site
stats
پاکستان

خودکش بلیو وہیل گیم پاکستان پہنچ گیا، خیبرپختونخواہ کے 2 نوجوان متاثر

پشاور: خیبرپختونخواہ میں قاتل گیم بلیو وہیل نے پنجے گاڑھ لیے، ایک لڑکی سمیت 5 نوجوان متاثر ہوگئے، متاثرہ نوجوانوں نے ٹاسک مکمل کرنے کے لیے خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

اطلاعات کے مطابق مردان سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں نے بلیو وہیل کے جان لیوا گیم کا ٹاسک مکمل کرنے کی کوشش کی اور وہ اسپتال پہنچ گئے، متاثرہ نوجوانوں کی عمریں 19 اور 21 سال کے قریب ہیں۔ دونوں نوجوانوں کا علاج پشاورخیبرٹیچرنگ اسپتال کے ماہر نفسیات ڈاکٹر عمران کے زیر نگرانی جاری ہے۔

ڈاکٹر عمران کے مطابق مردان سے تعلق رکھنے والے 2 نوجوانوں نے بلیو وہیل کا چیلنج مکمل کرنے کی کوشش کی تو وہ ڈپریشن کا شکار ہوگئے، اہل خانہ نے نوجوانوں میں ہونے والی تبدیلی کو محسوس کیا اور انہیں علاج کے لیے فوری طور پر اسپتال لائے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ نوجوں نے گیم کھیلنے کا انتخاب کیا تاہم وہ اس کا چیلنج مکمل نہیں کرسکے کیونکہ انہیں بازو کو بلیٹ سے کاٹ کر بلیو وہیل کا عکس بنانے کا چیلنج دیا گیا تھا، نوجوانوں نے کوشش کی تاہم تکلیف برداشت نہ ہونے کی وجہ سے یہ بات گھر والوں تک پہنچ گئی۔

ڈاکٹرعمران نے نوجوانوں کی شناخت بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایک نوجوان آئی ٹی کا ماہر ہے جس نے صرف گیم کی حقیقت جانچنے کو کوشش کی جس کے بعد وہ شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوگیا۔

اطلاعات سامنے ہیں کہ بقیہ تین افراد کا تعلق خیبرپختونخواہ سے ہی ہے جن میں ایک لڑکی بھی شامل ہے، متاثرہ افراد کی عمریں اٹھارہ سے پچیس سال کے درمیان ہے۔

بلیو وہیل گیم ہے کیا؟

واضح رہے بلیو وہیل گیم روس کے ایک نوجوان نے تیار کیا جسے حکومت نے ایک سال قید کی سزا دے رکھی ہے، اس گیم کو کھیلنے کی وجہ سے اب تک صرف روس میں 130 کم عمر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی قیمتی جانوں کو نقصان پہنچا چکے ہیں۔

آن لائن کھیلے جانے والے گیم میں پلیئر کو 48 دن میں ٹاسک دیے جاتے ہیں جو بہت خطرناک ہوتے ہیں تاہم کھیلنے والے کو آخری ٹاسک خودکشی کرنے کا دیا جاتا ہے، گیم کھیلنے والا شخص اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ کریٹیو کی جانب سے ملنے والے ٹاسک کو مکمل کر کے اس کی ویڈیو  اور تصاویر بناکر منتظمین کو بھیجے۔

گیم کھیلنے والے شخص کو اس طرح کے ٹاسک دیے جاتے ہیں کہ اُس کا دماغ ماؤف ہوجاتا ہے، ابتدائی مرحلے میں رات کو نیند سے جاگ کر خوفناک فلمیں دیکھنا پھر قبرستان جانا اور اپنے جسم کو کاٹ کر بلیو وہیل کا عکس بنانا شامل ہیں۔

یہ گیم ابھی نہیں بنا بلکہ پانچ برس پرانا ہے، اس گیم کا آغاز روس سے 2013ء میں ہواا اور مبینہ طور پر 2015ء میں اس کھیل کے ذریعے پہلی خود کشی ہوئی، بعدازاں اس گیم کے خالق فلپ کو گرفتار کرلیا گیا اور اس پر فرد جرم عائد کی گئی کہ اس گیم کی وجہ سے کم از کم 16 نوجوان لڑکیوں نے خودکشی کی کوشش کی۔

وکی پیڈیا کے مطابق روس کی ایک یونیورسٹی میں نفسیات کا مضمون پڑھنے والے ایک طالب علم فلپ نے دعویٰ کیا کہ یہ گیم اس نے ایجاد کیا بعدازاں اس طالب علم کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔

فلپ کا کہنا تھا کہ اس نے یہ گیم اس لیے بنایا کہ خودکشی کی سزا کے ذریعے معاشرے سے ایسے افراد کا صفایا کردیا جائے جن کی معاشرے میں کوئی قدر و قیمت نہیں۔

کس ملک میں کتنے لوگ متاثر ہوئے؟

سال 2016ء میں روس کے نوجوان بڑے پیمانے پر اس گیم کو کھیلنے لگے ، ایک صحافی نے اپنے مضمون کے ذریعے دنیا کی توجہ اس گیم اور اس کی طرف سے کرائے جانے والے خودکشی کے چیلنجز کی جانب مبذول کرائی کہ اس گیم سے معاشرے میں انتشار پھیل رہا ہے۔

ارجنٹینا میں ایک 14 سالہ لڑکے کو بلیو وہیل گیم کھیلنے کے بعد خودکشی کی کوشش کرنے کے باعث انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل کیا گیا اسی طرح ایک 12 سالہ لڑکی نے تیز دھار آلے سے اپنے بازو کو زخمی کرلیا۔

اس گیم کے باعث ارجنٹینا کے ایک اسپتال میں 17 جون 2017ء کو ایک 16 سالہ لڑکے نے دم توڑ دیا جس نے بلیو وہیل گیم کا آخری چیلنج بھی پورا کردیا، اس لڑکے کو خودکشی کی کوشش پر 31 مئی کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔

اس گیم کے متاثرین برازیل، بلغاریہ، چلی، چین، جارجیا، بھارت، اٹلی، کینیا، پاکستان، پیراگوئے، پرتگال، روس، سعودی عرب، سربیا، اسپین، امریکا اور یوراگوئے میں سامنے آچکے ہیں جہاں لوگوں نے خودکشیاں کرنے کی کوشش کی، کچھ کامیاب ہوگئے، متعدد افراد نے اپنے جسموں کو تیز دھار آلات سے کاٹا اور دیگر طرح کے خطرناک چیلنجز پورا کرنے کے دوران خود کو نقصان پہنچایا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top