-19 کے مثبت ٹیسٹ کی شرح سب سے زیادہ دیکھی گئی ہے جب کہ بلڈ گروپ A والے ان دونوں کے درمیان ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ایندرے فرینک کا کہنا تھا کہ ’اے بلڈ گروپ کے حامل افراد میں کرونا کا خظرہ 45 فیصد زیادہ بڑھ جاتا ہے جبکہ او گروپ والے افراد میں کرونا کا خدشہ 35 فیصد کم ہوجاتا ہے‘۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج  کے لیے عمر، صنف، جسمانی انڈیکس اور نسلی شناخت کے عوامل کو خاص طور پر مد نظر  رکھا گیا۔  تحقیق  سے یہ بات بھی سامنے آئی ہےکہ بلڈگروپ B نیگیٹو یا B پازیٹو ہے تو ایسے افراد کے کرونا کا شکار ہونے کی شرح میں کوئی نمایاں فرق نہیں دیکھا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں