ڈھاکہ (13 فروری 2026): الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والی بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے ملک کی معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد سے متعلق اہم فیصلہ کر لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بی این پی نے شیخ حسینہ واجد کو بھارت سے واپس لانے اور ان پر مقدمہ چلانے کے مطالبے کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔
بی این پی کے سینیئر رہنما صلاح الدین احمد نے کہا کہ پارٹی قانونی اور سفارتی ذرائع سے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کیلیے دباؤ جاری رکھے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش میں عام انتخابات کے انعقاد پر شیخ حسینہ کا ردعمل آگیا
انہوں نے بتایا کہ بنگلادیش کی وزارت خارجہ پہلے ہی اس معاملے کو اٹھا چکی ہے اور ہم اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں، ہم ہمیشہ قانون کے مطابق ان کی حوالگی پر زور دیتے ہیں یہ دونوں ممالک کی وزارت خارجہ کے درمیان کا معاملہ ہے۔
واضح رہے کہ شیخ حسینہ کو اگست 2024 میں عوامی تحریک نے عہدے سے مستعفی ہونے اور ملک چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ نومبر 2025 میں ایک خصوصی ٹریبونل نے انہیں 2024 کی بدامنی کے دوران پرتشدد کریک ڈاؤن سے متعلق انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنائی۔
صلاح الدین احمد نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ بی این پی شیخ حسینہ واجد کی حوالگی چاہتی ہے لیکن وہ نئی دہلی کے ساتھ مستحکم تعلقات کی بھی خواہشمند ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


